مقبول خبریں
کونسلر جاوید اقبال بھٹی نےاولڈہم کونسل میں نو منتخب مئیر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا
اسلامک ریلیف رنگ و نسل اور مذہب سے بالاتر ہوکرمشن کی جانب گامزن ہے:مقررین
مسجد دارالمنور گمکول شریف راچڈیل میں شب برات پر روحانی محفل کا انعقاد
بھارتی فوج کی ورکنگ باؤنڈری پرفائرنگ، خاتون اور 3 بچے شہید،10 زخمی
نئی دہلی: انتہا پسندوں نے کشمیری خواتین پر لاٹھیاں اور ڈنڈے برسا دیئے
پیپلزپارٹی نوٹنگھم کے سابق صدر چوہدری علی شان پی پی پی برطانیہ کے نائب صدر منتخب
پیپلزپارٹی ہی آئندہ انتخابات میں چاروں صوبوں میں اکثریت حاصل کریگی:میاں سلیم
قائد تحریک امان اللہ خان کی دوسری برسی، جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنمائوں کا خراج عقیدت
دشمنوں کے درمیان ایک کتاب
پکچرگیلری
Advertisement
وہ میٹنگ اور نیازی ؟
جب کبھی مون سون کے موسم میں بارشیں سیلاب یا پھر طوفان آئے تو اس وقت ایک ایسی بھگدڑ مچی ھوتی ھے کہ نقصان کے اصل محرکات یا پھر بچاو کے طریقے معلوم نہیں ھوتے۔ ھمارے پیارے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بھی ایسے ھی بھونچال خستہ حال جمہوری حکومتوں کو جھیلنے پڑتے ھیں۔ عوام کو بڑی چالاکی کے ساتھ کبھی اسلام کے نعرے میں پھنسایا جاتا ھے تو کبھی روشن خیالی کے روپ میں تباہی لائی جاتی ھے اور پھر نیا دھوکہ انصاف کی شکل میں دینے کی دوڑ شروع کر دی جاتی ھے۔ نواز شریف نے جو کچھ بویا اب اسے کاٹنے کا وقت چل رھا ھے۔ اور اسے اگر ھم یہ کہیں کہ یہ مکافات عمل ھے تو غلط نہیں ھوگا۔ یہ وھی نواز شریف ھیں کہ جنہوں نے اسلام کے ٹھیکیدار کا مشن پورا کرنے کی قسمیں کھائیں پھر محترمہ شہید بینظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کی قیادت پر سراسر جھوٹے اور من گھڑت مقدمے بنا کر بدنام کیا گیا اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ نامور صحافی سہیل وڑائچ کی کتاب "غدار کون" نواز شریف کی کہانی نواز شریف کی زبانی میں نوازشریف نے مانا کہ انہوں نے وہ مقدمات اسٹبلشمنٹ کے پریشر میں بنائے تھے۔ لیکن پیپلز پارٹی کے خلاف تعصب رکھنے والے اب تک اس حقیقت کو نہیں مانتے۔ ضیا نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی چڑھایا تو اللہ نے اسے عبرتناک موت دی اور پیپلزپارٹی کے خلاف جو بھی ناجائز کریگا تو وہ ضرور بھگتے گا۔ اب ضیا کی اسلام پسندی اور مشرف کی روشن خیالی کا چربہ لانے کی دو ھزار گیارہ سے کوشش ھو رھی ھے۔ اس چربہ میں ھمیں طالبان، سول نافرمانی، ٹیکس نہ دینا، جوئے کے پیسے سے پارٹی کا قرضہ بچانے کی ترغیب، پاکستانی ٹیم کا بحثیت کپتان جوا کھیلنا، بد تمیزی، لڑائی جھگڑا، پاکستان دشمن ھندووں یہودیوں سے پیسہ لیکر پاکستان میں بدامنی پھیلانا، اسلامی طور پر نکاح کا مزاق اڑانا اور اپنی اولاد کو پیدا کرکے اسے اپنا نام نہ دینا وغیرہ وغیرہ قسم کی خرافات پر ھٹ دھرمی کرتے ھوئے نوجوان نسل اور خواتین کو گمراہی کے راستے پہ چلانے جیسے تمام مضموم ارادے نظر آرھے ھیں۔ جو شخص حضور پاک کی مشکلات کو اہنے حالات سے مشاھبت دے مگر اسے یہ نہیں معلوم کہ حضور پاک کے ساتھ کوئی کرپٹ صحابہ نہیں تھے ھالانکہ نیازی صاحب کے اردگرد کرپٹ اور لوٹوں کی لائن لگی ھوئی ھے۔ پھر وہ اہنے آپ کو قائد اعظم سے ملاتے ھیں کہ جب لیڈر صحیح ھو تو سب ٹھیک ھوتا ھے۔ لیکن انہیں اتنی تاریخ تو سمجھنی چاھئیے تھی کہ قائداعظم تو کانگریس میں تھے اور مسلم لیگ میں تو وہ بعد میں آئے۔ ایک سابق جنرل شعیب امجد قومی جزبے سے شرسار ٹی وی پروگرام میں بڑے غصے سے چیخ چیخ کر کہہ رھے تھے کہ نواز شریف نے آزاد کشمیر کے الیکشنز میں مسلہ کشمیر پہ کوئی بات نہیں کی اور اپنے پھپولوں کا ذکر کرتے رھے۔ ریٹائرڈ جنرل شعیب کی بات بلکل ٹھیک ھے کہ ھر پاکستانی سیاستدان اور حکمران کا یہ اولین فرض ھے کہ مسلہ کشمیر پہ ھر جگہ بات کرنی چاھئیے مگر اکتیس اکتوبر دو ھزار گیارہ کو انڈین اینکر کرن تھاپر کو انٹرویو میں جو پارٹی لیڈر یہ کہے کہ انڈیا کا کشمیر پر قبضہ نہیں ھے تو پھر اسے کوئی کیوں نہیں پوچھتا۔ نیازی صاحب میں ایک بڑی اھم خامی ھے کہ انکے پیٹ میں کوئی بات اور راز زیادہ دیر نہیں ٹھرتے۔ نیازی صاحب ایک بڑی خفیہ میٹنگ میں شریک ھوئے جو اس سال کے شروع میں ھوئی اور وھاں انہیں یہ کہا گیا کہ پانامہ والے مسلے میں سپریم کورٹ جو مرضی ھے کرے مگر بعد میں ایک کمیٹی بنائی جائیگی اور اس میں ھاتھ ڈالا جائگا۔ پاشا اور طارق صاحب اب بھی متحرک ھیں اور اہنی لابی کا خوب فائدہ اٹھا رھے ھیں۔ مگر بات یہ ھے کہ نوازشریف کو اس مقدمے سے بچنا نہیں چاھئیے اور اگر ان کے بچنے کے زرائع پیدا بھی ھوئے تو یہی لوگ اہنی سازشی کاروائیوں سے پیدا کر دینگے۔ پیپلز پارٹی نے ھر دور میں جمہورریت اور پارلیمنٹ کی بقا کی بات کی اور اسکا دفاع بھی کیا. اور اب بھی نظام کی حفاظت کیلئیے پیپلز پارٹی نواز شریف کو استعفہ کا مشورہ دے رھی ھے۔ چیرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ ھمیں استعفے لینے آتے ھے تو نون لیگ کے ڈپوٹیشن والے نمائندوں نے انہیں بچہ کہہ کر بات ٹال دی۔ ان کم عقلوں کو اگر تاریخ اور حقائق جاننے ھیں تو بلاول بھٹو سے سیکھیں کیونکہ بلاول بھٹو نے بلکل صحیح کہا کہ ھمیں استعفے لینے آتے ھیں جیسا کہ پیپلزپارٹی نے اہنے دور میں صوبائی اسمبلیوں سے پرویز مشرف کے خلاف مواخذے کی تحاریک پیش کیں تو وہ اپنے آپ استعفہ دینے پر مجبور ھوگیا۔ اسے کہتے ھیں سیاسی بصیرت کہ نہ تو کوئی گولی چلی اور نہ ھی کوئی پکڑ دکڑ ھوئی اور مکھن میں سے بال بھی نکال لیا گیا۔ لحاظہ اب بھی پیپلز پارٹی سینٹ اور سندھ اسمبلی میں اگر ویسی ھی تحاریک لے آتی ھے تو خیبرپختونخوا اسمبلی بھی ساتھ دیتی ھے تو پھر نہ صرف وزیر اعظم بلکہ سارے سسٹم کی بھی چھٹی ھو سکتی ھے۔ لیکن ایک بات تو سوچنے کی ھے کہ کیا نواز شریف کو ہٹاتے ہٹاتے ھم کہیں طالبان کے حمایتیوں کی حوصلہ افزائی نہ کررھے ھوں۔