مقبول خبریں
امیگریشن قوانین میں نرمی سے برطانوی معیشت اور سیاحوں کو فائدہ ہو گا: افضل خان
نواز شریف کیخلاف عوام نے فیصلہ رد کر کے ثابت کیا وہی اصلی لیڈر ہیں:ن لیگ برطانیہ
تارک وطن بزرگوں نے محنت کا جو بیج بویا تھا آج اسکے ثمرات آنا شروع ہوگئے ہیں
وزیر اعظم گھر درست ضرور کریں، لیکن پاکستان کو تماشا نہ بنائیں: چودھری نثار
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی فائرنگ، مزید 2 نوجوان شہید
کونسلر وحید اکبر کا آزاد کشمیر کے جسٹس شیراز کیانی کے ا عزاز میں عشائیے کا اہتمام
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
برما میں مسلمانوں کا قتل عام انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے:وہیپ اینڈریو
کرپٹ خان
پکچرگیلری
Advertisement
پاک فوج کا پاناما جے آئی ٹی سے براہ راست کوئی تعلق نہیں: آئی ایس پی آر
راولپنڈی::ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور نے کہا ہے کہ سیاسی باتیں صرف سیاسی دائرہ کار میں ہوتی ہیں۔ پاک فوج صرف ملک کے دفاع کیلئے کام کر رہی ہے۔ یہ کہنا کہ پاک فوج کسی سازش کا حصہ ہے، یہ سوال ہی بے معنی ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پاناما کیس کے حوالے سے جے آئی ٹی سپریم کورٹ کے حکم سے بنائی گئی تھی، پاک فوج کا اس سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔ جے آئی ٹی میں شامل پاک فوج کے ارکان نے ایمانداری سے اپنا کام کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج صرف ملک میں آئین کی عملداری چاہتی ہے۔ ہم صرف وہ کام کر رہے ہیں جو پاکستان کی سیکیورٹی اور امن واستحکام کیلئے انتہائی ضروری ہے۔پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دہشتگردوں کے گرد گھیرا مزید تنگ کرتے ہوئے پاک فوج نے خیبر ایجنسی کے علاقے راجگال میں آپریشن خیبر 4 کا آغاز کر دیا ہے۔ آپریشن کا مقصد سرحد پار موجود داعش کو پاکستانی علاقوں میں کارروائیوں سے روکنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ داعش کا بطور تنظیم پاکستان میں کوئی وجود نہیں ہے تاہم راجگال کے افغانستان کے منسلک علاقے میں داعش کی موجودگی بڑھتی جا رہی تھی جبکہ پارا چنار واقعے میں گرفتار افراد کے داعش سے رابطے کے شواہد ملے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ افغانستان سے منسلک سرحد پر باڑ لگائی جائے گی جس کا مقصد بارڈر مینیجمنٹ کو بہتر اور محفوظ کرنا ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ اس سے قبل آپریشن ضرب عضب کے دوران ہم نے دہشتگردوں کے قبضے سے بہت سا علاقہ واگزار کروایا تھا، اس کے بعد ان علاقوں میں دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کیلئے آپریشن خیبر فور کے آغاز کا فیصلہ کیا، امید ہے کہ اس آپریشن کے بعد ملک سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے افغانستان کے ساتھ بارڈر کی سکیورٹی کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے تا کہ اس راستے سے دہشتگردوں کی پاکستان آمد کا سلسلہ روکا جا سکے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کا مقصد سی پیک کو نقصان پہنچانا ہے۔ دہشتگرد تنظیمیں اس پراجیکٹ کو کامیاب ہوتے نہیں دیکھ سکتیں، اس لئے وہ اس کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ پاک فوج کے ترجمان نے دوبارہ اس عزم کو دہرایا کہ ہم اس پراجیکٹ کو کسی صورت ناکام نہیں ہونے دیں گے اور اس روٹ کو مکمل محفوظ بنائیں گے۔ اس مقصد کیلئے پاکستان کی تمام مسلح افواج پوری طرح کوشش کر رہی ہیں۔ کسی بھی طرح دشمن کے ارادوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔کراچی آپریشن سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپریشن سے کراچی کے حالات بہتر ہوئے۔ دہشتگردی کے واقعات میں 98 فیصد اور ٹارگٹ کلنگ میں 97 فیصد کمی آئی۔