مقبول خبریں
یورپین اسلامک سینٹر کے منتظم اعلیٰ سکالر مولانا محمد اقبال کے والد محترم کی وفات پر اظہار تعزیت
صدرریاست آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان کا برطانوی پارلیمنٹ کا دورہ
پاک برٹش انٹر نیشنل ٹرسٹ کے چیئرمین چوہدری سرفراز کی جانب سے عشائیہ کی تقریب
میاں صاحب نظریے کو سمجھتے نہیں، وقت کے ساتھ مؤقف بدلنا نظریہ نہیں ہوتا:بلاول
مقبوضہ کشمیر :بھارتی فوج کے ہاتھوں ایک اور نوجوان شہید،مظاہرے،جھڑپیں
لوٹن ٹائون ہال میں ادبی بیٹھک، لارڈ قربان نے صدارت کی معروف شعرا کرام کی شرکت
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
پاکستان کی سیاسی صورتحال، یورپین یونین جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے : ڈاکٹر سجاد کریم
مودی کی سبکی
پکچرگیلری
Advertisement
مقبوضہ کشمیر صورتحال :پاک بھارت کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہو رہی:سردار مسعود
لندن :مقبوضہ کشمیر کی اندوہناک صورتحال کے باوجود پاکستان اور بھارت کے درمیان پس پردہ یا براہ راست کوئی بات چیت نہیں ہو رہی اور نہ ہی کسی تیسرے ملک کے مدد سے کوئی امن عمل شروع کیا جا سکا ہے ۔ قابض بھارتی افواج آپریشن کے نام پر گھروں میں چھاپے مار کر سوشل میڈیا پر فعال نوجوانوں کو اٹھا کر لے جاتی ہیں۔ اور پھر چند روز بعد معلوم ہوتا ہے کہ نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں شہید کر دیا گیا ہے ۔ ماورائے عدالت ہلاکتیں اپنے عروج پر ہیں۔ بھارتی افواج کو عالمی انسانی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر مکمل استثنیٰ حاصل ہے ۔ بھارتی آرمی چیف خلاف ورزیوں کے مرتکب اہلکاروں کو اعزازات سے نواز کر حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ آرمڈ مورسز سپیشل پاور ایکٹ جیسے لا قانونیت پر مبنی قوانین مقبوضہ کشمیر میں نافذ ہیں۔ کشمیر کی دوسری حقیت یہ ہے کہ کشمیری بھارتی قبضے کو مسترد کرتے ہوئے زور و شور سے حق خود ارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار صدر آزاد جموں کشمیر سردار محمد مسعود خان نے اپنے دورہ برطانیہ میں لندن آمد کے موقع پرصحافیوں سے گفتگو اور برطانیہ کے معروف تھنک ٹینک انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز میں ایک خصوصی لیکچر میں کیا۔ اس موقع پر انہوں نے برٹش پاکستانی صحافیوں اور برطانیہ کی پالیسی سازی میں نمایاں کردار ادا کرنے والے تھنک ٹینک ڈبل آئی ڈبل ایس(IISS) کے سینئر فیلوز کے سوالات کی مدلل جوابات دیئے۔آئی آئی ایس ایس کے سینئر تجزیہ کاروں میں راہول رائے چوہدری ، ڈاکٹر وجے ، لارڈ نذیر ، ڈاکٹر اعجاز ، ڈاکٹر مارک اور دیگر شامل تھے۔ صدر آزاد کشمیر کا کہنا تھا بھارت کا یہ دعویٰ مکمل طور پر بے بنیاد ہے کہ پاکستان میں جاری تحریک کو وسائل فراہم کر رہا ہے یا وہ نوجوانوں کو تربیت دے کر وہاں بھیجتا ہے ۔ بھارتی فوج کے اعلیٰ حکام میڈیا کے سامنے یہ اعتراف کرتے ہیں کہ پورے مقبوضہ کشمیر میں عسکریت پسندوں کی تعداد تین چار سو سے زیادہ نہیں ہے ۔ ایک بھارتی جنرل کا دعویٰ ہے کہ 100 کے قریب عسکریت پسند کنٹرول لائن عبور کر کے مقبوضہ کشمیر آئے تھے جن میں سے بیشتر کو ایل او سی پر بھی ہلاک کر دیا گیا ۔ اور چند ایک کو وادی میں پہنچتے ہی مار دیا گیا ۔ اگر اُس کا دعویٰ درست ہے تو پھر تین چار سو نوجوان کے لیے مقابلے کے لیے بھارت نے 7 لاکھ فوج وہاں کیوں کر رکھی ہوئی ہے ۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ کنٹرول لائن پر نصب باڑ کو عبور کر کے مقبوضہ کشمیر جانا ممکن نہیںہے ۔ ایک سوال پر صد ر سردار مسعود خان نے کہا کہ اتنا تلخ حقائق کے باجود عالمی برادری نے بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ برطانوی وزیراعظم نے گزشتہ دورہ بھارت کے دوران مسئلہ کشمیر اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو پر زور انداز میں نہیں اٹھایا ۔ امریکی حکام بھی اپنے ڈرونز اور اسلحہ فروخت کرنے کے لیے خاموش ہیں۔ اس لیے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کو اس جانب توجہ دینی چاہیے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت مسئلہ کشمیر کے کلیدی فریق کشمیریوں کو مذاکرات میں شامل کرنے پر تیار نہیں۔ ایک سوال پر صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں تعینات فوجی نوجوانوں اور بچوں پر براہ راست فائرنگ کے بعد نفسیاتی امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران کئی بھارتی فوجیوں نے استعفیٰ دے دیا ہے ۔ اور چند نے خود کشی کر لی ہے ۔اس کے باجود انتہا پسند ہندئووں کے زیر اثر بھارتی آرمی چیف فوجیوں کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ نوجوانوں کو براہ راست گولیوں کا نشانہ نہ بنائیں اور پیلٹ گن کے ذریعے انہیں بصارت سے محروم کر دیں۔ اس مقصد کے لیے آر ایس ایس سے نظریاتی وابستگی رکھنے والے ہندو فوجیوں کو مقبوضہ کشمیر تعینات کیا جا رہا ہے ۔ ایک سوال پر صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہو رہی ۔ یہ بھارت کے زر خرید ایجنٹ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں ۔ کوئی بھی غیر ملکی شخص ادارہ ، تنظیم ان دونوں علاقوں کا دورہ کر کے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر سکتا ہے ۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ سی پیک صرف پاکستان میں نہیں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کی نوید ثابت ہو گا ۔ چین میں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے اس عظیم منصوبے پر میں نے ہی ابتدائی کام کیا تھا ۔ آج آزاد کشمیر بھی اس منصوبے کا ایک حصہ بن چکا ہے ۔ چار بڑے منصوبے آزاد کشمیر کے لیے منظور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے حوالے سے سیکیورٹی خدشات لاحق ہہیں کیونکہ بھارت نے کھلم کھلا اس کی مخالفت کی ہے ۔ اس لیے وہ تخریب کاروں کے ذریعے اس منصوبے کی راہ میں رکاوٹیں پید کر رہا ہے۔