مقبول خبریں
پاکستان کے نظریاتی استحکام کیلئے مسلم لیگ کو منظم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے:فدا حسین کیانی
گوادر چیمبر آف کامرس کے نومنتخب صدر گوادر رئیل اسٹیٹ کیلئے اثاثہ ثابت ہونگے: ذیشان چوہدری
کشمیری آزادی کی جنگ لڑ رہےہیں ،یہ انکا پیدائشی حق ہے:چوہدری جاوید ،چوہدری یعقوب
نواز شریف کے دوبارہ پارٹی صدر بننے کی راہ ہموار، شق 203 سینیٹ سے بھی منظور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی فائرنگ، مزید 2 نوجوان شہید
کونسلر وحید اکبر کا آزاد کشمیر کے جسٹس شیراز کیانی کے ا عزاز میں عشائیے کا اہتمام
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
ڈاکٹر سجاد کریم کی قیادت میں یورپی پارلیمنٹ کے وفد کا جارحیا پہنچنے پرپرتپاک استقبال
کرپٹ خان
پکچرگیلری
Advertisement
برطانیہ جمہوری اقدار اور انسانیت پر یقین رکھتا ہے ،کشمیر پر کردار ادا کرے:صدر آزادکشمیر
لندن:صدر آزاد جموں و کشمیر سردار محمد مسعود خان نے کہا ہے کہ کشمیری قوم کی حق خود ارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد انصاف ، عالمی قوانین ، جمہوری اقدار اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے ۔ ہم کسی سے بھیک نہیں مانگتے ہیں۔ نہ کوئی رعایت ، مقبوضہ کشمیر کی اندوہناک صورتحال پر عالمی برادری کے بے حسی اور خاموشی افسوسناک ضرور ہے لیکن ہم مایوس نہیں ۔ کشمیریوں کے حوصلے بلند ہیں بھارتی مظالم پر خاموش نہیں رہ سکتے ۔ ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ برطانیہ عالمی قوانین ، جمہوری اقدار اور انسانیت پر یقین رکھنے والا ملک ہے ۔ برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان اپنی عالمی ذمہ داریاں پوری کریں ۔ اور کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی رکوانے اور حق خود ارادیت دلانے کے لیے اپنا موثر کردار ادا کریں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو برطانوی پارلیمنٹ کے ایوان بالا( ہائوس آف لارڈز) میں منعقدہ کشمیر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جس میں برطانوی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے 24 ارکان نے شرکت کی ۔ جن میں لارڈ قربان حسین ، دابی ابراہیم ، ٹونی لائیوڈ ، جولی کوپر ، جولیا وارڈ ، محمد یاسین ، ناز شاہ ، عمران حسین، رحمن چشتی ، مسٹر انڈریو ، جل فرنس ، خالد محمود ، راجہ افضل خان ، مس جوڈی لیز میک انس، جم میک ماہون ، فیصل رشید ، چیف سمتھ ، واجد خان ، کرس ویلیم سن اور دیگر شامل تھے ۔ صدر مسعود خان نے کہا کہ برطانوی پارلیمنٹ انسانی حقوق کی محافظ اور علمبردار ہے ۔ سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہونے کے ناطے عالمی امن و سلامتی بھی برطانیہ کی ذمہ داری ہے ۔ مسئلہ کشمیر برطانوی قانون آزادی ہند 1947 ء کے ایجنڈے کا نا مکمل حصہ ہے ۔ جس جذبے کے تحت برطانیہ نے ہندوستان اور پاکستان کو آزادی دے کر دو ملک بنائے تھے ۔ اِسی اصول کے تحت کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں حق خود ارادیت دلانے کے لیے بھی برطانوی حکومت اپنا اثر و سوخ استعمال کرے ۔ صدر سردار مسعود خان نے اس سال جنوری میں مسئلہ کشمیر پر برطانوی پارلیمنٹ میں بحث کا خیر مقدم کرتے ہوئے کشمیریوں کی حمایت میں بولنے والے ارکان کا شکریہ ادا کیا ۔ اور اُمید ظاہر کی کہ آل پارٹیز کشمیر گروپ کے ممبران پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر کا پروفائل مذید بڑھائیں گے ۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ سیمینار میں شریک ممبران کے کے خیالات سن کر دلی اطمینان ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے ریمارکس ہمارے لیے حوصلہ افزائی کا باعث ہیں۔ صدر سردار مسعود خان نے اپوزیشن جمایت لیبر پارٹی کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو انتخابی منشور کا حصہ بنانے پر پارٹی کے سربراہ اور تمام عہدیداروں کا شکریہ ادا کیا ۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ کشمیریوں کا برطانیہ کے ساتھ گہرا تعلق ہے ۔ اس وقت 15 لاکھ کشمیری برطانیہ میں آباد ہیں۔ جبکہ 12 منتخب ممبران پارلیمنٹ یہاں موجود ہیں۔ برطانوی حکومت اپنی اتنی بڑی آبادی کے احساسات اور دکھ درد کا احساس کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا سلسلہ رکوائے ۔ صدر آزاد کشمیر نے مقبوضہ کشمیر کی اندوہناک صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر فعل نوجوانوں کو گھر وں سے اٹھا کر غائب کر رہی ہے ۔ اور جعلی مقابلوں میں شہید کر دیا جاتا ہے ۔ سکول و کالج کی طالبات کے خلاف بھی پیلٹ گن کا استعمال کر کے انہیں بصارت سے محروم کر دیا جاتا ہے ۔ اجتماع آبرو ریزی جو جنگی حربے کے طور پر آزمایا جا رہا ہے ۔ خواتین اور بچوں کے حقوق پا مال ہو رہے ہیں۔ لوگوں کے کاروبار اور املاک کو بلاوجہ تباہ کر دیا جاتا ہے ۔ سکول اور تعلیمی ادارے بند ہیں۔ لیکن طلباء کو بغیر امتحان دیئے پا س کر دیا گیا ہے ۔ ایسی ہولناک صورتحال پر بین الاقوامی برادری کی خاموشی کے دوہرے معیار کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ اس موقع پر سیمینار کے منتظم تحریک حق خود ارادیت جموں و کشمیر یو کے کے سربراہ راجہ نجابت حسین اور ڈاکٹر سید نذیر گیلانی نے بھی خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال ، مسئلہ کشمیر کے قانونی پہلوئوں اور عالمی برادری کی ذمہ داریوں کے حوالے سے تفصیلات بیان کیں ۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی پارلیمنٹ کے ممبران نے بھارتی فوج کے مظالم کی مذمت کی ۔ اور کہا کہ کشمیری بھی اس دنیا کے باشندے ہیں۔ اُن کے حقوق کا تحفظ برطانیہ سمیت تمام مہذہب ملکوں کی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ اپنی حکومت کو اس سلسلے میں ذمہ داری کا احساس دلاتے رہیں گے ۔ انہوں نے زور دیا کہ پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتیں انسانی بنیادوں پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے رابطے بڑھائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی پارلیمنٹ میں بلند ہونے والی ہماری آواز کی باز گشت مقبوضہ کشمیر کے اندر ضرور پہنچے گی ۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارت مسئلے کے کلیدی فریق کشمیریوں اور پاکستان سے فوری مذاکرات کرے اور بلا تاخیر خطے میں امن عمل شروع کیا جائے ۔ مسئلہ کشمیر کے حل میں تاخیر سے جنوبی ایشیاء میں ایٹمی جنگ کے خدشات موجود رہیں گے ۔