مقبول خبریں
میاں نواز شریف پاکستانی عوام کے وزیر اعظم کہلوانے کا جواز کھو چکے:پی ٹی آئی برطانیہ
تحریک حق خودارادیت یورپ کے چیئرمین راجہ نجابت کی جانب سے مشاورتی اجلاس کا انعقاد
کشمیری مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کے لیے عالمی برادری کے کردار کے خواہش مند ہیں
لگ رہا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف سمیت سب جیل جائیں گے: عمران خان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشتگردی جاری،مزید2کشمیری نوجوان شہید،مکمل ہڑتال
سید حسین شہید سرور کا ن لیگ کوٹلی کے جنرل سیکرٹری خورشیدقادری کے اعزاز میں ظہرانہ
عمران خان نے تمام بڑے چوروں کو عوامی عدالتوں میں لا کھڑا کیا ہے:بابر اعوان
خالد محمود خالق سے ’’ ڈی آئی جی ‘‘مظفر آباد ہیڈ کوارٹرز آزاد کشمیر پولیس کی ملاقات
وہ میٹنگ اور نیازی ؟
پکچرگیلری
Advertisement
ھماری زندہ درگور ذہنیت
میرے رونگٹے کھڑے ھو گئے دماغ کی شریانوں سے سائیں سائیں کی آوازیں اٹھیں خلفشارِ خوں نے دل کے پمپ کو نڈھال کیا سینے میں درد کی لہر اٹھی بلڈ پریشر نے کندھوں کانوں اور کھوپڑی کو پھاڑ کر نکل جانا چاھا تو بے اختیار دونوں ھاتھ اٹھا کر ونڈو کھولنے کیلئے اٹھ کھڑا ھوا کھلی کھڑکی سے سر سینے تک باھر انڈیل دیا گہری گہری لمبی لمبی سانسیں لینے کیلئے ۔۔۔۔۔۔ رات لندن میں آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی۔۔۔ جبکہ پاکستان میں رات مکمل ڈھل کر پو پھوٹنے کے مرحلے میں تھی ۔۔۔۔ تب بھی میں لندن میں جاگ رھا تھا اور پاکستان کی سوشل میڈیا فورس کسی عفریت کی طرح کربل کربل کر رھی تھی ۔۔۔ سانحہ احمد پور شرقیہ میں سینکڑوں لقمہ اجل بن گئے، جل کے راکھ ھوئے، معصوم لوگوں کے جسم بھسم ھوئے، آگ نے جیتے جاگتے کئی انسانوں کو بھون کے رکھ دیا ۔۔۔۔۔ ایک قیامتِ صغرا برپا ھوئی۔ الحفیظ الامان ۔ جس کے فوری بعد ایک اور قیامت اس قیامت پر یوں ڈھائی گئی کہ ھماری نوجوان نسل جو اپنی تہذیب تمدن اخلاقیات کی گراوٹ کا شکار ہوچکی ہے اور بیشمار خود ساختہ دانشور جو اصل میں دان-شوروے ہیں نے سوشل میڈیا پر کہرام مچا دیا۔ سانحہ سے پہلے حادثہ کی عکسبندی پھر گرے ھوئے تیل کو سمیٹتے معصوم لوگوں کی کوریج جو وھاں موجود ناقص عقل افراد نے حامد میر کامران خان طلعت حسین ڈاکٹر شاھد مبشر لقمان کاشف عباسی صابر شاکر بننے کے شوق میں کمنٹری کے ساتھ فوری اپ لوڈ کر دی جو مبینہ طور پر مسجد میں اعلان اور ایک دوسرے کو فون کرنے پر اور راہگیر اکھٹے ھو گئے تھے۔ ان سینکڑوں افراد میں سے کسی کی عقل کام نا کر پائی کہ مٹی اور ریت ملا تیل یا پٹرول آخر کس کام آئے گا نا ھی کسی کو یہ خیال رھا کہ ایسے حادثے میں اکثر تیل آگ پکڑ لیتا ھے نا ہی انتظامیہ فوری حرکت میں آئی، اس جگہ کو فوری بند کرنے اور لوگوں کو دور دھکیلنے کیلئے۔ پھر اچانک جس کا ڈر نہی تھا ان لوگوں کو وہ ھوا آگ لگی ٹینکر پھٹا جسکی لپیٹ میں سارے معصوم لوگ اور سارے اینکرز ایسے اچانک آئے کہ سنبھل نا پائے بچ نا پائے ۔۔۔۔ جن کی لائیو کوریج سوشل میڈیا پر بیٹھے متذکرہ افراد کے ہتھے چڑھی وہ سب بھی آفت کا شکار ھو گئے لیکن ان کی ٹوٹی پھوٹی رپورٹنگ وائرل ھو گئی۔ ھر کوئی دھڑا دھڑ شئیر کرنا شروع ھو گیا اور ساتھ ساتھ مزید بریکنگ نیوز پہلے نشر کرنے کی دوڑ میں لگ گیا۔ جلد ہی سوشل میڈیا کے ان انتہا پسندوں بلکہ دھشت گردوں کو مزید مواد مل گیا۔ آگ کے عفریت کے منہ میں پھنس چکے افراد کو بعد میں پہنچنے والے لوگ کسی طرح کی مدد دینے سے قاصر موت سے بچانے میں ناکام بے بس افراد نے روتے چلاتے پھر ریکارڈنگ کی اور پھر اپلوڈ کرنے لگے جو جلتی پر تیل کی طرح قیامت پر قیامت اس طرح ثابت ھوئی کہ اصولی طور پر وہ مناظر بھی ھر خاص و عام تک پہنچ گئے جن کو نشر کرنے کی ممانعت ھونی چاہئے۔۔۔۔۔ سوشل میڈیا کے جیالوں کے ہتھے چڑھی فوٹیج میں کچھ ادھر ادھر سے جلی لاشوں کی پرانی تصاویر تک شامل کر کے حشر برپا کر دیا گیا۔ اس حشر کے عالم میں مکروہ چہرے کھل کر سامنے آئے جنہوں نے اندوہناک حادثہ کو پاکستان کی بدنامی کیلئے استعمال کرنا شروع کردیا ۔۔۔۔ فیک آئی ڈیز جن میں سے اکثر مبینہ طور پر سرحد پار سے چلائی جاتی ہیں اور جن کے سہولت کار سرحد کے اندر بیٹھے دھماچوکڑی مچاتے ہیں ۔۔۔۔ وہ سب برسرپیکار ھو گئے ۔۔۔۔۔ شام ڈھلنے تک پاکستان کی قوم زندہ جل جانے والوں کے غم میں اور بین الاقوامی سطح پر اپنی بدنامی سے نڈھال ھو چکی تھی جبکہ اسی دوران اسلام دشمن عناصر نے مسلمانوں کو اور پاکستان دشمن ذھنیت رکھنے والوں نے عوام کی غربت اور جاہلیت کو نشانہ بنایا تو وہیں مکروہ چہروں والے سیاست دان حکومت کی اپوزیشن میں دشمنی پر پر تول چکے تھے ۔۔۔ رمضان المبارک کے مبارک ترین دنوں کی حرمت کا بھی خیال نا کیا گیا وہ دن خوں کے آنسو روتا رھا اور ساری رات سحری و پو پھٹنے تک سوشل میڈیا جہنم کی شکل اختیار کر چکا تھا جس میں آگ سے جھلسے جسموں پر اور جل کے راکھ ھونے والوں کے نظارے تقسیم کرتے جہنم سے باھر کچھ فاصلے پر ایک دوسرے کو برابھلا کہتے لوگ اب سیاسی جماعتوں کی زنجیریں پہنے گالی گلوچ پر اتر چکے تھے ۔ میں سارا دن مقدور بھر کوشش میں پیام رسانی میں رھا کہ یہ وڈیوز شئیر نا کریں فوٹوز مت لگائیں ۔۔۔ کوئی نہی رکا بلکہ مجھے بھی برا بھلا کہتے گالیاں نکالتے لوگوں نے البم بنا بنا کر اپ لوڈ کئے۔ لندن میں سحری سے کچھ گھنٹہ بھر پہلے کچھ افراد سے یکے بعد دیگرے تکرار ہوئی ۔۔۔ اسی دوران عادت کے برعکس ایک ویڈیو پر کلک کیا تو پہلے دس سیکنڈ میں ہی ذہنی و اعصابی کیفیت قابو سے باھر گئی ۔۔۔ بلڈ پریشر شوٹ کیا اور اوپری منزل کے کمرے کی کھڑکی سے باھر سینے تک لٹکتے اذیت ناک سوچ میں مبتلا ہو چکا تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیارے حبیب محمد مصطفیٰ صلی الله عليه وآلہ وسلم سے کئے وعدے کے مطابق ھمیں تباہ و برباد تو نہی کرتا غرق تو نہی کرتا ھم سب کو بندر بن مانس کتے بلے تو نہی بناتا لیکن اپنی ناراضی و غصہ کا ایسی سزا دے کر قیامتِ صغری دکھا کر اظہار کرتا ھے۔ ھماری نوجوان نسل کی بے راھروی ھمارے علماء اور دانشوروں کی بے ھنگم حالت ھمارے حکمرانوں کی بداعمالیوں سیاسی دشمنیاں صحافت میں مکروہ چہروں مرد و زن کی غلیظ اخلاقیات خاندانوں میں بے حرمتیاں، دوستوں کے ایک دوسرے کی کمروں میں چھرے گھونپنا عورتوں کی عزتیں اچھالنا، مکر فریب دھوکہ منافقت حسد عناد کی معاشرے میں بھر مار، یہ بھی تو سزاِ الٰہی ھی ھے۔ امتِ مسلمہ کو اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالنے کیلئے مشترکہ اقدامات اٹھانے چاہیئں۔ امت مسلمہ کی نوجوان نسل کو خدا کا خوف کرنا چاہئے جبکہ پاکستان میں حکمرانوں کو قانون سازی اور اس پر سخت عمل درآمد کرنا چاہئے صحافت اور معاشرت میں اخلاقیات کے اسٹینڈرڈز بنا کر ان کی ترویج کی جائے آئین میں موجود، پیمرا آرڈیننس کے قوانین اور سائبر کرائم کے وضع کئے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کو فوری سخت ترین سزائیں دینے کا عملی مظاھرہ ھونا چاہی جبکہ پاکستان میں صحافت کی ابتداء کرنے والے باقی ماندہ بزرگ و راھنما صحافیوں کو قبر میں اترنے سے پہلے صحافت کو پاکیزہ کرنا چاہئے کہ کہیں یہ اخلاقیات کی قبر میں خود کو اور نوجوان نسل کو دفن نا کر دے۔