مقبول خبریں
یورپین اسلامک سینٹر کے منتظم اعلیٰ سکالر مولانا محمد اقبال کے والد محترم کی وفات پر اظہار تعزیت
اوورسیز پاکستانیوں کیلئے پنجاب میں سرمایہ کاری کے منافع بخش مواقع ہیں،افضال بھٹی
پاک برٹش انٹر نیشنل ٹرسٹ کے چیئرمین چوہدری سرفراز کی جانب سے عشائیہ کی تقریب
میاں صاحب نظریے کو سمجھتے نہیں، وقت کے ساتھ مؤقف بدلنا نظریہ نہیں ہوتا:بلاول
مقبوضہ کشمیر :بھارتی فوج کے ہاتھوں ایک اور نوجوان شہید،مظاہرے،جھڑپیں
لوٹن ٹائون ہال میں ادبی بیٹھک، لارڈ قربان نے صدارت کی معروف شعرا کرام کی شرکت
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
پاکستان کی سیاسی صورتحال، یورپین یونین جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے : ڈاکٹر سجاد کریم
مودی کی سبکی
پکچرگیلری
Advertisement
برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان مسئلہ کشمیر بارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں:سردار مسعود خان
لندن:صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ کشمیری قوم کی حق خود ارادیت کے حصول کیلئے جدو جہد انصاف،عالمی قوانین،جمہوری اقدار اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے،ہم کسی سے بھیک نہیں مانگتے ہیں،نہ کوئی رعایت،مقبوضہ کشمیر کی اندو ہناک صورتحال پر عالمی برادری کے بے حسی اور خاموشی افسوس ناک ضرور ہے لیکن ہم مایوس نہیں،کشمیریوں کے حوصلے بلند ہیں بھارتی مظالم پر خاموش نہیں رہ سکتے،ہم اپنی جدو جہد جاری رکھیں گے،برطانیہ عالمی قوانین،جمہوری اقدار اور انسانیت پر یقین رکھنے والا ملک ہے،برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان اپنی عالمی ذمہ داریاں پوری کریں اور کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی رکوانے اور حق خود ارادیت دلانے کیلئے اپنا موثر کردار ادا کریں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو برطانوی پارلیمنٹ کے ایوان بالا ’’ہائوس آف لارڈز ‘‘ میں منعقدہ کشمیر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں برطانوی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے24ارکان نے شرکت کی،جن میں لارڈ قربان،ڈیبی ابراہم،ٹونی لائیوڈ،جولی کوپر،جولیا وارڈ،محمد یاسین،ناز شاہ،عمران حسین،رحمن چشتی،مسٹر انڈریو،جل فرنس،خالد محمود،راجہ افضل خان،مس جوڈی لیز میک انس،جم میک ماہون،فیصل رشید،چیف سمتھ،واجد خان،کرس ویلیم سن و دیگر شامل تھے،صدر مسعود خان نے کہا کہ برطانوی پارلیمنٹ انسانی حقوق کی محافظ اور علمبردار ہے،سلامتی کونسل کا مستقبل رکن ہونے کے ناطے عالمی امن و سلامتی بھی برطانیہ کی ذمہ داری ہے،مسئلہ کشمیر برطانوی قانون آزادی ہند1947کے ایجنڈے کا نا مکمل حصہ ہے،جس جذبے کے تحت برطانیہ نے ہندوستان اور پاکستان کو آزادی دے کر دو ملک بنائے تھے اس اصول کے تحت کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حق خود ارادیت دلانے کیلئے بھی برطانوی حکومت اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے،صدر سردار مسعود خان نے اس سال جنوری میں مسئلہ کشمیر پر برطانوی پارلیمنٹ میں بحث کا خیر مقدم کرتے ہوئے کشمیریوں کی حمایت میں بولنے والے ارکان کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ آل پارٹیز کشمیر گروپ کے ممبران پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر کا پروفائل مزید بڑھائیں گے،صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ سیمینار میں شریک ممبران کے خیالات سن کر دلی اطمینان ہوا ہے،انہوں نے کہا کہ آپ کے ریمارکس ہمارے لئے حوصلہ افزائی کا باعث ہیںصدر سردار مسعود خان نے اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو انتخابی منشور کا حصہ بنانے پر پارٹی کے سربراہ اور تمام عہدیداروں کا شکریہ ادا کیا،سردار مسعود خان نے کہا کہ کشمیریوں کا برطانیہ کے ساتھ گہرا تعلق ہے،اس وقت15لاکھ کشمیری برطانیہ میں آباد ہیں جبکہ12منتخب ممبران پارلیمنٹ یہاں موجود ہیں،برطانوی حکومت اپنی اتنی بڑی آبادی کے احساسات اور دکھ درد کا احساس کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا سلسلہ رکوائے،صدر آزاد کشمیر نے مقبوضہ کشمیر کی اندوہناک صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا پر فعل نوجوانوں کو گھروں سے اٹھا کر غائب کر رہی ہے اور جعلی مقابلوں میں شہید کر دیا جاتا ہے سکول و کالج کی طالبات کے خلاف بھی پیلٹ گن کا استعمال کر کے انہیں بصارت سے محروم کر دیا جاتا ہے،اجتماع آبرو ریزی جو جنگی حربے کے طور پر آزمایا جا رہا ہے،خواتین اور بچوں کے حقوق پامال ہو رہے ہیں،لوگوں کے کاروبار اور املاک کو بلا وجہ تباہ کیا جاتا ہے،سکول اور تعلیمی ادارے بند ہیں لیکن طلباء کو بغیر امتحان دیئے پاس کر دیا جاتا ہے ایسی ہولناک صورتحال پر بین الاقوامی برادری کی خاموشی دوہرے معیار کا منہ بولتا ثبوت ہے اس موقع پر سیمینار کے منتظم تحریک حق خود ارادیت جموں و کشمیر کے سربراہ راجہ نجابت حسین اور ڈاکٹر سید نذیر گیلانی نے بھی خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال،مسئلہ کشمیر کے قانونی پہلوئوں اور عالمی برادری کی ذمہ داریوں کے حوالے سے تفصیلات بیان کیں،سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی پارلیمنٹ کے ممبران نے بھاتی فوج کے مظالم کی مذمت کی اور کہا کہ کشمیری بھی اس دنیا کے باشندے ہیں ان کے حقوق کا تحفظ برطانیہ سمیت تمام مہذب ملکوں کی ذمہ داری ہے انہوں نے یقین دلایا کہ وہ اپنی حکومت کو اس سلسلے میں ذمہ داری کا احساس دلاتے رہیں گے،انہوں نے زور دیا کہ پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتیں انسانی بنیادوں پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے رابطے بڑھائیں گی،انہوں نے کہا کہ برطانوی پارلیمنٹ میں بلند ہونے والی ہماری آواز کی باز گشت مقبوضہ کشمیر کے اندر ضرور پہنچے گی انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بھارت مسئلے کے کلیدی فریق کشمیریوں اور پاکستان سے فوری مذاکرات کرے اور بلا تاخیر خطے میں امن عمل شروع کیا جائے،مسئلہ کشمیر کے حل میں تاخیر سے جنوبی ایشیا میں ایٹمی جنگ کے خدشات موجود رہیں گے۔