مقبول خبریں
انتخابات کے بعد ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے اتحاد نہیں ہو سکتا: چیئرمین تحریک انصاف
مسئلہ کشمیرتسلیم شدہ بین الاقوامی کیس ، جسے حل کروانا اقوام متحدہ کی ذمہ داری :راجہ فارو ق حیدر
مسئلہ کشمیر پر سیاستدانوں سے حمایت کیلئے جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت کی سرگرمیوں میں تیزی
میاں محمد نوازشریف اور مریم نواز کی 7 دن کیلئے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد
مقبوضہ کشمیر میں ایک اور نوجوان جعلی مقابلے میں شہید: جگہ جگہ مظاہرے
پیپلزپارٹی نوٹنگھم کے سابق صدر چوہدری علی شان پی پی پی برطانیہ کے نائب صدر منتخب
سلائو کی میئر عشرت شاہ کا لاہور میں اوور سیز پاکستانیز کمیشن پنجاب کے دفاتر کا دورہ
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کا ہنگامی آزادی ریاست جموں و کشمیر پلان
خواب جھلستے جاتے ہیں اک معصوم سی لڑکی کے
پکچرگیلری
Advertisement
لندن دہشتگردی،راہگیروں پر وین چڑھا دی،7ہلاک 48زخمی،3حملہ آور مارے گئے
لندن : برطانیہ عام انتخابات سے 3روز قبل ایک بار پھر دہشتگردی سے دہل گیا،لندن میں دہشتگردوں نے تاریخی برج پر وین راہگیروں پر چڑھادی جبکہ مارکیٹ میں شہریوں پر خنجروں سے و ار کیے جس سے 7افراد ہلاک اور 48زخمی ہو گئے ،پولیس نے تین مشتبہ حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔تینوں دہشتگردوں نے نقلی خودکش جیکٹس پہن رکھی تھیں۔پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے لندن کے دوعلاقوں سے چارخواتین سمیت12 افراد کو گرفتار کرلیا۔مرنیوالے ایک شخص کا تعلق کینیڈا سے ہے جبکہ زخمیوں میں فرانسیسی اور آسٹریلوی باشندے بھی شامل ہیں۔برطانوی پرچم سرنگوں رہا۔تفصیلات کے مطابق ہفتے کی شب لند ن کے مقامی وقت کے مطابق رات دس بجے کے قریب لندن بریج کے علاقے میں ایک سفید رنگ کی وین نے راہگیروں کو کچل دیا اور پھر وہ منڈیر سے ٹکرا گئی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ڈرائیور50میل فی گھنٹہ کی رفتارسے گاڑی چلارہاتھا، کئی افرادنے دریامیں چھلانگیں لگادیں،راہگیروں کو کچلنے کے بعد وین سے اترنے والے تین افراد نے پل کے جنوب میں واقع بارو مارکیٹ پہنچے جہاں انہوں نے موجودلوگوں پرخنجروں سے حملے کیے ، اس دوران ایک حملہ آور چیخ چیخ کر کہتا رہاکہ‘‘ یہ اللہ کے لئے کر رہاہوں ’’پولیس نے وین کے ڈرائیورکوگرفتارکرلیا، واقعے کے بعد لندن بریج اور اس کے قریب ریلوے سٹیشن کوبھی بندکردیا۔ تاحال کسی نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن داعش سے تعلق رکھنے والے انتہاپسندوں نے حملے پر جشن منانے کی اپنی تصاویر جاری کردی ہیں۔لندن ایمبولینس سروس کے مطابق حملے کے بعد 48 افراد کو لندن کے پانچ مختلف ہسپتالوں میں لے جایا گیا ہے جہاں21 افراد کی حالت نازک ہے ۔ شدید زخمی افراد کو سر، چہرے اور ٹانگوں پر چوٹیں آئی ہیں۔ ۔پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کو 10 بج کر آٹھ منٹ پر ملنے والی پہلی مدد کی کال کے آٹھ منٹ بعد ہی مار دیا گیا ۔پولیس کے مطابق ان افراد نے جعلی خود کش جیکٹس پہنی ہوئی تھیں۔ تاحال ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی،ممکنہ 2 حملہ آوروں کی تصاویر جاری کی ہیں جن میں سے ایک فرد نے اپنے جسم سے کنستر باندھا ہوا تھا۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کے مطابق ایک واقعہ واکس آل میں پیش آیا لیکن اسے دہشت گردی کے دوسرے واقعات سے نہ جوڑا جائے ۔ بر طانیہ کی بڑی سیاسی جماعتوں نے آئندہ عام انتخابات کی اپنی انتخابی مہم معطل کردی ۔ جن جماعتوں نے اپنی انتخابی سرگرمیاں معطل کی ہیں ان میں کنزرویٹو اور لیبر پارٹیز بھی شامل ہیں ۔برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے اپنے ردعمل میں اعلان کیا کہ یہ واقعات دہشتگردی ہیں،انہوں نے کہا کہ بہت ہوگیا ،اب چیزیں ایسے نہیں چلنے دینگے ،انسداد دہشتگردی کی پالیسی میں فوری تبدیلیوں کا اعلان کیا۔انسداد دہشتگردی کی پالیسی میں تبدیلی کے ذریعے اب کچھ جرائم کی سزائیں بڑھائی جائیں گی جبکہ نئے سائبر قوانین بھی متعارف کروائے جائیں گے ۔انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کو شکست دینا بہت بڑا چیلنج ہے لیکن ہم انتہا پسندی اور دہشت گردی کی ذہنیت کو پنپنے نہیں دیں گے ۔تشدد سے جمہوریت کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ہمیں دہشت گردوں کے عزائم خاک میں ملانے ہیں،اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ آج سے انتخابی مہم دوبارہ شروع ہوجائے گی اور برطانیہ میں عام انتخابات وقت پرہوں گے ،انہوں نے لندن کے ہسپتالوں کے دورے کیے اور زخمیوں کی عیادت بھی کی،مرنیوالوں کی یاد میں آج ایک منٹ کیلئے خاموشی اختیار کی جائیگی۔