مقبول خبریں
پاکستان کے نظریاتی استحکام کیلئے مسلم لیگ کو منظم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے:فدا حسین کیانی
گوادر چیمبر آف کامرس کے نومنتخب صدر گوادر رئیل اسٹیٹ کیلئے اثاثہ ثابت ہونگے: ذیشان چوہدری
کشمیری آزادی کی جنگ لڑ رہےہیں ،یہ انکا پیدائشی حق ہے:چوہدری جاوید ،چوہدری یعقوب
نواز شریف کے دوبارہ پارٹی صدر بننے کی راہ ہموار، شق 203 سینیٹ سے بھی منظور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی فائرنگ، مزید 2 نوجوان شہید
کونسلر وحید اکبر کا آزاد کشمیر کے جسٹس شیراز کیانی کے ا عزاز میں عشائیے کا اہتمام
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
ڈاکٹر سجاد کریم کی قیادت میں یورپی پارلیمنٹ کے وفد کا جارحیا پہنچنے پرپرتپاک استقبال
کرپٹ خان
پکچرگیلری
Advertisement
اپنی آنکھیں کھول کے رکھنا طغیانی کے موسم میں
زندگی کے بے سمت اور بے منزل معاملات میں بے سود جہد مسلسل کا فائدہ تو بظاہر کوئی نہیں ہوتا تاہم ایک نقصان یہ ضرور ہے کہ اس قسم کی تگ و دو میں قوت ضائع کرنے والے بالآخر ذہنی اور جسمانی طور پر کچھ یوں ناکارہ ہوجاتے ہیں کہ کسی کام کے لائق نہیں رہتے۔ بے سمت اور بے منزل معاملات کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ جدو جہد کرنے والے کو خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ چاہتا کیا ہے۔وہ کون سا منظر ہے جسے تخلیق کرنے کی خواہش میں وہ ایک بار ملنے والی زندگی کو برباد کر رہا ہے؟پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں ایک خاص مائنڈ سیٹ کاحامل فکری گروہ مسلسل اسی کوشش میں ہے کہ کسی طرح قومی اہمیت کے انتہائی حساس اداروں کا تقدس کچھ اس انداز میں پامال ہوجائے کہ گلی محلوں میں ان اداروں سے وابستہ ہر فرد کا تمسخر اڑے اور آزادی اظہار کے نام پر جس کے منہ میں جو آئیبولتا چلا جائے، نہ کوئی روک ٹوک ہو نہ پوچھ گچھ۔ایسے مائنڈ سیٹ کے لوگ قومی نوعیت کے حساس اداروں کی اس انداز میں تحقیر کو جمہوریت کا حسن بھی قرار دیتے ہیں اور جمہوری نظام کی طاقت بھی، لیکن قابل غور بات یہ امریکا جیسے جمہوریت کے دادا ٹائپ ممالک میں بھی جمہوریت کو حساس اداروں کی بے توقیری سے منسلک نہیں کیا جاتا۔ وہاں گلی محلوں،کافی چائے کے سٹالوں اور برگر کی دکانوں پرسی آئی اے،پینٹاگون اور یو ایس آرمی کے اندرونی معاملات کو تمسخرانہ انداز میں موضوع بحث نہیں بنایا جاتا حالانکہ ان امریکی اداروں سے بھی بارہا انجانے میں ایسے فیصلے اور اقدامات ہوجاتے ہیں جنہیں عوامی سطح پر پذیرائی نہیں ملتی لیکن امریکیوں کو معلوم ہے کہ ان کے یہ قومی اہمیت کے حساس ادارے کسی طور بھی ملک و قوم کے مفاد کے منافی کوئی کام نہیں کر سکتے۔ایسی ہی صورت حال برطانیہ میں بھی ہے اور چین میں بھی۔لوگ وہاں بھی پاکستانیوں کی طرح اپنے ان اداروں سے محبت کرتے ہیں مگر فرق صرف یہ ہے کہ وہاں ان اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کو ایک سنگین جرم سمجھا جاتا ہے اور جرم کی سزا بھی ملتی ہے ۔ ڈان لیکس ایک ایسا معاملہ تھا جسے بہر حال نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن کیا کریں کہ ہمارے ہاں میڈیا کی نام نہاد آزادی کے بعد سے چند میڈیا گروپس اور چند میڈیا پرسنز کی رگوں میں ’ بریکنگ نیوز‘ نام کے ایک نئے گروپ کا بے تاب سا خون دوڑنے لگا ہے۔یہ اسی خون کی بے چینی ہے کہ وہ باتیں بھی خبر کے درجے پر فائز ہوگئی ہیں جنہیں عام زندگی میں لوگوں کے پاس سننے کے لیے وقت ہی نہیں ہوتا۔بھینس رسی تڑا کر بھاگ گئی،چھت کی شٹرنگ ٹوٹ گئی،دودھ والے کا ڈبہ سڑک پر بہہ گیا،مسافر بس کچے میں اتر گئی وغیرہ وغیرہ۔ہر بات میں خبر نہیں ہوتی اور اگر کسی بات میں خبریت ہو بھی تو ہر خبر پھیلانے کی نہیں ہوتی۔ چار پانچ افراد پر مشتمل چھوٹا سا گھر چلانے کے لیے ہزار طرح کی منصوبہ بندی کرنا پڑتی ہے، بیس بائیس کروڑ افراد پر مشتمل قوم کے معاملات کی خیال داری کوئی بچوں کا کھیل نہیں، نظام چلانے والے جب معاملات پر بات چیت کے لیے بیٹھتے ہیں تو اختلاف رائے بھی ہوتا ہے اور نکتہ نظر کا فرق بھی لیکن اس نکتہ نظر کے فرق اور اختلاف رائے کا تعلق ذاتیات سے نہیں بلکہ صرف اور صرف قومی مفاد سے ہوتا ہے۔ بند کمرے میں کس نے کیا کہا، کس نے کیا جواب دیا، ان باتوں کو بریکنگ نیوز بنا کر تماشا لگانا نہ تو آزادی اظہار ہے نہ ہی جمہوری اقدار کی پاسداری۔ڈان لیکس کے حوالے سے جو بھی کوتاہی ہوئی، حکومت پاکستان نے قانون اور آئین کے مطابق اس کی تحقیقات کے لیے تمام ممکن اقدامات کیے، جو قصوروار ٹھہرے ان کے خلاف کاروائی کی گئی، اس سارے کھیل میں آلہ کار بننے والے صحافی کے معاملے کو دیکھنے کے لیے کیس اے پی این ایس جیسے معتبر اور مقتدر صحافتی ادارے کو سونپ دیا گیا۔فوج کے تحفظات کو بھی دور کرنے کی کوشش کی گئی۔ قصہ مختصر یہ کہ معاملات نارمل کی طرف لوٹ گئے۔مگر پاکستان میں انتشار، افراتفری اور اداروں کے درمیان ٹکرائو کا خواب دیکھنے والوں کے لیے حالات کی یہ NORMALITY خبر مرگ ثابت ہوئی۔ شاید وہ سمجھ رہے تھے کہ ڈان لیکس معاملے کے بعد فوج اور حکومت ایک دوسرے کے مقابل ہوجائیں گے مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا،وہ صفحہ اپنی مکمل شان و شوکت کے ساتھ قائم و دائم ہے جس پر فوج اور حکومت دونوں ملکی مفادات کے تحفظ کا عزم لیے شانہ بشانہ موجود ہیں۔لیکن اس مخصوص مائنڈ سیٹ نے اس محاذ پر شکست کھانے کے بعد بھی ہمت نہیں ہاری، سوشل میڈیا پر فوج اور حکومت کے درمیان ہم آہنگی کا مذاق اڑانے کے لیے طرح طرح کی تمسخرانہ پوسٹیں شئیر کی جارہی ہیں۔توہین آمیز گانے لگائے جارہے ہیں،اداروں کا تقدس، حکمرانوں کی نیک نیتی، ملک کی خاطر گلے کٹوانے والوں کی حرمت، خواتین کی عزت،غرض کچھ بھی ایسا نہیں جسے تضحیک کا نشانہ نا بنایا جارہا ہو۔ہماری قوم، ہمارے ملک، ہماری حکومت، اپوزیشن لیڈرز اور ہماری فوج، سب کو بدنام کیا جارہا ہے اور اس سارے کھیل میں بہت سے ایسے غیر ملکی بھی شامل ہیں جنہوں نے پاکستانی اور مسلمان ناموں سے اپنی فیک آئی ڈیز بنارکھی ہیں۔ان کا کام ہی جلتی پر تیل ڈالنا ہے۔ہمیں اس سارے کھیل میں خود کو فٹ بال بننے سے بچانا ہوگا۔ پاکستان کی کوئی بھی سیاسی جماعت، کوئی بھی سیاستدان پاکستان کابدخواہ نہیں ، حکمران عوامی ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں، کوئی بھی ملک دشمن کسی صورت بھی عوام کا انتخاب نہیں ہوسکتا۔فوج کا ہر سپاہی اس ایمان کے ساتھ فوج میں شامل ہوتا ہے کہ ملک و قوم کی حفاظت کے لیے اگر جان قربان کرنا پڑی تو ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں کرے گا۔ ایسی تمام وطن دوست قوتوں کو آپس میں ٹکراتے دیکھنا کبھی بھی کسی محب وطن کی خواہش نہیں ہوسکتی۔ہمیں سوچنا ہوگا کہ کہیں ہم انجانے میں دشمنوں کو ایسا موقع تو فراہم نہیں کر رہے کہ جس سے فائدہ اٹھا کر وہ ہمیں بکھیرنے میں کامیاب ہوجائیں، کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمیں بتائے بغیر ہمیں ایسی خودکش جیکٹ پہنائی جارہی ہو جس کا ریموٹ کسی دوسرے کے ہاتھ میں ہو۔آپ نے کبھی سڑکوں ، بازاروں اور گلیوں میں پھرتے مداری اور بندرکو دیکھا ہے۔ عام حالات میں یہ بندر تماشہ نہیں دکھاتا، بھیک ما نگنے میں مداری کی مدد کرتا ہے۔ بندر اور مداری دونوں کے چہرے پر ایک عجیب سی بے بسی اور لاچاری دیکھ کر لوگوں کے ہاتھ مدد کی غرض سے خود بخود اپنی جیبوں کی طرف بڑھنے لگتے ہیں لیکن جہاں دو چار لوگ اس بندر کے ارد گرد جمع ہوئے، مداری اور بندر دونوں کے رنگ ڈھنگ بدل جاتے ہیں۔ ہجوم لگتے ہی ڈگڈگی بجنا شروع ہوجاتی ہے، لوگ نہایت احترام کے ساتھ دائرہ بنا کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ طے شدہ نادیدہ لکیر سے آگے کوئی بھی نہیں بڑھتا۔ کسی کے پائوں تھکتے ہیں نہ ہی گرمی پریشان کرتی ہے۔ تماشہ ختم ہونے پر سب کے سب تماشائی بندر کے نام پر مداری کو کچھ نہ کچھ دے بھی جاتے ہیں۔لوگ سمجھتے ہیں کہ مداری انہیں بندر کا تماشہ دکھا رہا ہے لیکن مداری اصل میں اپنے بندر کو انسانوں کا تماشہ دکھا رہا ہوتا ہے۔