مقبول خبریں
پاک سر زمین پارٹی کے زیر اہتمام پاکستان کے 70ویں یوم آزادی کے موقع پر رنگا رنگ تقریب
شیڈو چانسلر جان مکڈونل کی ایم پی تھرک لیبر پارٹی کی دعوت پر گریز آمد
کشمیری مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کے لیے عالمی برادری کے کردار کے خواہش مند ہیں
اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنس، نیب نے ایس ای سی پی حکام کو طلب کر لیا
بھارت کا یوم آزادی،دنیا بھر میں کشمیریوں نے یوم سیاہ منایا، مودی کے پتلے نذرآتش
حسین شہید سرور کا سجادہ نشین بساہاں شریف پیر سید علی رضابخاری کے اعزاز میں استقبالیہ
عمران خان نے تمام بڑے چوروں کو عوامی عدالتوں میں لا کھڑا کیا ہے:بابر اعوان
خالد محمود خالق سے ’’ ڈی آئی جی ‘‘مظفر آباد ہیڈ کوارٹرز آزاد کشمیر پولیس کی ملاقات
کرپٹ خان
پکچرگیلری
Advertisement
کنزرویٹوپارلیمانی امیدواروں کی تحریک حق خود ارادیت کو کشمیرپر معاونت کی یقین دہانی
بریڈ فورڈ:کنزرویٹو پارٹی بریڈ فورڈ کے تینوں پارلیمانی امیدواروں اور پارٹی عہدیداروں نے جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت کی کشمیر کمپین پر دستخط کر کے بھرپور معاونت کی یقین دہانی کرا دی جبکہ سابق وزیر کرس ہوپکنز نے چوہدری غلام رسول کی رہائش گاہ پر کشمیری لیڈر شپ کو برطانوی حکومت تک مسئلہ کشمیر کی تازہ ترین حالات سے آگاہ کرنے اور برصغیر میں پائیدار امن کیلئے کوششوں میں تعاون کرنے کے عزم کا اظہار کیا جبکہ کیتھلے سے بزنس اور کمیونٹی لیڈروں نے بھی راجہ نجابت حسین اور انکی ٹیم کی مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کی کاوشوں پر شاندار الفاظ میں خراج تحسین،جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت یورپ کی ٹیم کی طرف سے برطانیہ کے عام انتخابات میں پارلیمانی امیدواروں سے کشمیر کمپین چلا کر حق خود ارادیت کے حصول،آل پارٹیز کشمیر پارٹیز کشمیر پارلیمنٹری گروپ میں شمولیت اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کروانے کیلئے دستخط کروانے اور حمایت حاصل کرنے کیلئے سابق ممبران پالیمنٹ اور اپنے امیدواروں سے بھی رابطے کئے جا رہے ہیں اور اسی سلسلے میں تحریک کے چیئرمین راجہ نجابت حسین،سرپرست سردار عبدالرحمان خان،بوٹا ہیری اور راجہ اشتیاق پر مشتمل وفد نے کیتھلے سے پارلیمانی امیدوار اور سابق وزیر برائے آئر لینڈ کرس ہوپکنز اور بریڈ فورڈ سائوتھ سے تانیا گراہم امیدوار کنزرویٹو پارٹی سے خصوصی ملاقات کر کے جہاں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سے آگاہ کیا وہاں کنزرویٹو پارٹی کی گزشتہ سات سال کی حکومت میں مسئلہ کشمیر کو نظر انداز کرنے پر بھی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ اگر کنزرویٹو امیدواروں نے کھل کر کشمیریوں کی حمایت نہ کی تو کشمیری ووٹ لیبر پارٹی کی طرف چلا جائے گا اور کنزرویٹو پارٹی کے ان ممبران کا بھی نقصان ہو گا جو مسئلہ کشمیر کو پارلیمنٹ کے اندر اجاگر کرنے میں ہمیشہ آگے رہے ہیں،اس موقع پر مقامی مسائل کے حوالے سے بھی تفصیلاً گفتگو کی گئی،کرس ہوپکنز نے تحریکی رہنمائوں کو یقین دلایا کہ وہ ماضی کی طرح اپنے ہم خیال کشمیر دوست ارکان پارلیمنٹ سے مل کر آئندہ فارن آفس کی کشمیر پالیسی واضع کروانے کے علاوہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم بند کروانے کیلئے مثبت تبدیلی کیلئے ہر سطح پر تعاون کریں گے،انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات سال میں تین بار برطانوی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر پر بحث ہوئی ہے جس کو کروانے کیلئے دو بار کنزرویٹو ممبران پارلیمنٹ سٹیو بیکر اور ڈیوڈ نٹال تے قائدانہ کردار ادا کیا جبکہ تیسری بحث میں لبرل ڈیمو کریٹ ممبرپارلیمنٹ ڈیوڈ وارڈ کی معاونت بھی کنزرویٹو ارکان اینڈریو یوسٹیفن اور ڈیوڈ نٹال نے کی تھی،لیبر ارکان بحثوں میں حصہ ضرور لیتے رہے ہیں مگر کبھی بھی انہوں نے کسی بحث کی رہنمائوں نہیں کی جبکہ لیبر پارٹی بھی برسر اقتدار رہی ہے اور انکی پالیسی بھی وہی رہی ہے جو کنزرویٹو حکومت کی ہے،کرس ہوپکنز نے کہا کہ وہ راجہ نجابت حسین اور انکی پوری ٹیم کے ساتھ ملکر مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کیلئے جدو جہد کریں گے اور کشمیری کمیونٹی سے اپیل کریں گے کہ وہ لیبر پارٹی کے پروپیگنڈے میں آنے کی بجائے یہاں پر بسنے والے کشمیریوں کے مستقبل کیلئے کنزرویٹو امیدواروں کو ووٹ دیکر حکمران جماعت میں اپنا اثر و رسوخ بڑھائیں اس موقع پر بریڈ فورڈ سائوتھ سے کنزرویٹو پارٹی کی پارلیمانی امیدوار تانیا گراہم نے تحریکی عہدیداروں کی کشمیر کمپین میں تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی اور کہا کہ وہ کشمیر خواتین اور بچوں پر ہونے والے مظالم کو پارلیمنٹ میں جا کر اجاگر کریں گی،اس پے قبل تحریک کے چیئرمین محمد ریاض،ڈپٹی چیئرمین راجہ سخاوت حسین،خزانچی ڈیوڈ سرونٹ اور پارٹی کے بریڈ فورڈ ایسٹ سے پارلیمانی امیدوار بیرسٹر مارک ٹرافورڈ اور بریڈ فورڈ ویسٹ کے پارلیمانی امیدوار جارج گرانٹ سے ملاقات کر کے تحریک کے چھ نکاتی ایجنڈے پر نہ صرف دستخط کروائے بلکہ انہیں بریڈ فورڈ کے کشمیریوں کے جذبات سے بھی آگاہ کیا دونوں امیدواروں نے کہا کہ وہ یہاں عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے کنزرویٹو پارٹی کی لیڈر شپ تک مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے نہ صرف پیغام دیں گے بلکہ حکومتی اکابرین سے مقامی کمیونٹی لیڈر شپ کی ملاقاتیں بھی کروائیں گے تاکہ کشمیری لیڈر شپ براہ راست اپنے جذبات سے آگاہ کر سکے،انہوں نے اس موقع پر کشمیری کمیونٹی سے اپیل کی کہ وہ اس بار بریڈ فورڈ میں کنزرویٹو پارٹی کے پارلیمانی امیدواروں کو موقع دے کر اپنے مسائل حکومت سے حل کروائیں۔خصوصی رپورٹ:فیاض بشیر