مقبول خبریں
روہنگیا مسلمانوں کی مذہب کے نام پر نسل کشی قابل قبول نہیں: افضل خان
اوورسیز پاکستانی کا ایک کروڑ روپے مالیت کا مکان ناجائز قبضہ سے چھڑالیاگیا
ڈاکٹر افضل جاوید ورلڈ سائیکائیٹرک ایسوسی ایشن (WAP) کے صدر منتخب
ہر ادارہ اپنے دائرے میں کام کرے تو ملک ترقی کرے گا: وزیر داخلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبرکیخلاف مکمل ہڑتال، زبردست احتجاجی مظاہرے
لوٹن ٹائون ہال میں ادبی بیٹھک، لارڈ قربان نے صدارت کی معروف شعرا کرام کی شرکت
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
پاکستانی کمیونٹی سنٹر مانچسٹر میں کبوتر پروری کا سالانہ کنونشن، تقسیم انعامات کی تقریب
مودی کی سبکی
پکچرگیلری
Advertisement
پوری دنیا میں بدامنی بے چینی اور بے سکونی کا سبب سیرة مصطفی سے دوری ہے: علماء کرام
برمنگھم: پوری دنیا کے دکھوں اور مسائل کا حل سیرت نبوت میں ہے دنیا میں بدامنی بے چینی اور بے سکونی کا سبب سیرة مصطفی سے دوری ہے اسوہ حسنہ کا دوسرا نام سیرت طیبہ ہے حضورۖ اقدس دنیا میں امن اور سلامتی کا پیغام لیکر مبعوث ہوئے دہشت گردی انتہا پسندی اور تنگ نظری کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں آپۖ نے تحمل اور برداشت کا سبق دیا ہے آپ کی زبان سے نکلنے والا ایک ایک لفظ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھا کیونکہ آپ خدا کے حکم کے بغیر کلام نہیں کرتے تھے برطانیہ میں بسنے والے مسلمان مئی اور جون میں ہونے والے انتخابات میں بھرپور حصہ لیں ووٹنگ میں حصہ لینا آپ کا قومی فریضہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار مدرسہ قاسم العلوم برمنگھم کے زیر اہتمام جامع مسجد علی اہل سنت و الجماعت میں منعقد ہونے والی 27 ویں سالانہ سیرة کانفرنس میں علماء کرام نے کیا۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا فضل الرحمن نے اپنے خطاب میں حصور قدس کی سیرة طیبہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آپ کی سیرة کے حوالہ سے ہمیں یہ سبق اور رہنمائی ملتی ہے کہ آپ کا اخلاق پوری دنیا کے لئے نمونہ ہے آپۖ نے اپنے خلاق و کردار سے دنیا کو اپنا گرویدہ بنایا اخلاق و کردار سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ مسلمانوں میں آج سب سے بڑی کمزوری اور خامی کردار اور اخلاق کا فقدان ہے۔ سیرة کی تمام کتابیں آپۖ کے اخلاق و کردار سے بھری پڑی ہیں۔ شدت پسندی بداخلاقی اور بدکرداری سے لوگ اسلام اور مسلمانوں سے دور تو ہوسکتے ہیں قریب نہیں آسکتے۔ آپۖ کی سب سے بڑی خوبی اور صفت بلند اخلاق ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان انصاف کا راستہ اختیار کریں اپنے خود کے ساتھ انصاف کریں اپنی ذات اور گھر والوں کے ساتھ انصاف کریں تواضع اور عاجزی اختیار کریں اپنے جذبات پر قابو رکھیں اور برداشت سے کام لیں یہی وہ چیزیں ہیں جو مسلمانوں کو معاشرے میں عزت و احترام دلا سکتی ہیں۔ مفکر اسلام جسٹس ڈاکٹر علامہ خالد محمود نے اپنے خطاب میں کہا کہ امت کے اندر اختلافات کا پیدا ہوجانا کوئی بری بات نہیں مگر اختلافات کو لڑائی جھگڑے اور فساد میں تبدیل کرنا قابل افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد امت کا نمونہ سیرت رسول ہے۔ حضور نبی کریمۖ نے امت کو ہمیشہ اتحاد و اتفاق کا درس دیا آپ نے جنگ و جدل کو کبھی بھی پسند نہیں فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ صحابہ کرام کی وہ واحد جماعت ہے جو دو حصوں میں بٹ کر پھر ایک جماعت بن گئے۔ علامہ خالد محمود نے کہا کہ جامع مسجد علی اتحاد ملت کا مرکز ہے آج اس مرکز میں تمام جماعتیں اور تمام علماء کرام جمع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنی زندگیوں کو سیرة رسول سے مزین کرو دینی و دنیاوی تمام مسائل کا حل قرآن و حدیث میں موجود ہے۔ مفسر قرآن حضرت مولانا انیس احمد بلگرامی انڈیا نے اپنے خوبصورت انداز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضورۖ کی زبان سے نکلنے والا ایک ایک لفظ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھا کیونکہ آپۖ خدا کے حکم کے بغیر کلام نہیں کرتے تھے۔ حضورۖ کی ذات وہ ذات اعلیٰ و بالا ہے جن کی وجہ سے نبیوں کو نبوت ملی اگر آپ نہ ہوتے تو یہ کائنات نہ ہوتی ہم نہ ہوتے آپ نہ ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کا علم جہاں ختم ہوتا ہے آپۖ کا علم وہاں سے شروع ہوتا ہے۔ مولانا بلگرامی نے کہا کہ خدا تعالیٰ نے ایک منشور بنایا وہ منشور یہ تھا کہ میری رحمت ہمیشہ میرے غضب اور غصے پر غالب رہے گی۔ ہمارے گناہوں کا تقاضا تو یہ تھا کہ خدا تعالیٰ ہمیں ایک گھونٹ پانی اور کھانے کا ایک لقمہ نہ دیتے مگر چونکہ خدا تعالیٰ نے وعدہ کرلیاہے کہ اس کی رحمت اس کے غصے اور غضب پر غالب رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ جو حضور اقدسۖ پر درود و سلام پڑھے گا اس کے گناہوں کی تلافی ہوگی دلوں کو اطمینان اور سرور حاصل ہوگا۔ جو شخص حضورۖ پر درود پڑھتا ہے اس پر خدا کی رحمتوں کا نزول ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آج امت رسالت مآبۖ کی وجہ سے بچی ہوئی ہے آپۖ کی رحمت نے امت کو اپنی چادر میں ڈھانپا ہوا ہے۔ مولانا عبدالسلام ویسٹ انڈیز نے اپنے انگلش خطاب میں کہا کہ انسان کی تخلیق کا مقصد اﷲ تعالیٰ کی عبادت اور آپس میں پیار و محبت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہاں انگلینڈ میں آکر بے انتہا خوشی ہوئی ہے کہ یہاں علماء کرام دین کے کام میں مصروف ہیں اور امت کی رہنمائی فرما رہے ہیں۔ خطیب پاکستان حضرت مولانا محمد رفیق جامی فیصل آباد پاکستان نے اپنے پرجوش خطاب میں کہا کہ صحابہ کرام نے رسول اﷲۖ کے ساتھ محبت و عشق میں انتہا کردی انہوں نے کہا کہ حضرت ابوبکر صدیق کو کفار مکہ نے مار مار کر بے ہوش کردیا تھا جب انہیں ہوش آیا تو انہوں نے پوچھا حضورۖ کا کیا حال ہے میں اس وقت تک کچھ نہ کھائوں گا جب تک حضورۖ کی زیارت نہ کرلوں۔ انہوں نے کہا کہ ایک صحابیہ عورت کو کسی نے بتایا کہ اس کا خاوند شہید ہوگیا ہے اس کا بھائی اس کا بیٹا شہید ہوگیا ہے مگر اس نے کہا کہ کوئی بات نہیں مجھے یہ بتائو کہ حضورۖ کا کیا حال ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے پروگراموں سے محبت رسول اور اطاعت رسول کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ قاری تصور الحق مدنی نے اپنے خطاب میں تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ جامع مسجد علی اہل سنت و الجماعت اہل حق کا مرکز ہے یہاں سے توحید و سنت اور عظمت صحابہ اور دفاع صحابہ کے نغمے بلند ہونگے انہوں نے کہا کہ مسجد علی کمیونٹی کے مسائل کے حل کے لئے اپنا مثبت اور موثر کردار ادا کرتی رہے گی۔ مقامی ایم پی جناب لیم برن نے سیرة کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد دی اور کہا کہ آپ لوگ مئی اور جون کے انتخابات میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ اس سے پہلے کانفرنس کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ محمد حذیفہ عمران الحق نے تلاوت کی سعادت حاصل کی۔ ہدیہ نعت حافظ علی ایوب حافظ عثمان ذوالنورین حافظ ابوبکر حیدری حافظ طاہر بلال چشتی قاری ابرار حسین شاہ محمد غالب ارشد حمزہ عمر فاروق سید عزیز الرحمن شاہ نے پیش کیا۔ کانفرنس کی دو نشستیں ہوئیں پہلی نشست کی صدارت جامع مسجد علی کے چیئرمین اور مدرسہ قاسم العلوم کے مہتمم جناب قاری تصور الحق مدنی نے کی دوسری نشست کی صدارت خواجہ محمد خلیل آف کندیاں شریف نے کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض حافظ عطاء اﷲ خان مولانا عمران الحق نے ادا کئے۔ قراردادیں مولانا طارق مسعود نے پیش کیں۔ حاضرین کا شکریہ مولانا ارشد محمود نے ادا کیا۔ کانفرنس میں پورے ملک سے علماء کرام اور لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس میں شرکت کرنے والے علماء اور خاص شخصیات قابل ذکر ہیں مولانا ابوبکر جہلمی الحاج محمد بوستان ڈاکٹر اختر الزمان غوری مولانا اکرام الحق خیری مولانا محمد قاسم مولانا منظور الزمان مولانا ضیاء المحسن طیب قاری حق نواز حقانی مولانا محمد طلحہ مولانا محمد نوید مولانا عابد قاری اظہار احمد حاجی عبداللطیف کونسلر عنصر علی خان مولانا فیاض عادل فاروقی مولانا عثمان ایوب مولانا محمد عمیر مولانا محمد اسلم زاہد مولانا اسلام علی شاہ عبدالغار بھٹی حاجی حبیب الرحمن حاجی محمد عرفان محمد اشرف حاجی جاوید مولانا فاروق قاسمی حاجی طاہر حاجی سخاوت مولانا اظہر اقبال قاسمی مولانا خالد حسین حافظ محمد اسماعیل مولانا رضاء الحق سیاکھوی مولانا عبدالرب ثاقب مولانا عبدالمجید ندیم مولانا عبدالہادی العمریہ مولانا عادل فاروق اولڈھم مولانا محمد طلحہ حافظ حسین شاہ ڈربی قاری ظہیر مولوی لیاقت علی گورسی مولانا آفتاب احمد مولانا محمد لقمان حافظ ضیاء القاسمی کونسلر محمد ادریس حافظ عدیل تصور الحق حاجی عبدالرزاق مولانا عبدالرحیم راجہ لیاقت وادی حسین محمد عاشق راجہ ذوالقرنین محمد نوید مولانا زکریا مفتی جاوید وریچہ قاری نیاز احمد راجہ عارف مولوی ابراہیم مولانا محفوظ الرحمن مفتی محمد تقی مولانا حامد خان حاجی اﷲ دتہ شیخ مشتاق۔ امسال سیرة کانفرنس تین ایام پر مشتمل تھی پہلے روز محفل حمد و نعت دوسرے دن یوتھ کے لئے انگلش پروگرام اور تیسرے روز اجلاس عام تھا۔ تینوں پروگرام انتہائی کامیاب رہے جس میں لوگوں نے انتہائی جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔ پروگرام کی خاص بات خواتین کی بھرپور شرکت تھی۔ کانفرنس میں منظور کی جانے والی قراردادیں۔ قراردادیں مولانا طارق مسعود نے پیش کیں۔