مقبول خبریں
پاکستان کے نظریاتی استحکام کیلئے مسلم لیگ کو منظم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے:فدا حسین کیانی
گوادر چیمبر آف کامرس کے نومنتخب صدر گوادر رئیل اسٹیٹ کیلئے اثاثہ ثابت ہونگے: ذیشان چوہدری
کشمیری آزادی کی جنگ لڑ رہےہیں ،یہ انکا پیدائشی حق ہے:چوہدری جاوید ،چوہدری یعقوب
نواز شریف کے دوبارہ پارٹی صدر بننے کی راہ ہموار، شق 203 سینیٹ سے بھی منظور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی فائرنگ، مزید 2 نوجوان شہید
کونسلر وحید اکبر کا آزاد کشمیر کے جسٹس شیراز کیانی کے ا عزاز میں عشائیے کا اہتمام
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
ڈاکٹر سجاد کریم کی قیادت میں یورپی پارلیمنٹ کے وفد کا جارحیا پہنچنے پرپرتپاک استقبال
کرپٹ خان
پکچرگیلری
Advertisement
میں اکیلاہوں،میراکوئی اپنانہیں؟
میں اکیلا ہوں میرا کوئی دوست نہیں ، میری دوستی سے اگرچہ سب کو انکار تو نہیں لیکن سامنے آکر دوستی کا اعلان کر دے یہ کسی میں بھی ہمت نہیں ، کیوں کہ میں زمین کا ایک ایسا خطہ ہوں جس پر ایک ظالم وجابر قوم نے قبضہ کیے رکھا ہے۔ شاید اس ظالم کے ہاتھ اتنے پھیلے ہوئے ہیں کہ میری آہ وکراہ سن کر بھی میرے(مسلمان ممالک) ’’اَن سنی‘‘ کرجاتے ہیں ۔ رات دن میری زمین خون ناحق سے تر کی جارہی ہے، میرے بچوں اور بہادر نوجوانوں کا حال یہ ہے کہ ان کا بچپن اور ان کی جوانی کا بھی کوئی خیال نہیں کیا جاتا بلکہ دن دھاڑے کسی خوف کے بغیر انہیں مارا جا رہا ہے، اُن کی آنکھوں کی بصارت چھین کر ہمیشہ کی زندگی کے لیے معزوری کا تحفہ دیا جاتا ہے، گھروں میں آگ کے شعلے، بازاروں میں خوف کا ماحول قائم کیا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے؟ اس سوال کا جواب دینے کے بجائے مختلف بہانوں سے میری زبان پر تالے چڑھائے جارہے ہیں ۔ اگرچہ میری اس آہ وکراہ سے سب لوگ واقف ہیں لیکن کسی کو میری زندگی سے پیار نہیں،سب انسانیت کی باتیں تو کرتے ہیں لیکن اصل انسانیت سے سب کوسوں دورہیں ۔ کوئی اپنا ہو یا پرایا سب مجھ سے دور ہی رہ رہے ہیں ۔ کیوں کہ انہیں اپنے مفادات میرے ناحق بہتے خون سے زیادہ پسند ہیں ۔ انہیں اس بات کا خاص خیال ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے لیکن ہمارے ذاتی مفادات کو ٹھیس نہیں پہنچنی چاہیے۔ ان غیروں سے مجھے کوئی گلہ نہیں کیوں کہ وہ آخر غیر ہی تو ہیں ، لیکن اپنے (مسلمان ممالک) سے مجھے گلہ ہے، کیوں کہ وہ میرے اپنے ہیں ۔ انہیں حکم تو یہی دیا گیاتھا کہ ’’تم جہاں بھی رہو، اللہ سے ڈر تے رہو، اللہ کے ماننے والے اپنے بھائیوں کی مدد کرتے رہو، اُن کے غم میں برابر کے شریک ہو جایا کرو، انہیں اپنا بھائی سمجھو، ان پر کسی غیر کا ظلم تو دور کی بات انہیں ٹھیس پہنچانے کی کوئی سوچ بھی لے تو اپنے اس بھائی کا مددگار بنو۔ گلہ مجھے صرف اسی وجہ سے ہے کہ میں ان کا اپنا بھائی ہوں لیکن وہ بھی اس قدر ’قوم پرستی ‘ اور ’مفاد پرستی‘ کا شکار ہو چکا ہے کہ اُنہیں کچھ بھی نظر نہیں آرہا ہے۔ انہیں محمد بن قاسم کا وہ کارنامہ بھی یاد نہیں کہ جب ہند سے ایک مظلوم بہن نے اپنی آہ کا اظہار کیا تھاتو اس آواز سے میرے اپنوں کا ہی دل دھڑک اُٹھا تھا، ان کے جذبۂ جہاد نے انہیں ایک لمحہ بھی بیٹھنے نہ دیا۔ بلکہ وہ اُٹھے اور اس قدر نکلے کہ تاریخ نے فخرسے اپنے دامن میں ہمیشہ کیلئے سمیٹ لیا۔ مضمون: کانگریس کے بارے میں کیا کہا جائے! اپنی اس مظلوم بہن کو اپنی عزت سمجھ کر اپنی جانوں کی پرواہ نہیں کی۔ آج میری زمین کو اس ’بھائی‘ کی تلاش ہے۔ میری رگ رگ سے آہ نکل رہی ہے، لیکن سننے کے بعد بھی کوئی سنتا نہیں ، آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود کوئی یہ نہیں کہتا کہ یہ کیاہو رہا ہے؟ سب تماشائی بنے بیٹھے ہیں ، کسی کو میری پرواہ نہیں ، کوئی مجھ سے دلی وابستگی نہیں رکھتا، شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے مفادات میں میری ذات سے دلچسپی لینے میں نقصان ہے۔ میرے بچوں پر جب تلوار گرتی ہے تو آہ وفغان اٹھتی ہے ، میرے جوانوں کی جب لاشیں گرتی ہیں تو آہ آہ کی صدائیں بلند ہوتی ہیں ، میری بہنوں اور بیٹیوں کی عزت جب تار تار کی جاتی ہے تو سسکیاں سنائی دیتی ہیں ، میری مائوں کے گود میں جب اپنے بچوں کی خون میں لت پت لاشیں تھما دی جاتی ہیں تو ان کی آنکھوں سے آنسوئوں کا سمندر بہہ جاتا ہے اور ان کی آہ سے ہوا میں خاموشیاں چھاجاتی ہیں لیکن میرے اپنوں (مسلم ممالک سے وابستہ حکمرانوں ) کے دلوں پر ایسے تالے چڑھے ہوئے ہیں ، اُن کی آنکھوں پرایسے پردے لٹکے ہوئے ہیں ، ان کے ہونٹ ایسے سلے ہوئے ہیں ، ان کے قدم ایسے جکڑے ہوئے ہیں ، ان کے ہاتھ ایسے بندھے ہوئے ہیں کہ کچھ محسوس ہی نہیں کر پاتے ۔ جب کبھی آنکھوں پر پٹی کھل بھی جاتی ہے تو اتنا کہہ کر مجھے خاموش کر دیتے ہیں کہ ’’ہم مجبور ہیں ‘‘۔ خدا را یہ بتائو کہ کیا مجبوری ہے؟ اگر کسی کا ڈر ہے تو خدا سے ڈرنے کا کیا مطلب؟کیااپنے رب کایہ حکم بھی بھول گئے ہو: وَمَاْ لَکُمْ لا تقاتِلون فِی سبِیلِ اللہِ والمستضعفِین مِن الرِجالِ والنِساِ والوِلدانِ الذِین یقولون ربنا خرِجنا مِن ہذِہِ القریِ الظالِمِ ہلہا واجعل لنا مِن لدن ولِیا واجعل لنا مِن لدن نصِیرا) اور(مسلمانو) ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں (غلبہ دین کے لئے) اور ان بے بس(مظلوم و مقہور)مردوں،عورتوں اوربچوں(کی آزادی)کے لئے جنگ نہیں کرتے جو(ظلم و ستم سے تنگ ہو کر)پکارتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال لے جہاں کے(وڈیرے)لوگ ظالم ہیں، اور کسی کو اپنی بارگاہ سے ہمارا کارساز مقرر فرما دے، اور کسی کو اپنی بارگاہ سے ہمارا مددگار بنا دے!(النساء ۔٧٥) اگرواقعی دل میں رب کاڈرہے تومیری آواز پر کیوں لبیک نہیں کہتے؟ جسےیہ یقین محکم ہو کہ ہمارا کوئی نہیں لیکن خدائے لم یزل ہے، جسے یہ معلوم ہو کہ سب طاقتوں پر حاوی ہے وہ طاقت جو ہماری محافظ ہے، اسے کیوں یہ پریشانی لاحق کہ اگر میں سامنے آیا تو میرا اپنا کیا ہو گا۔ خدایا ہم کو اپنی اصل حیثیت سے فیضیاب کر، ہمیں اس ’’ملت‘‘ کاجذبہ عطا کر جس سے میں جڑا ہوں ۔ شاید ہم بھول چکے ہیں کہ ہماری اصل کیا ہے،ہم اس دنیا میں کیوں آئے ہیں ،ہمارا جینا اور مرنا کیا مقصد رکھتا ہے، خدایا ہمیں اپنی اصل پر کھڑا کر دے، ہمارے مردہ دلوں میں جان بھر دے۔ تب ہی یہ ممکن ہے کہ میرے مظلوم بھائیوں کی کوئی داد رسی کرنے والا اٹھے گا۔ خدایا ہم پر رحم فرما۔ مصنف کاتعلق مقبوضہ کشمیرسے ہے انہوں نے اپنی فریاداپنے مسلمان بھائیوں تک پہنچانے کااپنافریضہ سرانجام دیاہے۔