مقبول خبریں
سیاسی ،سماجی کمیونٹی شخصیت بابو لالہ علی اصغر کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بارے میٹنگ کا انعقاد
بھارتی ظلم و جبر؛ برطانیہ کے بعد امریکی اخبارات میں بھی مسئلہ کشمیر شہہ سرخیوں میں نظر آنے لگا
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت کا کشمیر پٹیشن پر دستخطی مہم کا آغاز ،10ستمبر کو پیش کی جائیگی
کافر کو جو مل جائے وہ کشمیر نہیں ہے!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
آج کا پاکستان تمام شعبوں میں شاندار ترقی کر رہا ہے: پاکستانی ہائی کمشنر سید ابن عباس
لندن:پاکستان ہائی کمیشن لندن نے 77 ویں یوم پاکستان کے سلسلے میں تقریب کا اہتمام کیا۔ برطانوی وزیراعظم کے خصوصی نمائندے اوون جینکنز اس موقع پر مہمان خصوصی تھے۔ پاکستان کے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی، قومی سلامتی کے مشیر مارک لیال گرانٹ، سیکرٹری جنرل دولت مشترکہ پیٹریشیا سکاٹ لینڈ، سیکرٹری جنرل انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کٹیک لم اور کویت کے سفیر خالد الدویسان، ڈین آف ڈپلومیٹک کور بھی اس موقع پر موجود تھے۔ برطانوی لارڈز، ایم پیز، ایم ای پیز، سفارت کاروں، سینئر سول اور فوجی نمائندوں، میئرز، کونسلرز، برطانوی سوسائٹی کے ارکان، پاکستانی تارکین وطن اور میڈیا کے نمائندوں سمیت لوگوں کی بڑی تعداد نے یوم پاکستان کی اس تقریب میں شرکت کی۔ لندن دہشت گردی واقعہ کے متاثرین کے اعزاز میں اور برطانوی حکومت اور عوام سے اظہار یکجہتی کے لئے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ اس کے علاوہ پروگرام میں شامل ثقافتی پرفارمنس کو بھی اس المناک واقعہ کے پیش نظر منسوخ کر دیا گیا۔ اپنی تقریر میں برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر سید ابن عباس نے لندن میں دہشت گردی کی ہولناک کارروائی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ بحیثیت قوم ہم دہشت گردی کی لعنت سے شدید متاثر ہیں اور دکھ وکرب کی اس کیفیت کو محسوس کر سکتے ہیں جو اس بزدلانہ کارروائی کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس کڑے وقت میں اپنے برطانوی دوستوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ پاکستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان آگے بڑھ رہا ہے۔ ہم اقوام عالم میں ایک جدید اور اعتدال پسند قوم کے طور پر کھڑے ہیں۔ یہ سب ہمارے عوام کی قوت، ہمت اور انتھک کوششوں کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ آج کا پاکستان اپنے مضبوط جمہوری اداروں، مثالی معاشی بحالی اور بیس کروڑ آبادی کے ساتھ تمام شعبوں میں شاندار ترقی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کے شاندار اصلاحاتی ایجنڈا کے تحت معاشی بحالی، اور 54 ارب ڈالر سرمایہ کاری کے منصوبے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی بدولت پاکستان کی معیشت اور بنیادی ڈھانچے میں پہلے ہی تبدیلی آنا شروع ہو گئی ہے۔ سید ابن عباس نے کہا کہ معاشی بحالی کے ساتھ ساتھ ملک میں سکیورٹی کی صورتحال بھی بہتر ہوئی ہے۔ یہ سب نیشنل ایکشن پلان کے تحت کامیاب فوجی آپریشنز ’ضرب عضب‘ اور ’ردالفساد‘ کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ ہماری دلیر سول اور مسلح فورسز نے دہشت گردی کی لعنت پر قابو پانے کی کوششوں میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں جنہیں ہم ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ ہائی کمشنر نے پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات کو خوشگوار اور کثیر رخی قرار دیا۔ انہوں نے برطانوی کاروباری حلقوں کو دعوت دی کہ وہ پاکستان میں کاروبار کے مواقع کا جائزہ لیں اور پہلے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے تارکین وطن کو برطانوی معاشرے اور پاکستان کے لئے ان کی خدمات پر خراج تحسین پیش کیا۔ اوون جنکنز نے لندن کے دہشت گردی حملے پر برطانوی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ہمدردی پر ہائی کمشنر کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے دہشت گردی کو ایک مشترکہ خطرہ قرار دیا جو کہیں بھی کسی کو بھی پیش آ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ پاکستان بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے ساتھ ہے۔ اوون جنکنز نے پاکستان کی مسلح افواج کو بھی دہشت گردی کی لعنت کے خلاف کامیابی سے لڑنے پر خراج تحسین پیش کیا۔ مہمان خصوصی نے برطانیہ کی زندگی میں برطانوی پاکستانیوں کی مثبت خدمات کو سراہا۔ انہوں نے مہمانوں کو بتایا کہ برطانیہ مختلف سرگرمیوں کے ذریعے پاکستان کے 70 ویں یوم آزادی کی تقریبات میں بھی حصہ لے گا جن میں پارلیمنٹ کی تصویری نمائش بھی شامل ہے۔ اوون جنکنز نے کہا کہ برطانیہ پاکستان کے ساتھ ثقافت اور تجارت میں بہتر تعلقات کے ساتھ روشن مستقبل کے لئے پرامید ہے۔