مقبول خبریں
پی پی برطانیہ کے زیر اہتمام محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی64ویں سالگرہ کی تقریب کا انعقاد
تحقیقاتی ٹیم ایک طرف، قوم دوسری طرف جا رہی ہے، احتساب نہیں تماشہ ہو رہا ہے:نواز شریف
چمپئنز ٹرافی کے پاک بھارت میچ میں کشمیری کمیونٹی نے سٹیڈیم کے باہرشدید احتجاج کیا
این ڈی ایس، را دہشتگردوں کی سرپرست، افغانستان دہشتگردی کا ناسور ختم کرے:آرمی چیف
مودی سرکار کی بربریت، بھارتی فورسز کے ہاتھوں مزید 4 نہتے کشمیری شہید
سید حسین شہید سرور کا ڈاکٹرپیرسیدعلی رضاکے اعزازمیں اپنی رہائشگاہ پر افطارڈنر کا اہتمام
آکسفورڈ کی غیر مسلم کمیونٹی کے راہنمائوں کی بڑی تعداد کا مرکزی جامع مسجد کا دورہ
کشمیر گروپ مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند کروانے کیلئے موثر اقدامات کرے گا:ڈیبی ابراہم
آؤ ہوش کے ناخن لیں!
پکچرگیلری
Advertisement
فیونا مکٹیگرٹ ایم پی کی چیئرمین او پی ایل و بیول انٹرنیشنل ہسپتال اشتیاق چوہدری سےملاقات
سلاؤ :سابق جونیئر ہوم منسٹر و ممبر سلیکٹ کمیٹی برائے داخلہ فیونا مکٹیگرٹ ایم پی کی چیئرمین او پی ایل و بیول انٹرنیشنل ہسپتال ساؤتھ زون و النور فوڈز اشتیاق چوہدری سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ برٹش اورسیز پاکستانیوں نے اپنے مثبت تعمیری کردار سے برطانوی سیاست اور سوسائٹی میں اپنا منفرد اور اعلی مقام بنایا ہے جسے ہم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں برطانوی سیاست میں برٹش اورسیز پاکستانیوں کا مثبت کردار ہمارے لیے مشعل راہ ہے حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ اورسیز پاکستانیوں کی قابلیت اور صلاحیتوں اور تجربات سے استفادہ حاصل کریں اور انہیں اختیار اور چوائس دی جائے کہ وہ پاکستان کی سیاست سمیت انتخابات میں حصہ لے کر اپنی صلاحیتوں سے ملک و قوم کی بہتر طور پر خدمت کر سکیں اس حوالے سے وہ حکومت پاکستان کو باضابطہ خط بھی تحریر کریں گی پاکستان برطانیہ دوستی ایک مضبوط رشتے میں تبدیل ہو چکی ہے پاکستان کی موجودہ حکومت کی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دیا جا سکتا ہے نواز شریف کی صورت میں بہترین قیادت لوگوں کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لئے کوشاں ہے پاکستان کو چاہیے کہ چائنہ کی طرز پر اپنے اوورسیز پاکستانیوں کے تجربات سے فائدہ آٹھائے اور ان کو پُرکشش مراعات کے ساتھ ساتھ ان پر نیشنلٹی کے حوالے سےحائل رکاوٹوں کو بھی دور کرے تو کوئی وجہ نہیں مستقبل میں اوورسیز پاکستانی اپنے ملک کی ترقی اہم رول ادا نہ کر سکیں پاکستان میں سی پیک منصوبے کی مد میں بہت بڑی انویسٹمنٹ آئی ہے جس کے بہتر استعمال سے پاکستان بہت جلد ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں کھڑا ہو سکتا ہے اس کے لیے تجربے کار لوگوں کی ضرورت ہوگی جس کے پاکستان اپنے اوورسیز پاکستانیوں کے تجربے پر انحصار کر سکتا ہے بیول انٹرنیشنل ہسپتال کی تکمیل سے اشتیاق چوہدری اور ان کی ٹیم نے جس جذبے سے لوگوں کو ایک پلٹ فارم پر اگھٹا کیا اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی اور ایک قلیل عرصے میں اس کی تکمیل کے لئے یہ لوگ خراجِ تحسین کے مستحق ہیں میرے لئے اور بھی یہ ذیادہ خوشی کی بات ہے کیونکہ اس ہسپتال کی فنڈز ریزنگ کا آغاز میرے حلقے سلاؤ سے کیا گیا تھا اور میں اس کے آغاز سے تکمیل تک تمام مرحلوں پر ان لوگوں کے ساتھ شامل رہی مستقبل میں اس ہسپتال کو دیکھنے کے لئے پاکستان جانے کی خواہش مند ہوں ۔اشتیاق چوہدری نے فیونا مکٹیگرٹ ایم پی و ممبر سلیکٹ کمیٹی برائے داخلہ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اپنی گونا گوُ مصروفیات سے وقت نکالا اور مجھ سے ملاقات کرنے کے لئے میرے گھر تشریف لائیں فیونا نے ہمیشہ ہماری اخلاقی مدد کی اور بڑھ چڑھ کر ہمارے ہسپتال کی فنڈز ریزنگ کمپین میں حصہ لیتی رہی اور نہ صرف یہ کہ لوگوں سے فنڈز دلوائے بلکہ خود بھی پندرہ بیس ہزار پونڈ کی کیثر رقم ہسپتال کی تعمیر میں دی جس کی بدولت ہم ڈیڑھ ملین پونڈ کی رقم جمع کرنے میں کامیاب ہوئے اور بیول انٹرنیشنل ہسپتال کی تعمیر مکمل ہوئی اور تقریباً تیس چالیس ہزار مریضوں کو سالانہ اپنی سرویسیز اور طبی سہولیات دے رہا ہے میں اپنی کمیونٹی کی طرف فیونا مکٹیگرٹ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور راجہ جاوید اخلاص ایم این اے اور گورنمنٹ کے طرف سے ان کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دیتا ہوں جب بھی یہ چاہیں ہمیں ان کی میزبانی کر کے خوشی ہوگی اور اہلیان بیول گوجرخان ان کا تاریخی استقبال کریں گے۔آخر میں اشتیاق چوہدری نے او پی ایل کے موجودہ حکومت اور راجہ جاوید اخلاص کے تواسط سے مکمل اور زیر تکمیل پروجیکٹس کی تفصیلات بھی فیونا مکٹیگرٹ سے شئیر کیں اور انہیں بتایا کہ او پی ایل کو بنانے کے مقاصد میں بڑی حد تک کامیابیاں ملی ہیں اور کمیونٹی کی خدمت مستقبل میں بھی جاری رکھی جائے گی ۔او پی ایل نے اپنے منشور اور ترجیحات کے عین مطابق پاکستان میں اپنے بلا تفریق سیاسی و علاقائی ازم اپنے مثبت کردار کو یقینی بنایا اسی طرح برطانوی سوسائٹی کے تمام طبقات کے ساتھ مل کر او پی ایل کے پلیٹ فارم سے کیمونٹی کے درمیان بہتر خوشگوار ورکنگ ریلشین شپ کو فروغ دینے اور مل جل کر اجتماعی مفادات کے لیے مشترکہ کوششوں کو یقینی بنایا جائے گا