مقبول خبریں
او پی ایف بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین بیرسٹر امجد کا صحافیوں کے اعزاز میں عشائیہ
ہم دھرنوں کے باوجود عوام کی توقعات پر پورا اترے ہیں:میاں نواز شریف
پاک برٹش انٹر نیشنل ٹرسٹ کے چیئرمین چوہدری سرفراز کی جانب سے عشائیہ کی تقریب
امریکی اقدام سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، فیصلہ واپس لیا جائے:وزیر اعظم
مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج نے کشمیریوں پر زندگی تنگ کر دی،مزید 3بے گناہ شہید
لوٹن ٹائون ہال میں ادبی بیٹھک، لارڈ قربان نے صدارت کی معروف شعرا کرام کی شرکت
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
صدر نارتھ زون ضمیر احمد کی زیرصدارت نیل مسجد (یوکے آئی ایم) میں نورانی محفل کا انعقاد
مودی کی سبکی
پکچرگیلری
Advertisement
پاک سر زمین پارٹی برمنگھم کے زیر اہتمام قائد اعظم کا یوم پیدائش شایان شان طریقے منایا گیا
برمنگھم:پاک سر زمین پارٹی برمنگھم کے زیر اہتمام بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا141واں یوم پیدائش شایان شان طریقے سے حویلی بفٹ ریسٹورنٹ برمنگھم میں منایا گیا جس میں پاکستان اوربرطانیہ کی تمام سیاسی سماجی اور مذہبی رہنمائوں سے شرکت کی تقریب میں شمولیت برطانیہ بھر سے پاک سر زمین پارٹی کے رہنمائوں اور کارکنان نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی،تقریب کے مہمان خصوصی پاک سر زمین پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل رضا ہارون نے خصوصی طور پر پاکستان سے تشریف لائے تھے،رضا ہارون نے اپنے خطاب کے دوران بانی پاکستان قائد اعظم کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا،انہوں نے قیام پاکستان کے حالات پر روشنی بھی ڈالی اور اپنی سابقہ جماعت ایم کیو ایم اور بانی ایم کیو ایم کے اندرونی حالات کا بھی تذکرہ کیا،انہوں نے پاک سر زمین پارٹی کے قیام سے پہلے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا3مارچ2016کا وہ دن جب دو بہادر انسان سید مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی طویل پریس کانفرنس کے دوران اپنے پاکستان سے جانے اور ایم کیو ایم سے لا تعلق ہونے کی تفصیلات بتائیں اور واپس آنے کی وجوہات بتائیں اور آئندہ کا لائحہ عمل بھی بتایا،ہم آ تو گئے ہیں اب ہم نے کرنا کیا ہے انہوں نے کہا ایسی ہی حالات میرے بھی تھے ہمیں ایم کیو ایم میں وہ تمام مراعات حاصب تھیں وہ ہر چیز ہم حاصل کر چکے تھے جس کی انسان خواہش رکھتا ہے،ہم ایم این اے،ایم پی اے،منسٹر،سینیٹر،میئر شپ سب کچھ تھا مگر ہمارا ضمیرمطمئن نہیں تھا پاکستان کے ساتھ جو کھلواڑ کھیلا جا رہا تھا ہم خاموش نہیں رہ سکتے تھے۔