مقبول خبریں
المدثر ٹرسٹ کا مقصد معذور بچوں کو معاشرے کا مفید شہری بنانا ہے: سید مدثر حسین شاہ
گھرکی ٹرسٹ ٹیچنگ ہسپتال غریب افراد کو علاج معالجہ کی مفت سروس فراہم کرتا ہے:محمد نعیم
پاکستانی عوام نے 14مئی کے ملین مارچ کے حق میں فیصلہ دے دیا :پی ایس پی برطانیہ
نواز شریف نے مایوس کیا، ایران کیخلاف فریق نہیں بننا چاہیے تھا: عمران خان
نہتے کشمیریوں سے نمٹنے کیلئے سینٹرل ریزو پولیس فورس کے اہلکاروں کو خصوصی ٹریننگ
سید حسین شہیدسرورکا سیکرٹری تعلیم آزادکشمیرسیدشاہد محی الدین قادری کے اعزازمیں عشائیہ
آکسفورڈ:پاکستانی کمیونٹی کی جمیلہ آزاد اور ثوبیہ آفریدی لیبرپارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب
کشمیر مہم: تحریک حق خود ارادیت یورپ نے پارلیمانی امیدواروں سے دستخط لینے شروع کر دیئے
اپنی آنکھیں کھول کے رکھنا طغیانی کے موسم میں
پکچرگیلری
Advertisement
پاک سر زمین پارٹی برمنگھم کے زیر اہتمام قائد اعظم کا یوم پیدائش شایان شان طریقے منایا گیا
برمنگھم:پاک سر زمین پارٹی برمنگھم کے زیر اہتمام بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا141واں یوم پیدائش شایان شان طریقے سے حویلی بفٹ ریسٹورنٹ برمنگھم میں منایا گیا جس میں پاکستان اوربرطانیہ کی تمام سیاسی سماجی اور مذہبی رہنمائوں سے شرکت کی تقریب میں شمولیت برطانیہ بھر سے پاک سر زمین پارٹی کے رہنمائوں اور کارکنان نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی،تقریب کے مہمان خصوصی پاک سر زمین پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل رضا ہارون نے خصوصی طور پر پاکستان سے تشریف لائے تھے،رضا ہارون نے اپنے خطاب کے دوران بانی پاکستان قائد اعظم کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا،انہوں نے قیام پاکستان کے حالات پر روشنی بھی ڈالی اور اپنی سابقہ جماعت ایم کیو ایم اور بانی ایم کیو ایم کے اندرونی حالات کا بھی تذکرہ کیا،انہوں نے پاک سر زمین پارٹی کے قیام سے پہلے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا3مارچ2016کا وہ دن جب دو بہادر انسان سید مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی طویل پریس کانفرنس کے دوران اپنے پاکستان سے جانے اور ایم کیو ایم سے لا تعلق ہونے کی تفصیلات بتائیں اور واپس آنے کی وجوہات بتائیں اور آئندہ کا لائحہ عمل بھی بتایا،ہم آ تو گئے ہیں اب ہم نے کرنا کیا ہے انہوں نے کہا ایسی ہی حالات میرے بھی تھے ہمیں ایم کیو ایم میں وہ تمام مراعات حاصب تھیں وہ ہر چیز ہم حاصل کر چکے تھے جس کی انسان خواہش رکھتا ہے،ہم ایم این اے،ایم پی اے،منسٹر،سینیٹر،میئر شپ سب کچھ تھا مگر ہمارا ضمیرمطمئن نہیں تھا پاکستان کے ساتھ جو کھلواڑ کھیلا جا رہا تھا ہم خاموش نہیں رہ سکتے تھے۔