مقبول خبریں
برطانوی معاشرے میں رہتے ہوئے تمام تہوار میں حصہ لینا چاہئے: افضل خان
سپینش شہریت کے حامل سائنسدانوں کی قدرتی آفات پر ریسرچ
پاکستان میں فٹبال کے فروغ کیلئے انٹرنیشنل سوکا فیڈریشن کا قیام، ٹرنک والا فیملی کو خراج تحسین
لودھراں نے ثابت کیا فیصلے امپائر کی انگلی نہیں عوام کے انگوٹھے کرتے ہیں:نواز شریف
بھارتی ریاستی دہشتگردی کیخلاف مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال، تعلیمی ادارے بند
کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کو رکوانے کے سلسلہ میں پروگرام کا انعقاد
اوورسیز پاکستانیز ویلفیر کونسل کے زیراہتمام یوم یکجہتی کشمیر پر کار ریلی کا انعقاد
راجہ نجابت اور ان کی ٹیم کامسئلہ کشمیرپر متحرک کردار قابل ستائش ہے: سٹوورٹ اینڈریو
کیا یورپ ٹوٹ رہا ہے ؟
پکچرگیلری
Advertisement
پاک سر زمین پارٹی برمنگھم کے زیر اہتمام قائد اعظم کا یوم پیدائش شایان شان طریقے منایا گیا
برمنگھم:پاک سر زمین پارٹی برمنگھم کے زیر اہتمام بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا141واں یوم پیدائش شایان شان طریقے سے حویلی بفٹ ریسٹورنٹ برمنگھم میں منایا گیا جس میں پاکستان اوربرطانیہ کی تمام سیاسی سماجی اور مذہبی رہنمائوں سے شرکت کی تقریب میں شمولیت برطانیہ بھر سے پاک سر زمین پارٹی کے رہنمائوں اور کارکنان نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی،تقریب کے مہمان خصوصی پاک سر زمین پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل رضا ہارون نے خصوصی طور پر پاکستان سے تشریف لائے تھے،رضا ہارون نے اپنے خطاب کے دوران بانی پاکستان قائد اعظم کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا،انہوں نے قیام پاکستان کے حالات پر روشنی بھی ڈالی اور اپنی سابقہ جماعت ایم کیو ایم اور بانی ایم کیو ایم کے اندرونی حالات کا بھی تذکرہ کیا،انہوں نے پاک سر زمین پارٹی کے قیام سے پہلے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا3مارچ2016کا وہ دن جب دو بہادر انسان سید مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی طویل پریس کانفرنس کے دوران اپنے پاکستان سے جانے اور ایم کیو ایم سے لا تعلق ہونے کی تفصیلات بتائیں اور واپس آنے کی وجوہات بتائیں اور آئندہ کا لائحہ عمل بھی بتایا،ہم آ تو گئے ہیں اب ہم نے کرنا کیا ہے انہوں نے کہا ایسی ہی حالات میرے بھی تھے ہمیں ایم کیو ایم میں وہ تمام مراعات حاصب تھیں وہ ہر چیز ہم حاصل کر چکے تھے جس کی انسان خواہش رکھتا ہے،ہم ایم این اے،ایم پی اے،منسٹر،سینیٹر،میئر شپ سب کچھ تھا مگر ہمارا ضمیرمطمئن نہیں تھا پاکستان کے ساتھ جو کھلواڑ کھیلا جا رہا تھا ہم خاموش نہیں رہ سکتے تھے۔