مقبول خبریں
او پی ایف بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین بیرسٹر امجد کا صحافیوں کے اعزاز میں عشائیہ
ہم دھرنوں کے باوجود عوام کی توقعات پر پورا اترے ہیں:میاں نواز شریف
پاک برٹش انٹر نیشنل ٹرسٹ کے چیئرمین چوہدری سرفراز کی جانب سے عشائیہ کی تقریب
امریکی اقدام سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، فیصلہ واپس لیا جائے:وزیر اعظم
مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج نے کشمیریوں پر زندگی تنگ کر دی،مزید 3بے گناہ شہید
لوٹن ٹائون ہال میں ادبی بیٹھک، لارڈ قربان نے صدارت کی معروف شعرا کرام کی شرکت
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
صدر نارتھ زون ضمیر احمد کی زیرصدارت نیل مسجد (یوکے آئی ایم) میں نورانی محفل کا انعقاد
مودی کی سبکی
پکچرگیلری
Advertisement
بر طانوی کشمیریوں کا بڑا گروپ کشمیری دانشور شمس الرحمان کی سربراہی میں لبریشن فرنٹ میں شامل
مانچسٹر:برطانوی کشمیریوں کا بڑا گروپ ممتاز کشمیری دانشور شمس الرحمان کر سربراہی میں لبریشن فرنٹ میں شامل،یاسرنوید ،عابد ہاشمی،حافظ عبدالقیوم،شفقت راجہ،وسیم یسین،محبوب کاکڑوی کا بھی شمولیت کا اعلان، لبریشن فرنٹ شامل ھونے والے گروپ سے بھرپور قومی فائدہ اٹھانے گی اور جدوجہد کو نیا رخ دے گی،ان خیالات کا اظہار جمعوں وکشمیر لبریشن فرنٹ برطانیہ کے صدر صابر گل اور دیگر راہنماؤں اور کارکنان نے جماعت میں دوبارہ فعال کردار ادا کرنے کا اعلان کرنے کے موقع پر منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے موقع پر کیا. کشمیر کے تمام حصوں سے فوجوں کےانخلا کا مطالبہ ۔کنٹرول لائن کے دونوں اطراف سے فائرنگ کا تبادلہ فوری طور پر بند کیا جائے ، خون کشمیریوں کا بہہ رہا ہے ۔ اس موقعہ پر مختلف شعبئہ زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے لبرہشن فرنٹ میں شمولیت کا اعلان کیا جن میں ممتاز کشمیری دانشور شمس رحمان، حافظ عبدالقیوم ، محبوب کاکڑوی یاسرنوید ،عابد ہاشمی ، شفقت راجہ اور وسیم یسین شامل ہیں ۔ اس اہم اعلان کے موقعہ پر مقررین نے کہا کے برطانیہ میں کشمیری تارکین وطن نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنی سرگرمیاں 1947 میں کشمیر کی تقسیم کے فوری بعد سے ہی شروع کر دی تھیں ۔ تب سے جب بھی ریاست کے کسی حصے میں بھی کشمیریوں کے ساتھ کوئی ظلم و زیادتی ہوئی تو برطانوی کشمیریوں نے اس کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔ چاہے وہ شیخ عبداللہ کی گرفتاری ہو، منگلا ڈیم کی تعمیر ، گنگا کیس کے اسیران، میرپور یا پونچھ میں عوام کے حقوق کے معاملات ہوں یا وادی کشمیر میں عوامی تحریک کو کچلنے کے لیے مظالم۔ اس دوران برطانوی کشمیریوں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر اور پاکستان کی معیشت میں ان کے حصے میں بھی اضافہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں ظاہر ہے ان کی سیاسی اہمیت کو بھی فروغ ملا اور یہاں مختلف تنظیموں کا قیام بھی عمل میں آیا۔جموں کشمیر لبریشن کا قیام 1977 میں برمنگھم میں عمل میں لایا گیا تھا ۔ 1992 تک لبریشن فرنٹ کی برطانیہ کے بتیس شہروں میں چھوٹی بڑی شاخیں قائم ہو چکی تھیں اوربرطانیہ میں فرنٹ ہی کشمیریوں کی موثر ترین آواز تھی۔ تاہم 1992 میں ایک شدید تنظیمی بحران کے نتیجے میں جہاں فرنٹ کے حصے بخرے ہوئے وہاں دیگر بہت سی تنظیمیں خاص طور سے وہ جو آزاد کشمیر میں پاکستان کی حاکمیت اور مفادات کو تسلیم کرنے کے بدلے اقتدار حاصل کرتی ہیں قائم ہونا شروع ہوئیں اور کشمیر کا مسئلہ جو فرنٹ نے ریاست جموں کشمیر کی آزادی و خود مختاری کے مسئلے کے طور پر متعارف کروایا تھا اس کو بھارت و پاکستان کے درمیان تنازعہ بنا دیا گیا۔آج برطانیہ میں پاکستانی جماعتوں کے ساتھ ساتھ خود مختار کشمیر کے لیے برسرپیکار جماعتوں کی شاخیں بھی موجود ہیں اور سب اپنے اپنے نظریات اور بساط کے مطابق سرگرم عمل ہیں۔ ہم کچھ دوست جو 1992 کے بعد جماعتی سیاست سے کنارہ کش ہو گئے تھے ہم نے بھی اپنی استعداد کے مطابق مختلف شکلوں میں ریاست کی آزادی اور شناخت کو تقویت پہنچانے کے لیے کام جاری رکھا ۔ حالیہ کچھ عرصے میں مقامی اور عالمی سطح پر رونما ہونے والی مختلف تبدیلیوں کے پیش نظر ہم نے سوچا کہ برطانوی معاشرے میں مختلف حیثیتوں سے مختلف سطحوں پر کام کر کے ہم نے جو کچھ سیکھا ہے اس کو ہمیں کسی نہ کسی سیاسی تنظیم کو منتقل کرنا چاہیے۔ اس کے لیے ہمارے سامنے مختلف راستے موجود تھے لیکن ہم نے لبریشن فرنٹ کا انتخاب کیا ۔ کیونکہ ہمارے خیال میں ہمارے لیے یہ بہترین پلیٹ فارم ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم دوسری آزادی پسند تنظیموں کو کم اہمیت دیتے ہیں۔ بلکہ اس لیے کہ نے اس جماعت کے اندر ماضی میں کام کیا ہے اور اس وقت ریاست کے جو حالات ہیں ان میں فرنٹ دیگر آزادی پسندوں کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور یہی ہمارا بنیادی مقصد ہے فرنٹ میں شامل ہونے کا۔ ہم چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ آزادی پسند تنظیموں کو ایک مشترکہ پروگرام کو عوام تک پہنچانے کے لیے قریب لایا جائے ۔ اس کے لیے لبریشن فرنٹ کے اندر خواہش بھی موجود ہے اور اس پر کام بھی ہو رہا ہے۔ ہم اس میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کا ارادہ لے کر آئے ہیں۔ اس کے لیے ایک جامع پروگرام۔ حکمت عملی اور لائحہ عمل جماعت کی اعلیٰ قیادت کی رہنمائی اور منظوری سے جلد ہی پیش کیا جائے گا۔ ہمارے خیال میں ریاست کے مختلف حصوں اور جماعت کے مختلف ذونوں بشمول تارکین وطن کے اپنے اپنے مخصوص حالات ہیں اور لائحہ عمل اور حکمت عملی ان کے مطابق ہی ترتیب دی جانی چاہیے۔ اس حوالے سے کچھ مخصوص پروجیکٹس پر برطانیہ میں فرنٹ کی مجلس عمل اور مرکزی قیادت سے ہمارے بہت ہی مفید بات چیت ہوئی ہے اور انشااللہ جلد ہی ان پر کام شروع کر دیا جائے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ابلاغ سے متعلق ٹیکنالوجی میں ہونے والی انقلابی ترقیوں کے نتیجے میں ہم آزادی کی جدوجہد کو برطانیہ سے نئ جدت کے ساتھ شروع کر سکتے ہیں،ہمارے خیال میں تارکین وطن نے بے شمار مشکلات اور مسائل کے باوجود کشمیر کی آزادی کے لیے قابل قدر کردار ادا کیا ہے اور کر رہے ہیں۔ ہم اس حقیقت کا ادراک بھی رکھتے ہیں کہ برطانیہ، یورپ، مشرق وسطیٰ ، کینڈا اور امریکہ میں موجود تارکین وطن کشمیریوں کو مسئلہ کشمیر کے علاوہ بھی بہت سے مسائل کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود ایک بہت بڑی تعداد آزادی کی جدوجہد کے لیے وقت اور وسائل کے ذریعے وطن کی آزادی کی جدوجہد میں شریک ہے۔ اس میں اس وقت خاص طور سے وہ نوجوان پیش پیش ہیں جو حال ہی میں کشمیر سے ہجرت کر کے ان ممالک میں آباد ہوئے ہیں ۔ ان کا جذبہ اور توانائیاں یہاں قائم تنظیموں کا انتہائی قیمتی اثاثہ ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اپنے تجربے اور علم کو ان تک منتقل کر کے ان کے کام کو مزید موثر بنایا جا سکتا ہے اور نہ صرف مسئلہ کشمیر بلکہ یہاں پر درپیش مسائل کے حل کی جدوجہد کو فروغ دے کر فرنٹ کو یہاں جدوجہد کی مختلف شکلوں اور دائروں سے جوڑ کر ایک عوامی تحریک بنایا جا سکتا ہے۔پریس کانفرنس میں چار مطالبات پیش کیے گئے جس کے مطابق کشمیر کے تمام حصوں سے افواج کا انخلا کیا جائے جیسا کے اقوام متحدہ کی قراردادوں میں وعدہ کیا گیا ہے ۔ بھارت بین الاقوامی اداروں کو کشمیر جانے کی اجازت دے تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات ہو سکیں ۔ کنٹرول لائن کے دونوں اطراف فائرنگ کے تبادلے کو بند کیا جائے کیونکہ خون کشمیریوں کا بہہ رہا ہے ۔ کالعدم تنظیموں کو کشمیر میں کام کرنے سے روکا جائے اور حافظ سعید جیسے کرداروں کو کشمیر میں متعارف نہ کرایا جائے ۔ لبریشن فرنٹ کے چئیرمین یسین ملک کو سفری دستاویزات دی جائیں تاکہ بیرون ملک ان کو علاج کی سہولت میسر ہو سکے ۔ گلگت بلتستان میں ریاستی تشخص کو بحال کیا جائے . اس پریس کانفرنس میں لبریشن فرنٹ برطانیہ کے صدر صابر گل ، تحسین گیلانی ، پروفیسر عظمت خان ، سردار امجد ، شکیل مرزا ، ابرار نثار،کونسلریونس چوھدری‫کونسلز اللہ داد،لیاقت لون ،خواجہ کبیر ،احسن انصاری ، معصوم انصاری، چوھدری اشرف،اسلم مرزا ، ناظم بھٹی ، ضیا احمد ،فرید ایاز ، ساجد حسین ، عرفان احمد ، عمران بزمی ، محمد شفیق ،ظفر محمود ،سکندر خان ،چوہدری شبیر ،صغیر احمد اور دیگر موجود تھے ۔خصوصی رپورٹ:فیاض بشیر