مقبول خبریں
روہنگیا مسلمانوں کی مذہب کے نام پر نسل کشی قابل قبول نہیں: افضل خان
اوورسیز پاکستانی کا ایک کروڑ روپے مالیت کا مکان ناجائز قبضہ سے چھڑالیاگیا
ڈاکٹر افضل جاوید ورلڈ سائیکائیٹرک ایسوسی ایشن (WAP) کے صدر منتخب
ہر ادارہ اپنے دائرے میں کام کرے تو ملک ترقی کرے گا: وزیر داخلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبرکیخلاف مکمل ہڑتال، زبردست احتجاجی مظاہرے
لوٹن ٹائون ہال میں ادبی بیٹھک، لارڈ قربان نے صدارت کی معروف شعرا کرام کی شرکت
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
پاکستانی کمیونٹی سنٹر مانچسٹر میں کبوتر پروری کا سالانہ کنونشن، تقسیم انعامات کی تقریب
مودی کی سبکی
پکچرگیلری
Advertisement
بریڈ فورڈ کی ڈائری
میں نے بڑی کوشش کی ، بار بار ہاتھ کھڑا کیا لیکن شاید قونصل جنرل نے میرے سوال کو کوئی اہمیت نہ دینا ہی مناسب جانا اور میری التجا رد کر دی گئی ، شاید میں جو سوال کرنا چاہتا تھا اس کی تلخی پوری طرح میرے چہرے پر پھیل چکی تھی اور اسے دیکھتے ہی مجھے موقع نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ۔ جناب ہائی کمشنر نے بات ہی کچھ ایسی کہی تھی کہ چہرے پر ناگواری اور تلخی کے تاثر کو ابھرنا تھا یہ جناب ہائی کمشنر ابن عباس کے دورہ بریڈ فورڈ کے دوران قونصل خانہ میں بلائے گئے ایک کمیونٹی اجلاس کا قصہ ہے ۔دیے گئے وقت سے ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہونے والے اس اجلاس میں قونصلر جنرل احمد امجد علی نے مقامی پاکستانی کمیونٹی کو اس کی خدمات اور پاکستان سے محبت کا ذکر کرتے ہوئے مائیک ہائی کمشنر کے سپرد کر دیا کہ کمیونٹی کے نمائندے ان ہی کی بات چیت سننے کو آئے تھے ہائی کمشنر نے مائیک سنبھالتے ہی پاکستانیوں سے کہا کہ آج کا ڈان ضروری پڑھئے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہاں کی پاکستانی کمیونٹی کے بچے تعلی میدان میں بنگالی بچوں (بنگلہ دیش ) سے بھی پیچھے رہ گئے ہیں ۔ یہاں تک تو شاید ٹھیک ہوتا لیکن جناب ہائی کمشنر نے جس طنز اور تحقیر سے بنگالی بچوں کا ذکر کیا وہ افسوسناک ہی نہیں شرمناک بھی ہے ، یہی بات کہیں بہتر انداز میں کہی جا سکتی تھی تعلیم کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے بنگالی بچوں پر رشک کرتے ہوئے اپنے بچوں کو اسی راہ پر چلنے کی تلقین تو کی جا سکتی ہے لیکن یہ تاثر دینا کہ یہ بچے ہمارے بچوں سے کسی طرح کم ہیں کوئی مناسب انداز نہیں یہ اندنز تو ان پنجابی شاونسٹ کا تھا جن کی بنائی گئی پالیسیوں اور انداز حکمرانی کے باعث مشرقی پاکستان نے خود کو بنگلہ دیش میں تبدیل کر لیا قدرت اللہ شہاب ایسے ہی بیرو کریٹس کا ذکر کرتے ہوئے ایوب خان کابینہ کے اجلاس کی رودار لکھتے ہوئے بتاتے ہیں کہ امریکہ سے آئے ہوئے سبٹری سامان کی دونوں صوبوں میں تقسیم کے بارے میں بات چیت ہو رہی تھی تو بنگالی وزراء کے مطالبہ کے جواب میں ہمارے ایک وزیر نے مسخرانہ انداز میں کہا کہ آپ کو اس کی کیا ضرورت آپ تو کیلے کے چھلکے سے بھی کام چلا سکتے ہیں ۔ یہی وہ رویہ ہے یہی وہ سوچ اور انداز ہے جس نے بنگلہ دیش کی بنیاد رکھی ، آپ کو یاد ہو گا کہ بنگلہ دیش بننے سے قبل ہم کسی نہ کسی بہانے مشرقی پاکستان کو یہ جتاتے رہتے تھے کہ وہاں آئے روز آنے والے طوفانوں کے باعث ہمارے لئے نقصان ہی نقصان ہے مشرقی پاکستان ہمیں اتنا دیتا نہیں جتنا اس پر خرچ کر دینا پڑتا ہے ، ہمیں یہ بھی یقیناً یاد ہو گا کہ 71ء میں جب مشرقی پاکستان نے اپنا راستہ بدلتے ہوئے خود کو بنگلہ دیش کہنا شروع کر دیا تو بنگلہ دیش کی کرنسی ٹکا کی کیا مالیت تھی اور روپیہ کس سطح پر کھڑا تھا آج آپ مڑ کر دیکھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ مختلف شعبوں میں ترقی کے اعتبار سے بنگلہ دیش آپ سے کئی قدم آگے ہے بنگالی ایک محنتی قوم ہے جس نے اپنی جہد مسلسل سے مسلم لیگ قائم کی اور پھر اس پلٹ فارم سے پاکستان کے قیام کی جنگ میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا آج اگر انہوں نے اپنے راستے جدا کر لئے ہیں تو ان کی تذلیل نہ کیجئے اگر وہ برطانی میں آباد پاکستانی بچوں سے آگے ہیں تو ہمیں بھی ان ہی کے بنائے ہوئے راستہ پر چل کر اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کو ٹھیک کرنا ہو گا اور اپنے دماغ سے نکالنا ہو گا کہ ہم دوسروں سے بہتر ہیں ، پیغام بھی یہی ہے اور حکم بھی یہی کہ اس کی نظر میں سب برابر ہے اور رنگ ، نسل یا قد کی بنا پر کسی کو کسی دوسرے پر فوقیت نہیں دی جا سکتی ۔