مقبول خبریں
خان بہادر خان کی مقبول بٹ شہید بارے نازیبا زبان انکی سوچ کی عکاسی ہے:سردار امجد اشرف
قیصر عباس کا مہتاب عباسی کی والدہ اور مبین چوہدری کے والد کی وفات پر اظہار افسوس
کشمیری نژاد برطانوی شہری بیرسٹر فیاض افضل نےبحیثیت ڈسٹرکٹ جج عہدے کا حلف اٹھا لیا
چوہدری نثار انسان بنیں،سب کو مل کر دہشت گردی کا سامنا کرنا ہو گا:بلاول بھٹو زرداری
مقبوضہ کشمیر:بھارتی پولیس کے کیمپ پر حملہ،عوام نے محاصرہ کرنے والی فوج کو بھگا دیا
وہ وقت دور نہیں جب کشمیری حق خود ارادیت ضرور حاصل کرینگے:چوہدری بشیر رٹوی، شبیر ملک
چوہدری پرویز کاوزیر حکومت آزاد کشمیر چوہدری محمد سعید کے اعزاز میں استقبالیہ
یورپین پارلیمنٹ نے جارحیا کے شہریوں کیلئے ویزافری تجویز کی مشروط منظوری دیدی
بریڈ فورڈ کی ڈائری
پکچرگیلری
Advertisement
سید حسین شہیدسرورکا ڈاکٹرحبیب بٹ کے اعزازمیں عشائیہ ، کشمیرسمیت مختلف موضوعات پرتبادلہ خیال
لوٹن:ممتازسیاسی وسماجی شخصیت سید حسین شہیدسرور ایڈوکیٹ نے گذشتہ روزسعودی عرب میں مقیم آزادکشمیر کوٹلی کے ماہرسرجن ڈاکٹرحبیب بٹ کے اعزازمیں یہاں اپنی رہائشگاہ پر عشائیہ دیا۔اس موقع پر راجہ مشتاق خان ایڈوکیٹ، چوہدری فاروق اعظم ایڈوکیٹ، سابق میئرکونسلر ریاض بٹ، سابق میئرراجہ وحیداکبر، کونسلر راجہ اسلم خان، چوہدری محمد شریف، ڈاکٹرگل زمان بٹ، عبدالقدیربھٹی، مرزاعرفان جلال، پیرسیدمحمود محی الدین ، پیرمحمود شاہ، صابرملک، امیرقیصر دائود ایڈوکیٹ، صادق راجہ، تیمورلون، ڈاکٹراقبال حسین چوہدری ، ملک مسعود راناایڈوکیٹ اور شاہدحسین سید موجودتھے۔اس دوران پاکستان اور آزادکشمیرمیں صحت عامہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ سید حسین شہید سرورنے بتایاکہ پاکستان میں سرکاری ہسپتالوں کی حالت انتہائی نگفتہ بہ ہے ۔ مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے اورہسپتالوں کے عملے کے طرف سے ان پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی۔اس کے علاوہ نجی ہسپتالوں اورڈاکٹروں کامعاوضہ عام آدمی کی پہنچ سے دورہے۔ سرجن ڈاکٹر حبیب بٹ نے کہاکہ پاکستان میں دیگرشعبوں کی طرح صحت کے شعبے میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ صحت لوگوں کی بنیادی ضرورت ہے لیکن پاکستان اور آزادکشمیرمیں زیادہ تر لوگ ان سہولیات سے محروم ہیں۔تقریب کے دوران مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پر بھی تبادلہ کیاگیا اور بھارتی مظالم کا شکارمظلوم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہارکیاگیا۔سیدحسین شہید سرورنے کہاکہ بھارت نے گذشتہ سات عشروں سے کشمیریوں کے بنیادی حقوق غصب کئے ہوئے ہیں اوروہ خاص طورپرکشمیریوں کا حق خودارایت دینے سے انکاری ہے۔ اپنے حقوق کے لئے احتجاج کرنے والے نہتے کشمیریوں پر گولیاں چلائی جاتی ہیں۔ عورتیں اور بچے بھی بھارتی مظالم سے محفوظ نہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ کشمیریوں پرمظالم بند کروائے اور مسئلہ کشمیرکے پرامن اور دیرپاحل کے لئے کردار اداکرے۔