مقبول خبریں
چوہدری ذوالفقار کا ساتھیوں سمیت مسلم کانفرنس چھوڑ کرن لیگ آزاد کشمیر میں شامل ہونے کا اعلان
پاکستان پریس کلب برطانیہ کی اسلام کے نام پردہشت گردانہ کاروائیوں کی بھرپور مذمت
پیرمحمد علائوالدین صدیقی نے رسولؐ کے اسوہ حسنہ کے مطابق دین کی خدمت کی:علماکرام
ڈاکٹر عاصم اور ایان کی ضمانتیں، شرجیل کی واپسی ڈیل کا نتیجہ ہیں: عمران خان
بھارتی فورسز کے ہاتھوں4 بے گناہ کشمیریوں کی شہادت پر ریاست بھرمیں ہڑتال
صدر برطانیہ بشیر رٹوی نےجوذمےداری سونپی ہے اس پر پورا اتروں گا: راجہ یعقوب
ڈپٹی چیف آرگنائزر مسلم کانفرنس سردار عثمان علی کے اعزاز میں عشائیہ تقریب کا اہتمام
آزاد کشمیر کو صوبے کی تشکیل کا اختیار پاکستان کے پاس نہیں: پیر صدر الدین راشدی
بریڈ فورڈ کی ڈائری
پکچرگیلری
Advertisement
سید حسین شہیدسرورکا ڈاکٹرحبیب بٹ کے اعزازمیں عشائیہ ، کشمیرسمیت مختلف موضوعات پرتبادلہ خیال
لوٹن:ممتازسیاسی وسماجی شخصیت سید حسین شہیدسرور ایڈوکیٹ نے گذشتہ روزسعودی عرب میں مقیم آزادکشمیر کوٹلی کے ماہرسرجن ڈاکٹرحبیب بٹ کے اعزازمیں یہاں اپنی رہائشگاہ پر عشائیہ دیا۔اس موقع پر راجہ مشتاق خان ایڈوکیٹ، چوہدری فاروق اعظم ایڈوکیٹ، سابق میئرکونسلر ریاض بٹ، سابق میئرراجہ وحیداکبر، کونسلر راجہ اسلم خان، چوہدری محمد شریف، ڈاکٹرگل زمان بٹ، عبدالقدیربھٹی، مرزاعرفان جلال، پیرسیدمحمود محی الدین ، پیرمحمود شاہ، صابرملک، امیرقیصر دائود ایڈوکیٹ، صادق راجہ، تیمورلون، ڈاکٹراقبال حسین چوہدری ، ملک مسعود راناایڈوکیٹ اور شاہدحسین سید موجودتھے۔اس دوران پاکستان اور آزادکشمیرمیں صحت عامہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ سید حسین شہید سرورنے بتایاکہ پاکستان میں سرکاری ہسپتالوں کی حالت انتہائی نگفتہ بہ ہے ۔ مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے اورہسپتالوں کے عملے کے طرف سے ان پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی۔اس کے علاوہ نجی ہسپتالوں اورڈاکٹروں کامعاوضہ عام آدمی کی پہنچ سے دورہے۔ سرجن ڈاکٹر حبیب بٹ نے کہاکہ پاکستان میں دیگرشعبوں کی طرح صحت کے شعبے میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ صحت لوگوں کی بنیادی ضرورت ہے لیکن پاکستان اور آزادکشمیرمیں زیادہ تر لوگ ان سہولیات سے محروم ہیں۔تقریب کے دوران مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پر بھی تبادلہ کیاگیا اور بھارتی مظالم کا شکارمظلوم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہارکیاگیا۔سیدحسین شہید سرورنے کہاکہ بھارت نے گذشتہ سات عشروں سے کشمیریوں کے بنیادی حقوق غصب کئے ہوئے ہیں اوروہ خاص طورپرکشمیریوں کا حق خودارایت دینے سے انکاری ہے۔ اپنے حقوق کے لئے احتجاج کرنے والے نہتے کشمیریوں پر گولیاں چلائی جاتی ہیں۔ عورتیں اور بچے بھی بھارتی مظالم سے محفوظ نہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ کشمیریوں پرمظالم بند کروائے اور مسئلہ کشمیرکے پرامن اور دیرپاحل کے لئے کردار اداکرے۔