مقبول خبریں
برطانوی معاشرے میں رہتے ہوئے تمام تہوار میں حصہ لینا چاہئے: افضل خان
سپینش شہریت کے حامل سائنسدانوں کی قدرتی آفات پر ریسرچ
پاکستان میں فٹبال کے فروغ کیلئے انٹرنیشنل سوکا فیڈریشن کا قیام، ٹرنک والا فیملی کو خراج تحسین
لودھراں نے ثابت کیا فیصلے امپائر کی انگلی نہیں عوام کے انگوٹھے کرتے ہیں:نواز شریف
بھارتی ریاستی دہشتگردی کیخلاف مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال، تعلیمی ادارے بند
کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کو رکوانے کے سلسلہ میں پروگرام کا انعقاد
اوورسیز پاکستانیز ویلفیر کونسل کے زیراہتمام یوم یکجہتی کشمیر پر کار ریلی کا انعقاد
راجہ نجابت اور ان کی ٹیم کامسئلہ کشمیرپر متحرک کردار قابل ستائش ہے: سٹوورٹ اینڈریو
کیا یورپ ٹوٹ رہا ہے ؟
پکچرگیلری
Advertisement
سید حسین شہیدسرورکا ڈاکٹرحبیب بٹ کے اعزازمیں عشائیہ ، کشمیرسمیت مختلف موضوعات پرتبادلہ خیال
لوٹن:ممتازسیاسی وسماجی شخصیت سید حسین شہیدسرور ایڈوکیٹ نے گذشتہ روزسعودی عرب میں مقیم آزادکشمیر کوٹلی کے ماہرسرجن ڈاکٹرحبیب بٹ کے اعزازمیں یہاں اپنی رہائشگاہ پر عشائیہ دیا۔اس موقع پر راجہ مشتاق خان ایڈوکیٹ، چوہدری فاروق اعظم ایڈوکیٹ، سابق میئرکونسلر ریاض بٹ، سابق میئرراجہ وحیداکبر، کونسلر راجہ اسلم خان، چوہدری محمد شریف، ڈاکٹرگل زمان بٹ، عبدالقدیربھٹی، مرزاعرفان جلال، پیرسیدمحمود محی الدین ، پیرمحمود شاہ، صابرملک، امیرقیصر دائود ایڈوکیٹ، صادق راجہ، تیمورلون، ڈاکٹراقبال حسین چوہدری ، ملک مسعود راناایڈوکیٹ اور شاہدحسین سید موجودتھے۔اس دوران پاکستان اور آزادکشمیرمیں صحت عامہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ سید حسین شہید سرورنے بتایاکہ پاکستان میں سرکاری ہسپتالوں کی حالت انتہائی نگفتہ بہ ہے ۔ مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے اورہسپتالوں کے عملے کے طرف سے ان پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی۔اس کے علاوہ نجی ہسپتالوں اورڈاکٹروں کامعاوضہ عام آدمی کی پہنچ سے دورہے۔ سرجن ڈاکٹر حبیب بٹ نے کہاکہ پاکستان میں دیگرشعبوں کی طرح صحت کے شعبے میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ صحت لوگوں کی بنیادی ضرورت ہے لیکن پاکستان اور آزادکشمیرمیں زیادہ تر لوگ ان سہولیات سے محروم ہیں۔تقریب کے دوران مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پر بھی تبادلہ کیاگیا اور بھارتی مظالم کا شکارمظلوم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہارکیاگیا۔سیدحسین شہید سرورنے کہاکہ بھارت نے گذشتہ سات عشروں سے کشمیریوں کے بنیادی حقوق غصب کئے ہوئے ہیں اوروہ خاص طورپرکشمیریوں کا حق خودارایت دینے سے انکاری ہے۔ اپنے حقوق کے لئے احتجاج کرنے والے نہتے کشمیریوں پر گولیاں چلائی جاتی ہیں۔ عورتیں اور بچے بھی بھارتی مظالم سے محفوظ نہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ کشمیریوں پرمظالم بند کروائے اور مسئلہ کشمیرکے پرامن اور دیرپاحل کے لئے کردار اداکرے۔