مقبول خبریں
المدثر ٹرسٹ کا مقصد معذور بچوں کو معاشرے کا مفید شہری بنانا ہے: سید مدثر حسین شاہ
گھرکی ٹرسٹ ٹیچنگ ہسپتال غریب افراد کو علاج معالجہ کی مفت سروس فراہم کرتا ہے:محمد نعیم
پاکستانی عوام نے 14مئی کے ملین مارچ کے حق میں فیصلہ دے دیا :پی ایس پی برطانیہ
نواز شریف نے مایوس کیا، ایران کیخلاف فریق نہیں بننا چاہیے تھا: عمران خان
نہتے کشمیریوں سے نمٹنے کیلئے سینٹرل ریزو پولیس فورس کے اہلکاروں کو خصوصی ٹریننگ
سید حسین شہیدسرورکا سیکرٹری تعلیم آزادکشمیرسیدشاہد محی الدین قادری کے اعزازمیں عشائیہ
آکسفورڈ:پاکستانی کمیونٹی کی جمیلہ آزاد اور ثوبیہ آفریدی لیبرپارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب
کشمیر مہم: تحریک حق خود ارادیت یورپ نے پارلیمانی امیدواروں سے دستخط لینے شروع کر دیئے
اپنی آنکھیں کھول کے رکھنا طغیانی کے موسم میں
پکچرگیلری
Advertisement
سید حسین شہیدسرورکا ڈاکٹرحبیب بٹ کے اعزازمیں عشائیہ ، کشمیرسمیت مختلف موضوعات پرتبادلہ خیال
لوٹن:ممتازسیاسی وسماجی شخصیت سید حسین شہیدسرور ایڈوکیٹ نے گذشتہ روزسعودی عرب میں مقیم آزادکشمیر کوٹلی کے ماہرسرجن ڈاکٹرحبیب بٹ کے اعزازمیں یہاں اپنی رہائشگاہ پر عشائیہ دیا۔اس موقع پر راجہ مشتاق خان ایڈوکیٹ، چوہدری فاروق اعظم ایڈوکیٹ، سابق میئرکونسلر ریاض بٹ، سابق میئرراجہ وحیداکبر، کونسلر راجہ اسلم خان، چوہدری محمد شریف، ڈاکٹرگل زمان بٹ، عبدالقدیربھٹی، مرزاعرفان جلال، پیرسیدمحمود محی الدین ، پیرمحمود شاہ، صابرملک، امیرقیصر دائود ایڈوکیٹ، صادق راجہ، تیمورلون، ڈاکٹراقبال حسین چوہدری ، ملک مسعود راناایڈوکیٹ اور شاہدحسین سید موجودتھے۔اس دوران پاکستان اور آزادکشمیرمیں صحت عامہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ سید حسین شہید سرورنے بتایاکہ پاکستان میں سرکاری ہسپتالوں کی حالت انتہائی نگفتہ بہ ہے ۔ مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے اورہسپتالوں کے عملے کے طرف سے ان پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی۔اس کے علاوہ نجی ہسپتالوں اورڈاکٹروں کامعاوضہ عام آدمی کی پہنچ سے دورہے۔ سرجن ڈاکٹر حبیب بٹ نے کہاکہ پاکستان میں دیگرشعبوں کی طرح صحت کے شعبے میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ صحت لوگوں کی بنیادی ضرورت ہے لیکن پاکستان اور آزادکشمیرمیں زیادہ تر لوگ ان سہولیات سے محروم ہیں۔تقریب کے دوران مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پر بھی تبادلہ کیاگیا اور بھارتی مظالم کا شکارمظلوم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہارکیاگیا۔سیدحسین شہید سرورنے کہاکہ بھارت نے گذشتہ سات عشروں سے کشمیریوں کے بنیادی حقوق غصب کئے ہوئے ہیں اوروہ خاص طورپرکشمیریوں کا حق خودارایت دینے سے انکاری ہے۔ اپنے حقوق کے لئے احتجاج کرنے والے نہتے کشمیریوں پر گولیاں چلائی جاتی ہیں۔ عورتیں اور بچے بھی بھارتی مظالم سے محفوظ نہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ کشمیریوں پرمظالم بند کروائے اور مسئلہ کشمیرکے پرامن اور دیرپاحل کے لئے کردار اداکرے۔