مقبول خبریں
پاکستان کے نظریاتی استحکام کیلئے مسلم لیگ کو منظم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے:فدا حسین کیانی
گوادر چیمبر آف کامرس کے نومنتخب صدر گوادر رئیل اسٹیٹ کیلئے اثاثہ ثابت ہونگے: ذیشان چوہدری
کشمیری آزادی کی جنگ لڑ رہےہیں ،یہ انکا پیدائشی حق ہے:چوہدری جاوید ،چوہدری یعقوب
نواز شریف کے دوبارہ پارٹی صدر بننے کی راہ ہموار، شق 203 سینیٹ سے بھی منظور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی فائرنگ، مزید 2 نوجوان شہید
کونسلر وحید اکبر کا آزاد کشمیر کے جسٹس شیراز کیانی کے ا عزاز میں عشائیے کا اہتمام
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
ڈاکٹر سجاد کریم کی قیادت میں یورپی پارلیمنٹ کے وفد کا جارحیا پہنچنے پرپرتپاک استقبال
کرپٹ خان
پکچرگیلری
Advertisement
میں بتائوں!!!!!!
میری چڑیا، تمہارا کبوتر،ہماری بلی اور تمہاری مینا، آخر ہم کب تک اظہار رائے کے نام پران جانوروں اور پرندوں سے راہنمائی لیتے رہیں گے۔ وہ کونسا قانون ہے جو آپ سب کو ہر منظر میری آنکھوں سے میرے مطابق دیکھنے پر مجبور کرتا ہے۔اگر قدرت کی مہربانی سے میرے ہاتھ میں قلم آگیا اور میری طرح کے کچھ اور لوگوں کے ہاتھ میں مائیک، تو اس کا یہ مطلب بالکل بھی نہیں کہ ہم رہبر و راہنما بن گئے۔ آزادیء اظہار کا یہ مطلب کس کتاب میں لکھا ہے کہ منہ میں جو کچھ بھی آئے بغیر سوچے سمجھے اگلتے چلے جائو۔ کوئی بات راز رہے نہ ہی کوئی حکمت عملی پوشیدہ۔سڑک کنارے چائے کا سٹال چلانے والا بھی اپنے گاہکوں اور ہمسایہ دکانداروں کو اپنی ہر بات نہیں بتا دیتا۔سابقہ آرمی چیف جنرل(ر) راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ سے کئی ماہ پہلے سے لے کر نئے آرمی چیف جنرل باجوہ کے کمان سنبھالنے تک ہمارے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے تجزیوں، اندازوں، اندیشوں، امیدوں اور امکانات کی جو بے ہنگم سی نمائش لگائے رکھی اس کی مثال تہذیب یافتہ قوموں کی تاریخ میں شاید بہت مشکل سے ملے۔ہر شخص اپنے پڑھنے اور سننے والوں کو اسی بات پر قائل کرنے میں لگا رہا کہ جو معلومات میرے پاس ہیں کسی اور کے پاس نہیں،میرے سے بھی گہرے مراسم ہیں اور حکومتی ارباب اختیار سے بھی گہری قربت۔ جنرل باجوہ کی تعیناتی کے اعلان کے بعد سے ہر تجزیہ نگار اسی کوشش میں لگا ہوا ہے کہ اس کے سننے والے کسی طرح یہ بات مان لیں کہ میں نے تو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ فوج کی قیادت جنرل باجوہ کے سوا کسی اور کو مل ہی نہیں سکتی۔ایک صاحب نے تو انتہا ہی کردی، کہنے لگے کہ جنرل باجوہ، کسی دور میں وزیر اعظم کے مشیر جناب عرفان صدیقی سے اردو پڑھتے رہے ہیں اور جناب فواد حسن فود کے ہم جماعت بھی رہے ہیں، اس لیے ان کو فوج کی سپہ سالاری دی گئی ہے۔ یہ کیا مذاق ہے کہ آپ ایک جنرل کی تمام صلاحیتوں اور ساری قابلیت کو حوالوں کی نذر کردیں۔لاکھوں کی فوج میں سے اگر گنتی کے چند لوگ جنرل کے عہدے تک پہنچتے ہیں تو اس کامیابی کے پس منظر میں ان کی برسوں کی محنت اور امتیازی قابلیت کا مرکزی حصہ ہوتا ہے، غیر معمولی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے بغیر اس منصب تک پہنچنا کسی طور پر ممکن ہی نہیں ہوتا، اور پھر ان غیرمعمولی صلاحیت کے حامل گنتی کے چند افراد میں سے کسی ایک کو فوج کا سپہ سالار بنایا جاتا ہے تو وہ بلاشبہ ان اعلی ترین لوگوں میں کسی نہ کسی حوالے سے بہترین ضرور ہوتا ہے۔مگر افسوس کہ کوئی پوچھ گچھ نہ ہونے کے باعث، تجزیہ نگاری کے شوقین یہ افراد ہمیں اصول قانون اور ضابطوں کی دھجیاں بکھیرتے دکھائی دیتے ہیں۔آج سے بیس پچیس سال پہلے،ہم سنا کرتے تھے کہ فوج اور عدلیہ اور اسی طرح کے چند اور اداروں کو بارے میں عوامی گفتگو کی اجازت نہیں ہے، لیکن اس دور میں بھی خود کو ’ انقلابی‘ کہلوانے کے خواہشمند چند لوگ دبے چھپے لفظوں میں کہا کرتے تھے کہ جمہوریت میں کسی بھی ادارے کو مقدس گائے نہیں ہونا چاہیے۔جمہوریت کا اصل حسن ہی یہی ہے کہ سب کہنے کی آزادی ہو۔افغانستان سے روسی افواج کے انخلاء کے بعد جب امریکی بلاک میں شامل ممالک کو اندازہ ہوا کہ پاکستانی فوج کی مدد سے وہ کام ہوگیا جو کسی طور ممکن ہی نہیں تھا تو ان ممالک کو پاکستانی فوج سے خوف محسوس ہونے لگا۔دنیا کی اس بہادر ترین فوج کو غیر مقبول بنانے کے لیے ایک باقاعدہ منصوبے کا آغاز کیا گیا جس کا بنیادی نکتہ ایک ہی تھا کہ فوج کو متنازعہ بنادیا جائے۔ چنانچہ ان لوگوں گو تھپکی دینے کا کام شروع کیا گیا جو فوج کے تقدس کے پہلے ہی سے مخالف تھے۔وہ فوج جو پاکستان کی سلامتی کے لیے مسلسل جانوں کی قربانی دے رہی تھی اسے لوگوں میں موضوع بحث بنا دیا گیا۔ بحث میں اچھے حوالے بھی سامنے آتے ہیں اور برے حوالے بھی۔ قصہ مختصر یہ کہ فوج ’ ڈسکس‘ ہونے لگی۔ یار لوگ فوج کے ساتھ منسلک’ مقدس گائے‘ کا ٹیگ اتارنے میں کامیاب ہو گئے۔ شایدیہی پاکستان دشمن قوتوں کی خواہش بھی تھی کہ فوج کو عوامی موضوع بنا دیا جائے۔فوج کی پوسٹنگ، ٹرانسفرز، ترقیوں اور انکوائیریوں سے لے کر کور کمانڈرز کانفرنس تک کچھ بھی تجزیہ کاروں کی دسترس سے باہر نہیں رہا۔ہمیں یہ بات بھی پیش نظر رکھنا ہوگی کہ اب ہماری بولی ہوئی کوئی بھی بات صرف ہمارے اپنے لوگوں کی سماعتوں تک محدود نہیں رہتی، سیٹیلائٹ کے ذریعے ہم سب ایک گلوبل ویلیج کا حصہ بن چکے ہیں۔ہمیں محتاط رہنا ہوگا۔آرمی چیف کون بنتا ہے، یہ معاملہ فوج کا ایک انتہائی انتظامی نوعیت کا معاملہ ہے۔موجود سپہ سالار کا پروٹوکول کیا ہوتا ہے اور نامزد آرمی چیف کا پروٹوکول کیا، اس معاملے کا عوام اور ٹی وی اینکرز سے کوئی بھی تعلق نہیں ہوتا۔کون کسے کہاں سلوٹ کرے، کس سے گلے ملے اور کس کو کیسی کرسی پر بٹھائے، یہ عوامی معاملے بالکل بھی نہیں۔جو فوج ساری قوم کے مفادات کی حفاظت کی صلاحیت رکھتی ہے اسے اپنے حقوق اور پروٹوکول کا بھی بخوبی علم ہوتا ہے۔اگر ہمیں اپنے ملک اور اپنی قوم کو ایک باعزت مقام دینا ہے اور اگر ہمیں اپنی کوئی اچھی شناخت عزیز ہے تو ہمیں ٹی وی چینلوں پر ہر شام ہونے والے’ میں بتائوں‘ والے ڈرامے پر پابندی لگانا پڑے گی۔اگر بولنا ہی مجبوری ہے تو پھر بولنے کے لیے ملکی مفادات سے وابستہ بے شمار ،موضوعات ہیں،بول کر روزی کمانے کے لیے قوم کی مٹی پلید کرنے کی بالکل بھی ضرورت نہیں، ان موضوعات پر بات کرلیں جن موضوعات کا تعلق قومی اور ملکی بھلائی سے ہو۔ہمارے سی پیک منصوبے نے دنیا بھر کی نیندیں اڑا رکھی ہیں، عالمی سطح پرپاکستان کی ترقی اور روشن مستقبل کے ضامن اس منصوبے کو ثبوتاژ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔ بلوچوں کو احساس دلایا جارہا ہے کہ گوادر پورٹ ان کے حقوق پر ڈاکے سے کم نہیں۔حال ہی میں ایشین ہئیومن رائٹس کمیشن نے ایک فتنہ پرور قسم کی رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ نیشنل ایکشن پروگرام کی آڑ میںحکومت، ملٹری ادارے اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں بلوچ عوام کے قتل و غارت اور ان کے اغواء میں ملوث ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے لوگوں کو دبانے کے لیے حکومت اور فوجی ادارے ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مذہبی انتہا پسند گروہوں کو کرنے میں مصروف ہیں تاکہ بلوچستان میں ایک نئے سرے سے ایک نئے آپریشن کے لیے جواز پیدا کیا جاسکے۔رات آٹھ سے نو ٹی وی سکرین پر نوٹنکی سجانے والے اگر حکومت اور فوج کے درمیان غلط فہمیاں پھیلانے کی ناکام کوششوں میں اپنا وقت برباد کرنے کی بجائے اور لوگوں میں اپنے تعلقات اور رسائیوں کا پراپگینڈہ کرنے کی بجائے ایسے معاملات پر توجہ دیں جن کا تعلق قومی مفادات سے ہو تو تاریخ ان کا شمار وطن دوستوں میں کرے گی۔