مقبول خبریں
پاکستان کے نظریاتی استحکام کیلئے مسلم لیگ کو منظم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے:فدا حسین کیانی
گوادر چیمبر آف کامرس کے نومنتخب صدر گوادر رئیل اسٹیٹ کیلئے اثاثہ ثابت ہونگے: ذیشان چوہدری
کشمیری آزادی کی جنگ لڑ رہےہیں ،یہ انکا پیدائشی حق ہے:چوہدری جاوید ،چوہدری یعقوب
نواز شریف کے دوبارہ پارٹی صدر بننے کی راہ ہموار، شق 203 سینیٹ سے بھی منظور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی فائرنگ، مزید 2 نوجوان شہید
کونسلر وحید اکبر کا آزاد کشمیر کے جسٹس شیراز کیانی کے ا عزاز میں عشائیے کا اہتمام
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
ڈاکٹر سجاد کریم کی قیادت میں یورپی پارلیمنٹ کے وفد کا جارحیا پہنچنے پرپرتپاک استقبال
کرپٹ خان
پکچرگیلری
Advertisement
کام اور بونگیوں میں فرق ...!
یہ کس قدر مضحکہ خیز بات ہوگی کہ اگر عمران خان یہ بات کہے کہ "میاں نواز شریف نے چونکہ انتخابات میں دھاندلی کی ہے ، ملک و قوم کا پیسہ لوٹا ہے اور ملک کو تنزلی کی طرف لے کر جا رہا ہے (مجھے وزیراعظم نہیں بننے دے رہا) لہذا میں آج سے اپنا نیا پاکستان بناؤں گا اور پُرانے پاکستان سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہوگا"۔ پاکستان پریس کلب یوکے کے ساتھ تو بھائیوں یہی کچھ ہوا ہے ۔ گزشتہ آٹھ سالوں سے الیکشن ہورہے تھے لیکن کچھ دوستوں کو اب یہ احساس ہوا ہے کہ یہ تو بہت غلط ہورہا تھا۔۔۔۔۔ لہذا ہم "اپنا کلب" بنائیں گے اور ان چند دوستوں نے ایسا ہی کیا۔ بجائے اس کے کہ پاکستان پریس کلب یوکے میں اگر واقعی کوئی خرابی تھی تو اس کے اندر رہ کر اُسے دور کرنے کی بات کی جاتی اور الیکشن میں حصہ لے کر اس بات کی مخالفت کی جاتی مگر ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر ہم نے اپنے اتحاد کو پارہ پارہ کردیا۔ بات یہاں ختم نہیں ہوجاتی بلکہ اب اسے محاذ آرائی کی شکل دی جارہی ہے اور پریس کلب یوکے کا مخالف نومولود گروپ اس حوالے سے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کو بھی متنازعہ بنانے کی ناکام کوشش کررہا ہے۔ اس سال اگست میں پاکستان پریس کلب یوکے کے عہدیداروں ںے اس وقت کے صدر مبین چوہدری کی قیادت میں پاکستان کا دورہ کیا اس موقع پر میں بھی پاکستان میں موجود تھا ۔ نیشنل پریس کلب نے وفد کے اعزاز میں ایک عشائیہ تقریب کا بھی اہتمام کیا ۔اس موقع پر نیشنل پریس کلب کے صدر شکیل انجم اور یوکے پریس کلب کے وفد کے درمیان کئی ملاقاتیں بھی ہوئیں اور متذکرہ ایم او یو کے بارے بھی اظہار خیال کیا گیا ۔اس کے علاوہ میرے حوالے سے اس کا ایک بیک گراؤنڈ اور بھی موجود تھا۔ 1991میں جب میں اسلام آباد سے برطانیہ آیا تو رفتہ رفتہ میں نے محسوس کیا کہ یہاں کے پاکستانی نژاد صحافی درمیان میں ہی لٹکے ہوئے ہیں پاکستانی میڈیا کے ساتھ کام کرتے ہیں مگر انہیں وہ مراعات اور سہولتیں میسر نہیں جو کہ پاکستان میں میڈیا سے وابستہ افراد کو ہیں۔چونکہ میں یہاں کسی صحافتی تنظیم کے ساتھ وابستہ نہیں تھا اور مجھے یہاں کوئی بہت زیادہ فعال تنظیم نظر بھی نہیں آئی۔اس لیئے میں اس حوالے کوئی ایسا کردار ادا نہ کرسکا جس سے برطانیہ کے پاکستانی صحافی برادری کو ان کے حقوق حاصل ہوسکتے۔(یہ الگ بات ہے کہ کچھ وی آئی پی قسم کے صحافی انفرادی طور پر اپنے مفادات حاصل کرتے رہے ہیں)۔ اب شکیل انجم کے نیشنل پریس کلب کے صدر بننے کے بعد مجھے نیشنل پریس کلب کا جب برطانیہ کے لیئے نمائیندہ بنایا گیا تو مجھے برطانیہ میں اپنی صحافتی برادری کے لیئے کام کرنے کا موقع ملا اور بارہاں صدر نیشنل پریس کلب سے اس بارے میں گفتگو ہوئی۔اور کچھ عملی طور پر اقدامات اٹھانے کا بھی ارادہ کیا گیا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ دونوں کلبوں کے درمیان مفاہمتی یاداشت پر دستخط کوئی اچانک واقعہ نہیں تھا بلکہ اس حوالے سے پہلے سے بہت سے نکات پائپ لائین میں موجود تھے۔ اب جبکہ معاملات عملدرآمد کی طرف بڑھ رہے ہیں مگر کچھ "نومولود دوستوں" کو "بدہضمی"کی شکایت ہو گئی ہے اور اس وجہ سے انہیں گندی اور بدبودار قسم کی "اُلٹیاں"آنا شروع ہوگئیں ہیں جس کا علاج تجویز کیا جانا بہت ضروری ہوگیا ہے۔میں اپنے ان دوستوں سے التماس کرتا ہوں کہ اُلٹی روکنا اگر آپ کے بس کا روگ نہیں تو برائے مہربانی اسے اپنے تک رکھیں دوسروں کے کپڑے مت خراب کریں۔ اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو پھر ہماری پاس اُلٹیاں روکنے کا "سٹاپر"موجود ہے جس کا استعمال اُلٹی کی طرح بالکل "اُلٹا"ہوتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس کی ضرورت نہیں پڑے گی اور میرے "نومولود" دوست بات کو بخوبی سمجھ جائیں گے اور اپنا علاج خود ہی کرلیں گے۔ میرے بھائیو دودھ اور پانی میں فرق ہوتا ہے جس طرح کام اور بونگیوں میں فرق ہوتا ہے۔