مقبول خبریں
او پی ایف بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین بیرسٹر امجد کا صحافیوں کے اعزاز میں عشائیہ
ہم دھرنوں کے باوجود عوام کی توقعات پر پورا اترے ہیں:میاں نواز شریف
پاک برٹش انٹر نیشنل ٹرسٹ کے چیئرمین چوہدری سرفراز کی جانب سے عشائیہ کی تقریب
چین کی لائٹ انجینئرنگ صنعتوں کی منتقلی سے ڈھائی کروڑ ملازمتیں پیدا ہونگی:وزیر داخلہ
مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج نے کشمیریوں پر زندگی تنگ کر دی،مزید 3بے گناہ شہید
لوٹن ٹائون ہال میں ادبی بیٹھک، لارڈ قربان نے صدارت کی معروف شعرا کرام کی شرکت
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
صدر نارتھ زون ضمیر احمد کی زیرصدارت نیل مسجد (یوکے آئی ایم) میں نورانی محفل کا انعقاد
مودی کی سبکی
پکچرگیلری
Advertisement
کشمیری رہنمائوں عبدالرشید ترابی اور چودھری یسٰین کی ملاقات، لندن مظاہروں بارے گفتگو
سٹوک آن ٹرنٹ: کل جماعتی رابطہ کمیٹی آزاد کشمیر کے کنوینئر و امیر جماعت اسلامی عبدالرشید ترابی اور قانون ساز اسمبلی آزاد جموں کشمیر میں قائد حزب اختلاف و پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما چودھری یسیٰن نے مشترکہ طور پر برطانیہ میں مقیم کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ 27 اکتوبر کو ہندوستانی افواج کے مقبوضہ کشمیر پر جبری قبضہ کیخلاف یوم سیاہ کے موقع پر بھارتی ہائی کمیشن اور 10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں بھرپور طریقے سے شرکت کریں۔ اتوار کے روز چودھری یسٰین کی رہائشگاہ پر ہونے والی ملاقات میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ دونوں مظاہروں کو کامیاب بنانے کیلئے دونوں رہنما مختلف شہروں کا دورہ کریں گے جبکہ عبدالرشید ترابی اور چودھری یسٰین دونوں مظاہروں سے خطاب کریں گے۔دونوں رہنماؤں نے دوران ملاقات گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں اس وقت بھارت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کررہا ہے جبکہ کشمیری عوام انتہائی ثابت قدمی سے بھارتی افواج کے ظلم سہہ رہی ہے اقوام عالم کو اس ظلم اور ذیادتی کا فوری نوٹس لینا چاہئے۔برطانیہ میں مقیم کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے مظلوم بھائیوں کی آواز کو بین الاقوامی برادری تک پہنچانے کے لیے ان دونوں مظاہروں میں بھرپور شرکت کریں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت دنیا کی آنکھوں میں مزید دھول نہیں جھونک سکتا کشمیر کے نوجوان ۔ بوڑھے ۔بچے اور خواتین اپنا آزادی کا حق لینے کے لئے ایک بار پھر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔اب ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم ان کا ساتھ دیں اور اقوام عالم کو بھارت پر دباؤ ڈالنے پر مجبور کریں اور وہ اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم سب متحد ہوں اسی لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان دونوں مظاہروں کو کامیاب کرنے کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے۔