مقبول خبریں
چوہدری ذوالفقار کا ساتھیوں سمیت مسلم کانفرنس چھوڑ کرن لیگ آزاد کشمیر میں شامل ہونے کا اعلان
پاکستان پریس کلب برطانیہ کی اسلام کے نام پردہشت گردانہ کاروائیوں کی بھرپور مذمت
پیرمحمد علائوالدین صدیقی نے رسولؐ کے اسوہ حسنہ کے مطابق دین کی خدمت کی:علماکرام
ڈاکٹر عاصم اور ایان کی ضمانتیں، شرجیل کی واپسی ڈیل کا نتیجہ ہیں: عمران خان
بھارتی فورسز کے ہاتھوں4 بے گناہ کشمیریوں کی شہادت پر ریاست بھرمیں ہڑتال
صدر برطانیہ بشیر رٹوی نےجوذمےداری سونپی ہے اس پر پورا اتروں گا: راجہ یعقوب
ڈپٹی چیف آرگنائزر مسلم کانفرنس سردار عثمان علی کے اعزاز میں عشائیہ تقریب کا اہتمام
آزاد کشمیر کو صوبے کی تشکیل کا اختیار پاکستان کے پاس نہیں: پیر صدر الدین راشدی
بریڈ فورڈ کی ڈائری
پکچرگیلری
Advertisement
کشمیری رہنمائوں عبدالرشید ترابی اور چودھری یسٰین کی ملاقات، لندن مظاہروں بارے گفتگو
سٹوک آن ٹرنٹ: کل جماعتی رابطہ کمیٹی آزاد کشمیر کے کنوینئر و امیر جماعت اسلامی عبدالرشید ترابی اور قانون ساز اسمبلی آزاد جموں کشمیر میں قائد حزب اختلاف و پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما چودھری یسیٰن نے مشترکہ طور پر برطانیہ میں مقیم کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ 27 اکتوبر کو ہندوستانی افواج کے مقبوضہ کشمیر پر جبری قبضہ کیخلاف یوم سیاہ کے موقع پر بھارتی ہائی کمیشن اور 10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں بھرپور طریقے سے شرکت کریں۔ اتوار کے روز چودھری یسٰین کی رہائشگاہ پر ہونے والی ملاقات میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ دونوں مظاہروں کو کامیاب بنانے کیلئے دونوں رہنما مختلف شہروں کا دورہ کریں گے جبکہ عبدالرشید ترابی اور چودھری یسٰین دونوں مظاہروں سے خطاب کریں گے۔دونوں رہنماؤں نے دوران ملاقات گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں اس وقت بھارت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کررہا ہے جبکہ کشمیری عوام انتہائی ثابت قدمی سے بھارتی افواج کے ظلم سہہ رہی ہے اقوام عالم کو اس ظلم اور ذیادتی کا فوری نوٹس لینا چاہئے۔برطانیہ میں مقیم کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے مظلوم بھائیوں کی آواز کو بین الاقوامی برادری تک پہنچانے کے لیے ان دونوں مظاہروں میں بھرپور شرکت کریں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت دنیا کی آنکھوں میں مزید دھول نہیں جھونک سکتا کشمیر کے نوجوان ۔ بوڑھے ۔بچے اور خواتین اپنا آزادی کا حق لینے کے لئے ایک بار پھر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔اب ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم ان کا ساتھ دیں اور اقوام عالم کو بھارت پر دباؤ ڈالنے پر مجبور کریں اور وہ اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم سب متحد ہوں اسی لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان دونوں مظاہروں کو کامیاب کرنے کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے۔