مقبول خبریں
یورپین اسلامک سینٹر کے منتظم اعلیٰ سکالر مولانا محمد اقبال کے والد محترم کی وفات پر اظہار تعزیت
اوورسیز پاکستانیوں کیلئے پنجاب میں سرمایہ کاری کے منافع بخش مواقع ہیں،افضال بھٹی
پاک برٹش انٹر نیشنل ٹرسٹ کے چیئرمین چوہدری سرفراز کی جانب سے عشائیہ کی تقریب
میاں صاحب نظریے کو سمجھتے نہیں، وقت کے ساتھ مؤقف بدلنا نظریہ نہیں ہوتا:بلاول
مقبوضہ کشمیر :بھارتی فوج کے ہاتھوں ایک اور نوجوان شہید،مظاہرے،جھڑپیں
لوٹن ٹائون ہال میں ادبی بیٹھک، لارڈ قربان نے صدارت کی معروف شعرا کرام کی شرکت
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
پاکستان کی سیاسی صورتحال، یورپین یونین جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے : ڈاکٹر سجاد کریم
مودی کی سبکی
پکچرگیلری
Advertisement
کچھ تو کرنا ہوگا
ملائیشیا کو سر لنکن باشندوں کے لیے اپنے دوسرے گھر کی سی حیثیت حاصل ہے۔ہر روز ان گنت پروازوں کے ذریعے بے شمار لوگ سری لنکا سے ملائیشیا آتے ہیں اور ایسی ہی صورت حال ملائیشیا سے سری لنکا آنے جانے والوں کی بھی ہے۔ مگر گذشتہ ستمبر کے پہلے ہفتے میں سری لنکا کے ملائیشیا میں ہائی کمشنر ابراہیم انصر کو ایک حیران کن واقعے کا سامنا کرنا پڑا۔انہیں کوالالمپور ائرپورٹ پر چند افراد نے اچانک ہی گھیرے میں لے کر بد ترین تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔جناب ابراہیم انصر اس حملے میں شدید زخمی ہوئے۔تفصیلات کے مطابق سری لنکن ہائی کمشنر اپنے ملک کے وزیر صنعت مسٹر دیا گاماجی کو الوداع کہنے ائرپورٹ آئے تھے۔ مسٹر دیاگاما جی کوالالمپور میں ہونے والی انٹرنیشنل کانفرنس آف پولیٹیکل پارٹیز میں شرکت کے لیے ملائیشیا کے دورے پر تھے۔ائرپورٹ پر موجود سیکیورٹی سٹاف نے سری لنکن ہائی کمشنر کو زخمی حالت میں فوری طور پر ہسپتال پہنچا دیا جہاں اب ان کی حالت خطرے سے باہر ہے، لیکن اس واقعے نے حکومت ملائیشیا کے لیے بہت سے سفارتی مسائل پیدا کردیے۔سری لنکن وزارت خارجہ نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت ملائیشیا سے شدید احتجاج کیا ہے ۔ملائیشیا کے سیکیورٹی حکام واقعے کی تحقیقات میں مصروف تھے کہ اسی دوران ایسا ہی ایک اور واقعہ بھی سامنے آگیا۔سری لنکا کے ایک سابق صدر مہندا جاپاکسا بھی ان ہی دنوں ایشیا پیسفک پارلیمنٹ ممبرز یونین کے اجلاس میں سری لنکا کی نمائندگی کے لیے کوالالمپور آئے ہوئے تھے۔یہ ستمبر کی دو تاریخ کی بات ہے۔ بھارت سے تعلق رکھنے والی کچھ این جی اوز اور سیاسی جماعتوں کے کارکن کوالالمپور کے پترا ورلڈ ٹریڈ سینٹرکے باہر جمع ہوگئے اور سری لنکا کے سابق صدر مہندا راجا پاکسا کی کوالالمپور میں آمد کے خلاف نعرے لگانے لگے۔ بھارتی مظاہرین نے نہ صرف سابق صدر مہندا کے پوسٹرز کو پیروں تلے روندا بلکہ ’ مہندایہاں سے دفع ہوجائو‘ جیسے توہین آمیز نعروں سے ان کا استقبال کیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ صدر مہندا کے دور میں سری لنکا میں تامل ٹائیگرز کے خلاف سخت ترین آپریشن کیا گیا تھا، ایسے ’ ظالم‘ شخص کو ملائیشیا آنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔تحقیقاتی اداروں کا خیال ہے کہ سر لنکن ہائی کمشنر ابراہیم انصر پر حملہ کرنے والے افراد کا تعلق بھی بھارتی مظاہرین کے اسی گروہ سے ہوگا جس نے سابق صدر مہندا کے خلاف نعرے بازی کی۔تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سری لنکا اور ملائیشیا کے بڑھتے ہوئے تجارتی اور سفارتی تعلقات کو خراب کرنے کے لیے بھارتی ایجنٹوں نے یہ پر تشدد کاروائیاں کی ہیں۔سری لنکا اور ملائیشیا کے دوستانہ تعلقات کی ابتدا 1957 میں ہوئی ، یہ وہی سال ہے جب ملائیشیا نے آزادی حاصل کی۔سری لنکا کا ملائیشیا میں سفارتی مشن بھی اسی سال سے قائم ہے۔ دونوں ممالک کے بیچ سائنس، تجارت اور صنعتی تعاون کے بہت سے معاھدوں پر عمل درآمد بھی نہایت کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور اسی حوالے سے دونوں ملکوں کے سیاسی اکابرین کے ایک دوسرے کے ملکوں میں دورے بھی ہوتے رہتے ہیں۔ ملائیشیا ایک مسلمان ملک ہے اور وہاں جدید حوالوں سے ہونے والی صنعتی و اقتصادی ترقی اس وقت دنیا بھر کے لیے ایک مثال کا درجہ رکھتی ہے، سر ی لنکا نے تامل باغیوں کی دہشت گردی سے پاک ہونے کے بعد اقتصادی راہنمائی کی خاطر ملائیشیا سے اپنے روابط کو اور بھی بہتر بنانے کے لیے بہت سے تجارتی معاہدے بھی کیے۔بھارت کے لیے سری لنکا اور ملائیشیا کے یہ دوستانہ مراسم کبھی بھی قابل قبول نہیں رہے کیونکہ سری لنکا میں 2009میں تامل ٹائیگرز کے خلاف ہونے والے گرینڈ آپریشن سے پہلے بھارت نے سری لنکا کو ایک خوفناک خانہ جنگی میں دھکیلنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رکھے تھے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس آپریشن سے پہلے سری لنکا تامل دہشت گردوں کے ہاتھوں بری طرح یرغمال بنا ہوا تھا۔روز کے بم دھماکے، سرکاری عمارات پر خود کش حملے، سرکاری ملازمین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے قتل عام اور دیگر دہشت گرد کاروائیوں نے سری لنکا کو ایک ویرانے میں بدل رکھا تھا۔تامل دہشت گردوں کو بھارت کی مکمل حمایت اور مدد حاصل تھی اور نہایت قوی امکان تھا کہ یہ دہشت گرد بہت جلد پورے سری لنکا کو اپنے قبضے میں لے لیں گے۔ 80کی دہائی کے آخری برسوں میں بھارت نے ایک سفارتی معاہدے کی آڑ میں امن مشن کے نام پر اپنے بہت سے فوجی بھی سری لنکا میں داخل کردیے تھے۔بظاہر اس امن مشن کے تحت سری لنکا داخل ہونے والے بھارتی فوجیوںکی ذمے داری تھی کہ وہ تامل ٹائیگرز کے ظلم و ستم سے سری لنکن عوام کو بچائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ اس امن مشن میں شامل فوجی دستوں نے تامل ٹائیگرز کا بے دلی کے ساتھ مقابلے کا ڈھونگ رچایا۔ کئی مقامات پر تامل ٹائیگرز اور بھارتی فوجیوں کے گٹھ جوڑ کے قصے بھی سننے میں آئے۔چند مقامات پر تامل ٹائیگرز مختلف گروہوں میں بٹ کر بھارتی فوج کے خلاف بھی صف آراء ہوگئے۔ایک اندازے کے مطابق تامل ٹائیگرز اور بھارتی امن مشن کے درمیان وقتا فوقتا ہونے والی جھڑپوں میں ایک ہزار سے زائد بھارتی امن مشن کے فوجی مارے گئے۔اس صورت حال میں سری لنکن قوم پرستوں نے محسوس کر لیا کہ سری لنکا ایک ایسی سول وار کی طرف بڑھ رہا ہے جس کے نتیجے میں ان کے ملک کا وجود ہی خطرے میں پڑجائے گا۔اسی خیال کے پیش نظر سری لنکن آرمی اور سیاستدانوں نے یک جان ہوکر دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے کمر باندھ لی۔عوام نے بھی بھرپور ساتھ دیا۔کچھ ہی عرصے میں دہشت گرد جان بچا کر بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔اس دوران بھارت کی طرف سے پاکستان پر بھی اعتراضات کی بھرمار کی گئی۔بھارتی صاحبان اختیار کا واویلا تھا کہ پاکستان سری لنکن آرمی کو ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ فوجی تربیت بھی فراہم کر رہا ہے۔پاکستان کی اس سپورٹ کے باعث تامل ٹائیگرز سے معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی بھارتی خواہش کو شدید ٹھیس پہنچی۔ معلوم نہیں پاکستان نے سر ی لنکا کو کس حد تک فوجی تعاون فراہم کیا، لیکن یہ بحرحال ایک حقیقت ہے کہ سری لنکاکے قوم پرست اکثر و بیشتر پاکستان کے شکر گذار دکھائی دیتے ہیں کہ پاکستان نے ان کے ملک کو خانہ جنگی کی حالت سے باہر نکالنے میں بہت پرخلوص مدد کی۔ قصہ مختصر یہ کہ سری لنکا میں جتنا عرصہ بھی حالات خراب رہے ان کی صرف ایک ہی وجہ تھی ، بھارت کی بدنیتی پر مبنی مداخلت۔ بھارت کی جانب سے پڑوسی ممالک کے معاملات میں مداخلت صرف سری لنکا تک ہی محدود نہیں،بھوٹان، بنگلہ دیش، مالدیپ، چین،نیپال، سری لنکا اور سب سے بڑھ کر پاکستان، بھارت کا شاید ہی کوئی ہمسایہ ہو جو اس کی ناجائز مداخلت سے محفوظ رہا ہو۔اتنا ضرور ہے کہ بنگلہ دیش جیسے کمزور ممالک بھارت کے سامنے ہتھیار ڈال گئے، چین برابری کی سطح پرمقابلہ کرتا رہا، سری لنکا نے بھارتی دال گلنے نہیں دی اور پاکستان نے بھارت کو منہ توڑ جواب دینا سیکھ لیا۔بھارت کی ایک قابل مذمت پالیسی یہ بھی رہی ہے کہ وہ ہمسایہ ممالک میں پراکسی وار لڑنے والوں کی بھی تلاش میں رہتا ہے۔بلوچستان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔بلوچستان کی تعمیر و ترقی کی راہ میں روڑے اٹکانے والے تمام گروہوں کی پشت پر ہمیشہ بھارتی سورمائوں کا ہاتھ نظر آئے گا۔ پاکستان کی ہزار قربانیوں اور بے شمار افغان مہاجرین کی طویل میزبانی کے باوجود سے کسی بھی دور کی افغان حکومت سے پاکستان کے مراسم کچھ زیادہ خوشگوار نہیں ہو پائے، اس کی وجہ بھی صرف اور صرف یہی ہے کہ بھارت افغانستان میں پاکستان دشمن عناصر کی مسلسل سرپرستی میں مصروف رہتا ہے۔سری لنکن سفارتکار پر کوالالمپور ائر پورٹ پر ہونے والے حملے کو ہی دیکھ لیں،بھارت نے اپنے کرائے کے ٹٹوئوں کی مدد سے سری لنکا اور ملائیشیا کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کی ایک بھونڈی سی کوشش کر ڈالی۔چین کے ساتھ بھی بھارت کے سرحدی نوعیت کے بہت سے تنازعات موجود ہیں اور چین کی طرف سے اپنے سرحدی علاقوں میں بھارتی دراندازی کے شکوے بھی اکثر سننے میں آتے رہتے ہیں۔لیکن اس سب کے باوجود امریکا کی جانب سے بھارت کو ہر طرح کی سپورٹ اور تعاون کا ملنا اور بھارت کو اپنے نائب کے طور پر دنیا سے متعارف کرانے کا عمل اپنی جگہ ناقابل فہم دکھائی دیتا ہے۔امریکا اگر دنیا میں امن خوشحالی سکون اور بھائی چارے کی روشنی پھیلانے کا خواہشمند ہے تو اسے نفرت بھرے بادلوں کو برسنے سے روکنے کے لیے بھی کچھ نہ کچھ ضرور کرنا پڑے گا۔