مقبول خبریں
یورپین اسلامک سینٹر کے منتظم اعلیٰ سکالر مولانا محمد اقبال کے والد محترم کی وفات پر اظہار تعزیت
اوورسیز پاکستانیوں کیلئے پنجاب میں سرمایہ کاری کے منافع بخش مواقع ہیں،افضال بھٹی
پاک برٹش انٹر نیشنل ٹرسٹ کے چیئرمین چوہدری سرفراز کی جانب سے عشائیہ کی تقریب
میاں صاحب نظریے کو سمجھتے نہیں، وقت کے ساتھ مؤقف بدلنا نظریہ نہیں ہوتا:بلاول
مقبوضہ کشمیر :بھارتی فوج کے ہاتھوں ایک اور نوجوان شہید،مظاہرے،جھڑپیں
لوٹن ٹائون ہال میں ادبی بیٹھک، لارڈ قربان نے صدارت کی معروف شعرا کرام کی شرکت
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
پاکستان کی سیاسی صورتحال، یورپین یونین جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے : ڈاکٹر سجاد کریم
مودی کی سبکی
پکچرگیلری
Advertisement
صحافتی ذمہ داری
پاکستان پریس کلب برطانیہ اور نیشنل پریس کلب پاکستان کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایک خبر) ، برطانیہ میں موجود پاکستان پریس کلب کے تمام ممبرصحافیوں کو وہی سہولیات دی جائیں گی جو پاکستان میں موجود صحافیوں کو میسر ہیں ۔ صحافیوں کی تربیت ، فلاح و بہبود کے لیے دونوں ادارے مل کر کام کریں گے (ایک خبر) ہم لوگوں کا المیہ یہی رہا کہ ہم ہر شعبہ زندگی کو اپنے مزاج اور آرزئوں کے مطابق ڈھالنے کی خواہش رکھتے ہیں ۔ ہر شعبہ کے اپنے فرائض اور اپنی اخلاقی ذمہ داریاں ہوتی ہیں ۔ یہ شعبہ جات نہ تو ہماری خواہشات کے لیے ایجاد کیے گئے ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کا اصل کام ہمارے ذاتی مقاصد کی تکمیل ہوتی ہے ۔ ہم پولیس ، محکمہ بجلی ، پانی غرض کہیں بھی بھرتی ہو جائیں، ہمارا اولین مقصد ہماری اپنی ذات کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ۔ یہی " آرزو انقلاب" ہم شعبہ صحافت میں بھی لے آئے اور اس زور شور سے لے آئے کہ دوسرے تمام شعبہ جات کے لوگ ہماری جانب اب رشک بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں ۔ معاشرے میں مختلف شعبوں کا قیام انفرادی مقاصد کے حصول کا ذریعہ نہ کبھی تھے ۔۔۔ اور نہ کبھی ہوں گے ۔ جو لوگ صحافت جیسے شعبے کو اپنے انفرادی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں انہیں نہ تو تاریخ معاف کرتی ہے اور نہ ہی اپنا ضمیر ۔۔۔انہیں ہمیشہ ان کے سیاہ کارناموں سے ان کے پیچھے یاد رکھا جاتا ہے کیونکہ آگے تو وہ فوٹو سیشن میں مصروف ہوتے ہیں ۔ ہمارے ہاں لفظ صحافت کو مکمل طور پر مسخ کر دیا گیا ہے اس میں ہمارے صحافی بھائیوں کا کردار بھی ہے کیوں کہ انھوں نے ہمیشہ اپنے آپ کو ہی صحافی کہلوانا پسند کیا ان کے خیال میں جو " خبر لکھ" سکتا ہے وہی صحافی ہیں باقی کسی کو ہاکر کہہ ڈالا، کسی کو کمپوزر کا نام دے دیا اورکسی کو فوٹو گرافر کا نام دے دیا۔ صحافت ایک بہت براڈ سپیکٹرم ہے جس میں خبر کے سورس سے لے کر اس کے عوام تک پہنچنانے والے تمام مزدور صحافی ہی ہوتے ہیں ۔ خبر ہی صرف صحافت نہیں بلکہ معاشرے کے متعلق کسی بھی طرح کی معلومات کو لوگوں تک پہنچانے کا ہر ذریعہ صحافت ہے ۔ یکم اکتوبر کو برطانیہ کے شہر لندن میں پاکستان پریس کلب یو کے آٹھویں الیکشن پراسس کا حصہ بننے کا موقع ملا ، برطانیہ بھر سے پرنٹ ، الیکٹرانک ، آن لائن اور براڈ کاسٹ سے وابستہ صحافیوں نے اس میں بھرپور شرکت کی ۔ یہاں کی دوڑ بھاگ کی زندگی میں اتنے لوگوں کا ایک جمہوری عمل کا حصہ بننا غیر معمولی نہیں ہے ۔ دور دراز علاقوں سے یہاں تک پہنچنا ان لوگوں کی اپنے شعبہ سے محبت ہی تو تھی۔ اس کا مقصد صرف اور صرف ان نمائندوں کو چننا تھا جو صحافیوں کے حقوق کا صیح معنوں میں تحفظ کر سکیں اور انہیں اس حد تک خود مختار کر سکیں کہ وہ اپنے جائز حقوق کا دفاع کر سکیں ۔ پاکستان پریس کلب برطانیہ کے نو منتخب صدرارشد رچیال نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحافتی الیکشن کو اداروں کی جنگ نہ بنائیں ۔ نہ تو پریس کلب پاکستان پر کسی ادارہ کی اجارہ داری ہے اور نہ ہم اجارہ داری قائم ہونے دیں گے۔ یہ برطانیہ میں موجود عام صحافی کا پلیٹ فارم ہے جہاں ہر کسی کو الیکشن لڑنے کا اختیار ہے۔ اسی الیکشن کی بدولت آج ایک عام کارکن پریس کلب کا صدر ہے ۔ ہماری کسی سے جنگ نہیں ، جنگ ہے تو ان سرمایہ دار قوتوں سے جو صحافیوں کو ان کے حقوق دینے سے گریزاں ہیں ۔ جو اس صحافی کی قدر نہیں کرتے جو محنتی اور قابل ہونے کے باوجود اپنے حق کے لیے گڑگڑاتا ہے ۔ میں نئے منتخب ہونے والے تمام دوستوں کو مبارکباد دیتا ہوں ۔ اسی موقع پر انہوں نے پریس کلب کے ناراض اراکین کو بھی اپنے معاملات افہام و تفہیم سے حل کر نے کی ضرورت پر زور دیا اور یہ بھی کہا کہ الیکشن کبھی بھی سیلکشن نہیں ہو سکتا ۔ برطانیہ میں پاکستانی صحافیوں کے ٹوٹنے اور بننے والے اتحاد جہاں مقابلے کی فضا پیدا کرنے میں کار گر ثابت ہوتے ہیں تو دوسر ی طرف عہدوں کی جنگ جگ ہنسائی کا باعث بھی بنتی ہے ۔ تمام صحافیوں کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ باہمی اختلافات بھلا کر جمہوری رویوں کو فروغ دیں تاکہ اسی الیکشن پراسس کو مزید فعال بنایا جا سکے اور ایک عام صحافی اداروں کے خوف سے بالا تر ہو کر اپنے ضمیر کی آواز پر لوگوں تک سچ کی رسائی ممکن بنا سکے ۔