مقبول خبریں
یورپین اسلامک سینٹر کے منتظم اعلیٰ سکالر مولانا محمد اقبال کے والد محترم کی وفات پر اظہار تعزیت
اوورسیز پاکستانیوں کیلئے پنجاب میں سرمایہ کاری کے منافع بخش مواقع ہیں،افضال بھٹی
پاک برٹش انٹر نیشنل ٹرسٹ کے چیئرمین چوہدری سرفراز کی جانب سے عشائیہ کی تقریب
میاں صاحب نظریے کو سمجھتے نہیں، وقت کے ساتھ مؤقف بدلنا نظریہ نہیں ہوتا:بلاول
مقبوضہ کشمیر :بھارتی فوج کے ہاتھوں ایک اور نوجوان شہید،مظاہرے،جھڑپیں
لوٹن ٹائون ہال میں ادبی بیٹھک، لارڈ قربان نے صدارت کی معروف شعرا کرام کی شرکت
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
پاکستان کی سیاسی صورتحال، یورپین یونین جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے : ڈاکٹر سجاد کریم
مودی کی سبکی
پکچرگیلری
Advertisement
عمران کی انتخابی مہم
گزشتہ چند دنوں سے شیخ رشید احمد،جہانگیر ترین اور سرور چوہدری لندن کی ٹھنڈی ہوائوں میں اسلام آباد کو ممکنہ طور پر لگائے جانے والے تالے کی چابی کی تلاش میں تھے لیکن ’’ چابی‘‘ تالے کو کھلا چھوڑ کر رفو چکر ہو گئی ’’چابی ‘‘ بھی ایسی ہے کہ کسی بھی ’’لاک میکر‘‘ کی دوکان سے ’’نقل ‘‘ نہیں بن سکتی بحرحال رائے ونڈ میں عمران خان کے گزشتہ اجتماع نے انہیں جو نیا جوش و ولولہ دیا ہے کہ اس کے ’’دھوکے‘‘ میں آتے ہوئے پی ٹی آئی نہ صرف پارلیمنٹ میں کشمیر کی موجودہ صورتحال پر بائیکاٹ کیا بلکہ آئندہ کی اجتماعی سیاست میں سولو فلائٹ لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے جبکہ سیاسی کزن طاہر القادری اپنی قصاص تحریک پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے مقرر کردہ تین رائونڈز کا پہلا رائونڈ مکمل کر کے دو عالمی سطح کی کانفرنسوں میں شرکت کرنے کیلئے بیرون ملک چلا آئے جہاں انہوں نے سانحہ ٹائون میں انصاف نہ ملنے کی بنیاد پر یورپی انسانی حقوق کی عدالت کے دروازہ پر دستک دیتے کا ہوم ورک شروع کر رکھا ہے وہ اس سلسلہ میں نہ صرف قانونی ماہرین سے ملاقاتیں کر رہے ہیں بلکہ ایمسٹر ڈیم اور پیرس کے مختصر دورے بھی کر چکے ہیں،بد قسمتی سے پی ٹی آئی کی قیادت جب شیخ رشید کے ہمراہ لندن آئی تو ڈاکٹر قادری لندن میں موجود نہ تھے گو وہ برطانیہ میں ہی تھے لیکن شیخ رشید سے ان کی ملاقات نہ ہو سکی،حکومتی)امداد پر چلنے والے(مخصوص ٹی وی چینل نے خالصتاً جھوٹی خبر دی کہ ان دو حضرات کی ملاقات ہوئی ہے،نہایت قابل اعتماد ذرائع کی اطلاع کے مطابق اسلام آباد کو بند کرنے کیلئے عمران خان ’’سلو فلائٹ ‘‘ کا فیصلہ کر چکے ہیں لیکن ان کے تجربہ کار ساتھی انہیں باور کروا رہے ہیں کہ ان کے کارکن چند گھنٹوں والے ہیں ان میں دنوں یا ہفتوں کا دھرنا دینے کی نہ صلاحیت ہے اور نہ ہی ہمت،پی ٹی آئی کے پر جوش ٹائیگرز میں اتنی بھی ہمت نہیں کہ وہ عوامی تحریک کے کارکنوں کی طرح اتحاد و تنظیم بھی قائم رکھ سکیں اور ریاستی تشدد کا سامنا اور مقابلہ کرتے ہوئے منزل کی جانب بڑھ سکیں اس تمام صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے اندیشہ ہے کہ عمران خان کا مقصد اسلام آباد کی بندش کے ذریعے میاں برادران کو فارغ کرنا اب ہرگز نہیں ہے بلکہ وہ پانامہ لیکس کی بنیاد پر آئندہ قومی انتخابات کی مہم شروع کر چکے ہیں شاید اب پی ٹی آئی اس نتیجہ پر پہنچ چکی ہے کہ میاں برادران کا ’’کلہ ‘‘ قائم ہے اور اس کو آئوٹ کرنے والے ایمپائرز خود بھی اس نظام کا حصہ ہیں جو با وقت ضرورت اپنا بازو اوپر کرتے ہیں جس سے تاثر لیا جاتا ہے کہ انگلی اٹھنے لگی ہے لیکن وہ اپنے ’’بال ‘‘ یا ’’ٹوپی‘‘ سیدھی کر کے بازو پھر سے نیچے کر لیتے ہیں،طاہر القادری کی گزشتہ راولپنڈی ریلی میں آخری تقریر بھی یہی پیغام دے رہی تھی کہ سانحہ ماڈل ٹائون والوں اب مجھے تم سے بھی انصاف کی امید نہیں ہے لیکن تمہیں اپنے وعدے کا جواب کہیں نہ کہیں تو دینا ہے انہوں نے اعلیٰ لوگوں کو خوف خدا سے ڈرا کر بتا دیا کہ اب وہ خاص وقت کا انتظار کرنے پر اکتفا کریں گے کہ اللہ کی لاٹھی کب حرکت میں آتی ہے لٰہذا دکھائی دے رہا ہے کہ ایک لمبے عرصے تک طاہر القادری کی جانب سے کوئی خاص مہم جوئی نہیں کی جائے گی اور اتنی دیر میں عمران خان کے پتے بھی سامنے آ جائیں گے کہ کیا وہ اسلام آباد’’ اکیلے ‘‘ سفر اختیار کریں گے بھی یا کسی ’’ بہانے ‘‘ سے اس کو ملتوی کر دیں گے،آنے والے دنوں میں یہ بات کھل کر سامنے آ جائے گی کہ اب بات اگلے انتخابات پر ختم ہو گی جو اپنے وقت پر ہی ہوں گے۔