مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
سوشل میڈیا کا کمال بیٹی کو اٹھارہ سال سے بچھڑے باپ سے ملادیا، کمیونٹی کا خراج تحسین
لیڈز:کئی سالوں سے انگریز لے پالک والدین بچی کے والد کو ڈوھونڈتے رہے لیکن سوشل میڈیا فیس بک نے وہ کام دکھا یاجس کی کسی کو امید نہ تھی 18 سال بعد لڑکی کے والدکو ایک گھنٹے میں تلاش کر لیا اس اہم کام میں بریڈفورڈکی ممتاز سماجی شخصیت بابو محمد مشتا ق نے سب سے اہم کر دار ادا کیا بر طانیہ بھر میں سیاسی سماجی شخصیات کا لڑکی کے والد کو تلاش کر نے والوں باالخصوص کمیونٹی رہنما بابو محمد مشتاق اور صحافی آصف قریشی کو خراج تحسین لڑکی کے والد محمد شکیل نجیب نے بھی ان تمام احباب کا شکر یہ ادا کیا ۔تفصیل کے مطابق محمد شکیل نجیب کا آبائی تعلق پنیام چکسواری آزاد کشمیر سے ہے برٹش شہری ہے1996میں اس نے ایک انگریز عورت جیسیکا ووڈ سے شادی کی ان کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام سونیا رکھا گیا اس دوران دونوں میاں بیوی کے در میان ناچاکی ہو گئی اور جیسیکا بر یڈفورڈ سے لیڈز منقل ہوئی سونیا کی طبعیت اتنی ٹھیک نہ تھی اس دوران کافی بیمار ہو گئی 2003 میں جیسیکا ووڈ کا لیڈز میں انتقال ہو گیا بر طانیہ کے جہاں سب ہی اچھے قانون ہیں جس میں لوگوں کی عزت و نفس کی حفاظت مزہبی آزادی شامل ہے وہاں کا ایک اچھا قانون یہ بھی ہے کہ جب والدین میں سے کوئی اولاد کو سنبھالنے سے قاصر ہو یا زمہ داری نہ اٹھائے تو ایسے ادارے موجود ہیں جن کے زریعہ بچوں کو ان لوگوں کو سپرد کیا جاتا ہے جو بچوں کو اپنی اولاد سمجھ کر پالتے ہیں اس کار خیر مین وہ لوگ حصہ لیتے ہیں جن کی اولاد نہین وہ تی یا ان کی اولاد جوان ہو چکی ہوتی ہے وہ ایسے بے سہاروں کی مدد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں پھر ایسے بچے ان کے سپر د کیے جاتے ہیں اس سارے پراسس کے دوران حکومت ان کو بچوں کا خرچ دیتی ہے اور یہاں تک کے بچوں والدین کی جگہ ان کا نام بھی لکھا جاتا ہے اس میں بھی مختلف کیٹیگر یز ہیں لیکن سونیا کی جب والدہ فوت ہو گئی تو اس کی عمر اس وقت تین سال تھی شکیل نجیب سے گھریلو ناچاکی پر اس کی والدہ کا اس کے حقیقی والد محمد شکیل نجیب سے رابطہ ختم ہو گیا اور شکیل نجیب بر یڈفورڈ کو خیر آباد کہہ کر بلیک بر ن منتقل ہو گیا بچوں کی حفاظت کر نے والے ادارے نے سونیا کو آئر لینڈ کے رہائشی مائیک تھامسن کے سپرد کرد یا گیا مائیک تھامسن نے سونیاکی پرورش اپنے حقیقی ماں باپ سے بڑھ کر کی اس سے پڑھایا لکھایا اس دوران اس نے سونیا کو بتا یا کہ تمھارا حقیقی والد میں نہیں ہو ں تھمارا حقیقی والد محمد شکیل نجیب ہے اور تم مسلمان ہو اور ہم کر سچئین ہیں اس دوران لڑکی سونیا کو اپنے والد محمد شکیل نجیب سے ملنے کی خواہش بڑھتی گئی اس نے اپنے لے پالک والدین سے یہ ضد کر نا شروع کر دی کہ مجھے میر ے والد سے ملوایا جائے مائیک تھامسن نے کوشش کی کہ بھی کے والد کو کسی طر ح ڈھونڈ نکالوں اس نے بر یدفورڈ کی تمام مساجد سے روابط کیے اور انھیں شکیل نجیب بارے بتا یا کہ اس کی لڑکی ہے میں چاہتا ہوں کہ اس تک پہنچاوں لیکن اسے کوئی جواب نہ ملا لیکن اس نے اپنی کوشش ختم نہ کی تھوڑا عر صہ کے بعد ایک بارپھر بر یدفورڈ مساجد کو خطوط لکھے اور سارا واقع لکھا اس دوران وہ خط بر یڈفورڈ کی ممتاز سماجی شخصیت بابو محمد مشتاق کو مقامی مسجد کمیٹی نے دیا کہ یہ خط ہمیں کسی انگریز نے لکھا ہے وہ اس شکیل نامی نوجوان کی تلاش میں ہے تو بابو مشتاق نے گھر آکر اپنے بیٹی کو سارا واقع سنایا ان کی بیٹی نے بعزریعہ ای میل مائیک تھامسن سے رابطہ کیا ور اس سے ساری تفصیل پوچھی ا س دوران انہوں اپنے طور پر بر یڈفورڈ کی کمیونٹی سے رابطہ کیا کہ شائد کوئی شکیل نجیب یا اس کی فیملی کو جانتا ہو لیکن کوئی جواب نہ مل پایا تو انہوں نے نمائندہ ا وصاف لیڈز آصف قریشی کو سارا واقع سنایا تو آصف قریشی نے سوشل میڈیا پر سونیا کی طر ف سے اپنے والد کے بارے مین اشتہار شائع کیا فیس بک پر اشتیار چلنے کے ایک گھنٹہ کے بعد آزاد کشمیر کے ممتاز صحافی کالم نگار محمد رمضان چغتائی نے رابطہ کیا کہ میں شکیل نجیب اور اس کے سارے خاندان کوزاتی طور پر جانتا ہوں اس طر ح انہوں نے شکیل نجیب کے بھائی کو فون کیا جس پر انہوں نے فوری طور پر ان ہم سے رابطہ کیا کہ اور رابطہ بھی شکیل نجیب کی بیوی نے کہا کہ یہ ہماری بیٹی ہے اور ہم لوگ اپنے طور پر کافی عر صہ سے ڈھونڈ رہے تھے اس کے بعد مائیک تھامسن سے رابطہ کیا گیا اور مائیک تھامسن سمیت لڑ کی سونیا نے بھی خوشی کا اظہار کیا تلاشی کے ایک ماہ بعد آج دونوں باپ بیٹی جب مانچسٹر ایئر پورٹ پہنچے تو سونیا کے حقیقی والد اور سوتیلی والدہ بہن بھائیوں نے بھر پور استقبال کیا پھولوں کے گلدستے پیش کیے دونوں باپ بیٹی سمیت خاندان کی خوشی کی انتہا نہ رہی اس موقع پر سونیا کے والد محمد شکیل نجیب اوصاف سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ بابو محمد مشتاق ان کی صاحبزادی سمیت تمام افراد کا شکریہ جھنوں نے اس اہم معاملہ کو سنجیدگی سے لیا اور مجھے میر ی بیٹی مل گئی اس سے بڑھ کر کیا خوشی کا مقام ہو سکتا ہے سونیا کی سوتلی ماں نے اوصاف سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ شکیل نجیب نے شادی کے پہلے دن ہی مجھے اپنی ایک انگریز عورت سے لڑکی کے بارے میں بتا دیا تھا میں بھی خوش ہو ں کہ مجھے ایک اور بیٹی ملی ہے میرے سارے بچے خوش ہیں کہ انھیں ان کی بہن مل گئی ہے انشاء اللہ سونیا کو احساس نہیںہو نے دوں گی کہ میں اس کی سوتیلی ماں ہوں اور ہماری دعا ہے کہ جن کے بھچڑے ہوئے بہن بھائی والدیں ہیں اللہ ان کو بھی ملائے یہ خوشی کے مواقع ہوتے ہیںاس موقع پر ممتا زسماجی شخصیت بابو محمد مشتاق نے اظہار خیال کر تے ہو ئے کہا کہ اللہ کا شکر ادا کر تا ہوں اور اس کے بعد بیٹی کا جس نے اس اہم کام کی طر ف مجھے لگایا تو آج میر ی خوشی کی بھی انتہا نہیں ہے اور مین آپ کا بھی شکریہ ادا کر تا ہوں جھنوں نے میر ے ساتھ بھر پور تعاون کیا اور آپ کی وجہ سے جو کام شائد مہینوں میں ہو نا تھا وہ دنوں میں ہوا ہے انہوں نے مزید کہا کہ میر ی کوشش ہو گی بچھڑے والدین اور بچوں کوملانے کا کام کر تا رہوں گا۔