مقبول خبریں
یورپین اسلامک سینٹر کے منتظم اعلیٰ سکالر مولانا محمد اقبال کے والد محترم کی وفات پر اظہار تعزیت
اوورسیز پاکستانیوں کیلئے پنجاب میں سرمایہ کاری کے منافع بخش مواقع ہیں،افضال بھٹی
پاک برٹش انٹر نیشنل ٹرسٹ کے چیئرمین چوہدری سرفراز کی جانب سے عشائیہ کی تقریب
میاں صاحب نظریے کو سمجھتے نہیں، وقت کے ساتھ مؤقف بدلنا نظریہ نہیں ہوتا:بلاول
مقبوضہ کشمیر :بھارتی فوج کے ہاتھوں ایک اور نوجوان شہید،مظاہرے،جھڑپیں
لوٹن ٹائون ہال میں ادبی بیٹھک، لارڈ قربان نے صدارت کی معروف شعرا کرام کی شرکت
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
پاکستان کی سیاسی صورتحال، یورپین یونین جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے : ڈاکٹر سجاد کریم
مودی کی سبکی
پکچرگیلری
Advertisement
امریکہ میں اسلحہ کی فراوانی اور صدر اوباما کی بے بسی
امریکا کے شہر اورلینڈو کے ہم جنس پرستوں کے کلب میں افغان نژاد امریکی عمر متین کے ہولناک حملہ کے محرکات کے حقایق کے منظر عام پر آنے کے بعد اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اس حملہ کا داعش یا کسی اور مسلم دھشت گرد تنظیم سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ اس حملہ کی محرک، ہم جنس پرستی سے عمر متین کی نفرت اور بڑی حد تک ذہنی بیماری تھی۔ یہ حقایق سامنے آنے کے باوجود مغربی میڈیا ، اس حملہ کو مسلم دہشت گردی اور ہم جنس پرستی کے خلاف مسلمانوں کی نفرت سے منسوب کر رہا ہے اور اس میں پیش پیش ، صدارتی انتخاب میں ری پبلیکن پارٹی کے ممکنہ امیدوار ڈانلڈ ٹرمپ ہیں جن کا دعوی ہے کہ انہوں نے امریکا میں مسلمانوں کے داخلہ کو ممنوع قرار دینے کاجو وعدہ کیا تھا وہ اس حملہ کے بعد حق بجانب ثابت ہوا ہے۔یہی نہیں انہوں نے صدر اوباما پر بھی وار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اوباما کو فورا اپنے عہدہ سے مستعفی ہو جانا چاہیے کیونکہ وہ مسلم دہشت گردی کی نشاندہی کرنے اور اس کی مذمت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ بہر حال یہ اقتدار کی چاہت کے لئے ڈانلڈ ٹرمپ کی دیوانگی کا عالم ہے، جسے سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا ہے۔ لیکن بلا شبہ ، صدر اوباما ، اورلینڈو کے سانحہ کے بعد سخت مخمصہ میں گرفتار ہو گئے ہیں۔ صدر اوباما جنہیں اس پر فخر ہے اور وہ اسے اپنے دور کا تاریخی ورثہ قرار دیتے ہیں کہ ان کے دور صدارت میں ہم جنس پرستی کو قانونی قبولیت بخشی گئی اور تین دہائیوں کے تحریک کے بعد ، پہلی بار امریکا میں ہم جنس پرستوں کے مابین شادیوں کی اجازت کا قانون منظور کیا گیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ،اورلینڈو میں ہم جنس پرستوں کے کلب پر حملہ نے ملک میں اسلحہ کے تشدد کی سنگینی اور اس پر قابو پانے میں ناکامی اور بے بسی کو اس بری طرح سے بے نقاب کردیا ہے کہ ان کا تاریخی ورثہ گہنا گیا ہے۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ صدر اوباما کا سات سالہ دور امریکی تاریخ میں اسلحہ کے تشدد اور شوٹنگ کے حملوں کا مہلک ترین دور رہا ہے ، اورلینڈو کی شوٹنگ ان کے دور کا سولہواں حملہ تھا ۔ اب تک کسی صدر کے دور میں شوٹنگ کے اتنے زیادہ حملے نہیں ہوئے ہیں۔ خود صدر اوباما نے اعتراف کیا ہے کہ اورلینڈو کا حملہ ، امریکی تاریخ کا سب سے خونریز حملہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور ہینڈ گن اور طاقت ور اسالٹ رایفل سے لیس تھا جس سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اسکو ل میں ، عبادت گاہوں میں ، مووی تھیٹر میں یا نایٹ کلب میں شہریوں کو اتنی بڑی تعداد میں ہلاک کرنے کے لئے کتنی آسانی سے اسلحہ دستیاب ہے۔ صدر اوباما نے نہایت بے کسی کے عالم میں کہا کہ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم کس طرح کا ملک چاہتے ہیں؟ او ر کہا کہ کیا یہ ہمارا فیصلہ ہے کہ ہم عملی طور پر کچھ نہیں کرنا چاہتے۔ صدر اوباما اس سے پہلے کئی بار کہہ چکے ہیں کہ امریکا میں اسلحہ کی فراوانی اور اس کی آزادانہ خرید و فروخت کا مسلہ، دنیا کے دوسرے ملکوں سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ ویسے یہ حقیقت بھی ہے کیونکہ پڑوسی کینیڈا کے مقابلہ میں امریکا میں اسلحہ کا تشدد چھ گنا زیادہ ہے ، سویڈن کے مقابلہ میں سات گنا زیادہ ہے اور جرمنی سے سولہ گنا زیادہ ہے۔ تازہ ترین اعدادوشما ر کے مطابق ، امریکا میں ہر ایک سو افراد میں 88سے زیادہ افراد کے پاس اسلحہ ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں کسی پابندی کے بغیر اسلحہ کی فروخت کی وجہ سے امریکا میں قتل کی وارداتوں کی شرح دنیا کے دوسرے تمام ملکوں سے زیادہ ہے ۔ ہر سال 32ہزار افراد شوٹنگ سے ہلاک ہوتے ہیں۔ یہ بات اہم ہے کہ شوٹنگ کے حملوں میں استعمال ہونے والا دو تہائی اسلحہ قانونی طور پر خریدا ہوا اسلحہ تھا۔ پچھلے سات سالہ دور میں شوٹنگ سے بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے ہر سانحہ کے بعد ، صدر اوباما نے ملک میں اسلحہ کی آزادانہ خریدو فروخت پر پابندی عاید کرنے کی کوشش کی اور کانگریس سے اس بارے میں با معنی اقدامات پر زور دیا لیکن ان کی تمام کوششیں بے سود اور بری طرح سے ناکام رہیں۔ اسلحہ پر پابندی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ، امریکا کے آئین کی دوسری ترمیم ہے جو 1791میں منظور ہوئی تھی جس کے تحت ہر امریکی شہری کو اسلحہ رکھنے کا حق ہے جو ناقابل تنسیخ ہے۔ اسلحہ پر کنٹرول کی مخالف لابی کے لئے یہ آئینی ترمیم سب سے بڑی ڈھال ہے۔ اسلحہ کی آزادانہ تجارت کی حامی لابی میں ایک طرف اسلحہ ساز صنعت پیش پیش ہے جو ہر سال اوسط ایک کڑوڑ ساٹھ لاکھ بندوقیں اور پستولیں تیار کرتی ہے ۔ اسلحہ ساز صنعت کے ساتھ ساتھ، نہایت با اثر تنظیم نیشنل رایفل ایسو سی ایشن NRAہے جس کے اراکین کی تعداد پچاس لاکھ سے زیادہ ہے ۔ سیاسی اثر و رسوخ کے ساتھ اس تنظیم کی مالی قوت بھی غیر معمولی ہے۔ NRAکی آمدنی 35کڑوڑ ڈالر سالانہ ہے ۔ امریکی کانگریس میں NRAکو بڑی تعداد میں اراکین کی حمایت حاصل ہے ، یہی وجہ ہے کہ اسلحہ پر کنٹرول کاقانون پیش کرنے کی کوئی کوشش اب تک کامیاب ثابت نہیں ہو سکی ہے۔ سن ساٹھ کے عشرہ میں جب جرایم میں بے تحاشہ اضافہ ہوا تھا تو اسلحہ پر کنٹرول کی تحریک اٹھی تھی ۔ اس وقت امکان تھا کہ حکومت کو تمام نجی اسلحہ ضبط کرنے کا اختیار حاصل ہوجائے گا ، لیکن NRAنے اسلحہ کی صنعت کے ساتھ مل کر اتنی شدت سے مخالفت کی کہ اسلحہ پر کنٹرول کی کوشش کامیاب ثابت نہ ہوسکی۔ جب سے اسلحہ کی صنعت اور NRA، اسلحہ پر کنٹرول کے خلاف نا قابل عبور فصیل بن کر کھڑی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا میں اسلحہ کی فراوانی کے سامنے ، صدر اوباما بے بس اور بے کس ہیں۔