مقبول خبریں
یورپین اسلامک سینٹر کے منتظم اعلیٰ سکالر مولانا محمد اقبال کے والد محترم کی وفات پر اظہار تعزیت
اوورسیز پاکستانیوں کیلئے پنجاب میں سرمایہ کاری کے منافع بخش مواقع ہیں،افضال بھٹی
پاک برٹش انٹر نیشنل ٹرسٹ کے چیئرمین چوہدری سرفراز کی جانب سے عشائیہ کی تقریب
میاں صاحب نظریے کو سمجھتے نہیں، وقت کے ساتھ مؤقف بدلنا نظریہ نہیں ہوتا:بلاول
مقبوضہ کشمیر :بھارتی فوج کے ہاتھوں ایک اور نوجوان شہید،مظاہرے،جھڑپیں
لوٹن ٹائون ہال میں ادبی بیٹھک، لارڈ قربان نے صدارت کی معروف شعرا کرام کی شرکت
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
پاکستان کی سیاسی صورتحال، یورپین یونین جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے : ڈاکٹر سجاد کریم
مودی کی سبکی
پکچرگیلری
Advertisement
بروٹس تم بھی؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
پاک افغان طورخم بارڈر پر پاک فوج کے ایک بہادر افسر میجر علی جواد چنگیزی افغان آرمی کی براہ راست فائرنگ سے شہید ہوگئے۔ ہر پاکستانی آج ایک ہی سوال کر رہا ہے کہ ایک ایسے ملک کی فوج کی طرف سے یہ بلا جواز فائرنگ کیوں کی گئی کہ جس ملک کے لاکھوں شہری گزشتہ تیس برس سے مہاجرین بن کر پاکستانیوں کے ٹکڑوں پر پل رہے ہیں۔کہیں ایسا تو نہیں کہ صدر اشرف غنی نے اپنے ہمدم دیرینہ بھارت کا دل موہ لینے کے لیے اس طرح کی شرمناک کاروائی کا حکمنامہ جاری کیا ہو۔کہیں ایسا تو نہیں کہ دنیا بھر میں اپنی ناکارگی اور بزدلی کے لیے مشہور افغان آرمی نے اپنا جھنڈا اونچا کرنے کے لیے اپنے طور پر اپنے ہی دوست ملک کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کا منصوبہ بنالیا ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ امریکی یا پھر بھارتی سازش کاروں نے پاکستانیوں پر گولی چلانے کے لیے کچھ افغان فوجیوں کو تھوڑے بہت پیسے دے دیے ہوں۔ لیکن اس طرح کی بزدلانہ کاروائیوں سے جھنڈا اونچا نہیں ہوتا، ذلت اور رسوائی ہوتی ہے۔یقینا افغان آرمی کو اس طرح کی حرکتوں میں افغان عوام کی تائید بالکل بھی حاصل نہیں ہوگی اور عوام کی اخلاقی مدد اور تائید کے بغیر کوئی بھی فوج نہ تو مضبوط ہو سکتی ہے نہ ہی کسی محاذ پر کامیاب۔افغانستان میں نیٹو افواج کو ہی دیکھ لیں،نیٹو افواج ایک طویل عرصے سے افغانستان کے لوگوں کو ’ دہشت گردوں‘ کے چنگل سے آزاد کرانے کے لیے کوشاں دکھائی دیتی ہیں، امریکی شہریوں سے ٹیکس کی شکل میں وصول کیے جانے والے اربوں ڈالر جھونکے جارہے ہیں ، اسلحے بارود کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے، معصوم بے گناہ افغانی باشندے اپنی جان سے محروم ہو رہے ہیں اور پھر نیٹو فوجیوں کا بھی بڑے پیمانے پر جانی نقصان دیکھنے میں آرہا ہے مگر اس سب کے بعد نتیجہ صفر بٹا صفر۔ وجہ صرف یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی اس جنگ کو افغانستان کے لوگ خود پر ناجائز طور پر مسلط کردہ ایک غیر ملکی استحصالی جنگ کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں سمجھتے۔ گذشتہ ایک دہائی کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں، افغان عوام کی طرف سے نیٹو افوج سے تعاون اور ہمدردی کی کوئی ایک مثال بھی سامنے نہیں آسکے گی۔امریکا اور اس کے مددگار ممالک ہزار جدوجہد کے باوجود افغان طالبان کو ختم نہیں کر سکے نہ ہی ان کی عوامی مقبولیت کو کوئی ٹھیس پہنچا سکے۔طالبان کل کی طرح آج بھی ایک حقیقت ہیں اور بظاہر اس حقیقت کو مٹانا کسی طور بھی ممکن نظر نہیں آتا، بالکل ایسی ہی صورت حال مقبوضہ کشمیر میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ بھارت نے اپنے لاکھوں فوجی مقبوضہ کشمیر میں تعینات کر رکھے ہیں، قومی وسائل کو پانی کی طرح بہایا جارہا ہے لیکن اس سب کے باوجود کشمیری حریت پسند مجاہدین کو عوامی حمایت سے محروم نہیں کیا جاسکا۔ بھارتی قابض فوج کی ناکامی کا سبب صرف یہ ہے کہ اسے مقامی آبادی کی ذرہ برابر بھی سپورٹ حاصل نہیں اور مجاہدین کی بڑھتی ہوئی قوت کا واحد سبب یہی ہے کہ انہیں مقامی آبادی کی ہر امکانی حمایت حاصل ہے۔ مقبوضہ کشمیر میںلوگ مجاہدین کو اپنے لیے اسی طرح نجات دہندہ سمجھتے ہیں جس طرح افغانستان میں طالبان کو امریکا اور نیٹو فورسز کے خلاف دیوار چین سمجھا جاتا ہے۔امریکی اخبار ہافنگٹن پوسٹ میں گذشتہ برس اکتوبر میں واشنگٹن میں اپنے بیورو چیف مسٹر رے گریم کا ایک تجزیہ شائع کیا تھا جس کا عنوان تھا،’ افغانستان دوبارہ طالبان کے ہاتھوں میں کیوں جارہا ہے‘۔اپنے تجزیے میں رے گریم نے ایک بہت حقیقت پسندانہ بات کی۔ انہوں نے لکھا،’گذشتہ چند برسوں میں عوام اور امریکی حمایت سے قائم ہونے والی حکومتوں کے درمیان دوریاں بڑھتی جارہی ہیں۔ امریکی آشیر باد سے افغان حکومت نے پولیس اور مختلف جرائم پیشہ گروہوں کو سارے افغانستان کی ذمے داری سونپ دی ہے۔ ہر گلی ہر کوچے ایک الگ گروہ کی حکومت دکھائی دیتی ہے، مقامی پولیس کی معاونت سے یہ گروہ لوگوں سے کبھی فصلوں کی حفاظت کے نام پر تو کبھی مال مویشیوں کے تحفظ کے نام پر بھاری رقمیں زبردستی وصول کرتے رہتے ہیں۔ مزید ظلم یہ کہ ایسے گروہوں کے ہاتھوں مقامی خواتین کی آبرو ریزی بھی معمول کی ایک بات ہے‘۔ یقینا ایسی صورت حال میں عوام اپنے تحفظ کے لیے طالبان کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں۔اگر نتیجہ یہی نکلنا تھا تو پھر امریکا نے اپنے ٹیکس ادا کرنے والے عوام کا پیسہ اس نام نہاد جنگ پر کیوں ضائع کیا جس کے آغاز کے برسوں بعد بھی صورت حال جوں کی توں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اس نام نہاد جنگ کے نام پر امریکی عوام کی خون پسینے کی کمائی گولہ بارود میں جھونکنے کی بجائے افغانستان میں تعمیر و ترقی ، صحت اور تعلیم کے فروغ اور روزگار کے نئے امکانات تلاش کرنے پر صرف کی جاتی تو اس کے زیادہ دور رس نتائج سامنے آتے۔مسئلہ یہ ہے کہ امریکانے بھارت کی مشاورت سے طالبان کا توڑ تلاش کرنے کے لیے ملتے جلتے ناموں سے کئی اور گروہ تشکیل دے دیے اور ان گروہوں کو پاکستان میں حالات خراب کرنے کی ذمے داری سونپ دی مگر یہ ذمے داری سونپتے ہوئے ہیلیری کلنٹن کا وہ تاریخی الزام سرے سے فراموش کر دیا کہ پاکستان نے اپنے پچھلے صحن میں سانپ پال رکھے ہیں۔ پاکستان سانپ پالے تو گناہ اور امریکا جب بھارت کے ساتھ مل کر سانپوں کو دودھ پلائے تو نیکی کا کام، یہ کہاں کا انصاف ہے۔بہتر تو یہی ہے کہ پاکستان پر برسوں سے جاری الزام تراشی کے اس مکروہ سلسلے کو اب ختم کردیا جائے۔افغانستان کے لوگوں کو بھی اسی آزادی کی ضرورت ہے جس کا مقبوضہ کشمیر کے نہتے عوام برسوں سے مطالبہ کر رہے ہیں۔دنیا کا کوئی قانون کسی بھی طاقت ور کو انسانوں سے ان کے بنیادی حقوق چھیننے کی اجازت نہیں دیتا۔اگر میرے ہاتھ میں بندوق ہے اور مجھے اس بندوق کو چلانے سے کسی میں روکنے کی قوت بھی نہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں جسے چاہوں اپنی بندوق کا نشانہ بنا دوں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ ڈرون حملوں کے حوالے سے بھی ہے۔چونکہ امریکا کے پاس جدید ترین ڈرون ٹکنالوجی ہے اور چونکہ پاکستان کے قبائیلی علاقوں میں بسنے والے محنت کش پاکستانیوں کے پاس اس ٹکنالوجی کا مقابلہ کرنے کے لیے فی ا لحال کوئی براہ راست ممکنہ راستہ نہیں، تو اس کا یہ مطلب بالکل بھی نہیں کہ امریکا جب چاہے، بے گناہوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بناتا چلا جائے۔ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق سنہ 2005 سے سنہ2016تک 322ڈرون حملے کیے گئے جن میں 3000کے لگ بھگ پاکستانی جاں بحق ہوئے اور ساڑھے تین سو سے زائد شدید زخمی ہوئے۔اگر امریکی مفادات کی عینک لگا کر دیکھا جائے تو ممکن ہے ان جاں بحق ہونے والوں میں سو پچاس’ گناہ گار‘ ضرور شامل ہوں گے لیکن باقی سینکڑوں کا کیا قصور؟؟ حال ہی میں پاکستان اور ایران کے مشترکہ سرحدی علاقے نوشکی میںایران سے بھیس بدل کر پاکستان داخل ہونے والے طالبان راہنما ملا اختر منصور کو امریکی ڈرون نے نشانہ بنایا تو ایک بے گناہ ٹیکسی ڈرائیور ولی محمد بھی جان سے گیا۔ اس کے وارثوں نے مقامی پولیس سٹیشن میں امریکا کے خلاف ایف آئی آر درج کراتے ہوئے سوال کیا ہے کہ اس رینٹ اے کار ڈرائیورکو کس جرم کی سزا دی گئی۔یقینا دنیا کا کوئی بھی قانون اس طرح کے ظلم و ستم کی اجازت نہیں دیتا، امریکی عوام، امریکی میڈیا اور امریکی سیاستدان دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر سب سے طاقت ور احتجاج کرنے والوں میں شمار ہوتے ہیں، لیکن ڈرون حملوں کے معاملے میں ان کی خاموشی امریکا کو کمزوروں کا ساتھی سمجھنے والوں کو بہت کچھ نیا سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔افغانستان میں طالبان ہوں، مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین ہوں ، برما میں جلائے جانے والے مسلمان ہوں،گولڈن ٹیمپل میں مارے جانے والے سکھ علیحدگی پسند ہوں، گجرات میں جانوروں کی طرح ذبح کیے جانے والے ہندوستانی ہوں یا پھر ڈرون حملوں کا نشانہ بننے والے بے گناہ پاکستانی،ان سب کا ایک ہی قصور ہے کہ انہیں مارنے والوں کے ہاتھ میں بندوق تھی اور مارنے والوں کو بندوق چلانے سے روکنے والا کوئی نہیں تھا، شاید اسی کو جنگل کا قانون کہتے ہیں۔