مقبول خبریں
پاکستان کے نظریاتی استحکام کیلئے مسلم لیگ کو منظم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے:فدا حسین کیانی
گوادر چیمبر آف کامرس کے نومنتخب صدر گوادر رئیل اسٹیٹ کیلئے اثاثہ ثابت ہونگے: ذیشان چوہدری
کشمیری آزادی کی جنگ لڑ رہےہیں ،یہ انکا پیدائشی حق ہے:چوہدری جاوید ،چوہدری یعقوب
نواز شریف کے دوبارہ پارٹی صدر بننے کی راہ ہموار، شق 203 سینیٹ سے بھی منظور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی فائرنگ، مزید 2 نوجوان شہید
کونسلر وحید اکبر کا آزاد کشمیر کے جسٹس شیراز کیانی کے ا عزاز میں عشائیے کا اہتمام
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
ڈاکٹر سجاد کریم کی قیادت میں یورپی پارلیمنٹ کے وفد کا جارحیا پہنچنے پرپرتپاک استقبال
کرپٹ خان
پکچرگیلری
Advertisement
آزادکشمیر میں عام انتخابات
آزاد کشمیر میں عام انتخابات اگر بروقت ہوئے تو رمضان مبارک کے بعد جولائی کے دوسرے ہفتے میں منعقد ہو جائیں گے۔الیکشن کمشن نے ابھی تک انتخابی شیڈول کا اعلان نہیں کیا اور توقع کی جا رہی ہے یہ اعلان بہت جلد ہو جائے گا۔چیف الیکشن کمشنر جسٹس غلام مصطفیٰ مغل نے اب تک جو قابل تعریف کام کیا ہے وہ بوگس ووٹرز لسٹوں کی تنسیخ ہے ، انہوں نے اب تک کم و بیش چار لاکھ بوگس ووٹ منسوخ کر دیئے ہیں جو بہت خوش آئند بات ہے، اِس وقت پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی انتخابی میدان میں گرمی گفتار کا مظاہر کر رہی ہیں، جب کہ مسلم کانفرنس اور پی ٹی آئی میں سرکاری طور پر انتخابی اتحاد ہو چکا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اِس اتحاد کے مزید وسعت اختیار کرنے کے امکانات واضح ہیں کیونکہ آزاد کشمیر کی تمام پارلیمانی پارٹیاں ایک نکتے پر متفق ہیں کہ کچھ بھی ہو جائے مسلم لیگ (ن) کو آزاد کشمیر میں اکثریت حاصل نہیں کرنے دیں گے۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں کل 49 نشتیں ہیں، اِن میں 41 براہ راست انتخاب کے ذریعے پُر ہوتی ہیں جبکہ 8 نشتیں عورتوں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں بشمول ایک اوورسیز کے لیے مختص ہیں اور اِن کا انتخاب منتخب اسمبلی ممبران کے ووٹوں سے ہوتا ہے۔49 براہ راست انتخاب والی نشتوں میں 12 پاکستان میں آباد کشمیری مہاجرین کے لیے ہیں جن کی اکثریت صوبہ پنجاب میں ہے جہاں کی حکومت آزاد کشمیر الیکشن کمشن سے کبھی بھی تعاون نہیں کرتی اورپنجاب کی انتظامیہ یہاں سے اپنے من پسند لوگوں کو ہر جائز و ناجائز حربے سے منتخب کروا دیتی رہی ہے۔ اِن12 نشتوں میں سے دو کراچی میں ہیں جہاں ایم کیوایم راج کرتی چلی آرہی ہے، ایم کیو ایم میں اب وہ دم خم نہیں ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک تھا ، اس کے باوجود انہوں نے بلدیاتی انتخابات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر کے ثابت کیا ہے کہ ’’اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبا دیں گے‘‘۔ پھر بھی آزاد کشمیر کے انتخابات کے دوران یہ بات دلچسپ مشاہدے کی ہو گی کہ ایم کیو ایم کس قدر اب بھی موثر جماعت ہے۔ وزریر اعظم نواز شریف نے آزادکشمیر کے عام انتخابات کی مہم چلانے کے لیے اپنی سر براہی میں 18 رکنی پارلیمانی بورڈ اپنے سپشل اسسٹنٹ ڈاکٹر کرمانی کی نگرانی میں بہت پہلے تشکیل دے دیا تھا اور اور آزاد کشمیر مسلم لیگ (ن) نے متعدد مقامات پر انتخابی جلسے کرکے اپنی انتخابی مہم زور و شور سے شروع کی تھی ، لیکن پھر کیا ہوا، پاناما لیکس نے مسلم لیگ (ن) کے غبارے کی ہوا لیک کر دی جس کے باعث پارٹی بڑی حد تک پژ مردگی کا شکار ہے۔ علاوہ ازیں میاں نواز شریف کے شاہی فیصلوں کے ہاتھوں سردار سکندر حیات اور راجہ فاروق حیدر بہت نالاں ہیں او ر خود اپنے کیے پر اند ر ہی اندر کف افسوس ملتے ہیں۔اگرچہ اِن دونوں لیڈروں کومرکز نے یقین دہانی کروائی ہے کہ آزاد کشمیر کی وزارت عظمیٰ کا تاج مشتاق منہاس کے سر کسی طور نہیں رکھا جائے گا لیکن پھر بھی سکندر اور فاروق اپنا اختیار کسی اور کو منتقل کرنے کے بعدبے چین ہیں کہ اب فیصلے تو کوئی اور کرے گا ، اُنہیں تو محض اُن فیصلوں سے آگاہ ہی کیا جائے گا۔ یہ سوچ سوچ کر بیچاروں کے دل پر کیا گزرتی ہوگی اِس کی اصلیت سے تو وہی واقف ہوں گے۔ ادھر مسلم لیگ (ن) کی حریف جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)بڑے دھوم دھڑکے سے آزاد کشمیر کے بڑے شہروں میں بڑی بڑی ریلیاں منعقد کر رہی ہے، اگرچہ فی الوقت آزاد کشمیر اسمبلی میں اُن کی ایک ہی نشست ہے لیکن پارٹی سربراہ بیرسٹر سلطان محمود یہ دعویٰ کرتے پھرتے ہیں کہ اُن کی جماعت اکثریت حاصل کرے گی۔ مسلم لیگ (ن) کے کچھ رہنمائوں نے مسلم کانفرنس کے لیڈر سردار عتیق احمد خان سے رابطہ کرکے اتخابی اتحاد کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی تھی تاہم یہ کوشش دونوں طرف سے مخالفت کے باعث کامیاب نہ ہو سکی۔ مسلم لیگی قیادت جو سردار سکندر حیات اور راجہ فاروق حیدر پر مشتمل ہے، ایسے اتحاد کے سخت مخالف ہیں، کیونکہ اُن کا کہنا یہ ہے کہ اگر مسلم کانفرنس کے ساتھ اتحاد ہی کرنا تھا تو بڑی منتوں کے بعد اور راجہ ظفر الحق کی سفارشوں کے نتیجے میں آزاد کشمیر مسلم لیگ (ن) بنانے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ یہ دونوں رہنما سردار عتیق خان کو جس شدت کے ساتھ نا پسند کرتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ عتیق اُن دونوں کو ناپسند کرتا ہے۔ علاوہ ازیں مسلم لیگ نے بعض ایسی نشستوں پر بھی اپنے اُمیدوار کھڑے کر رکھے ہیں کہ جو اِس سے قبل مسلم کانفرنس کی مضبوط اور یقینی کامیابی کی نشتیں تھیں۔ لہٰذا مسلم لیگ اور مسلم کانفرنس کا انتخابی اتحاد تو یقینی طور پر خارج از امکان ہو چکا ہے۔ دیگر ممکنہ اتحاد قائم ہونے کے لیے اگلے دو ہفتے بہت اہم ہوں گے۔ پی ٹی آئی اور مسلم کانفرنس کے اتحاد میں پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کی شمولیت بھی ممکن ہے۔ علاوہ ازیںآزاد کشمیر مسلم لیگ (ن) یہ چاہتی ہے کہ جماعت اسلامی اور آزادکشمیر پی پی پی (سردار خالد ابراہیم) اُس کے ساتھ انتخابی اتحاد کریں۔ لیکن ابھی تک یہ محض خواہش تک محدود ہے۔ اِن عام انتخابات میں وفاق کی بھر پور مداخلت کے روشن امکانات ہیں اور ماضی میں بھی ایسا ہوتا آیا ہے۔ وزیر امور کشمیر چوہدری برجیس طاہر پر الزام ہے کہ وہ جموں کشمیر کونسل کے ذریعے آزاد کشمیر میں متوازی حکومت قائم کیے بیٹھے ہیں، اور کونسل کے فنڈز کا بے دریغ استعمال نون لیگ کے امیدواروں کی انتخابی مہم پر ہو رہا ہے ، یہ فنڈز کشمیر کے لوگوں کے ٹیکسوں سے حاصل ہوتے ہیں ۔ وفاقی وزارت امور کشمیرکی اِس اندھیر نگری کے خلاف حکومت آزادکشمیر اپنے صدر اور اسمبلی ممبران کے ساتھ پارلیمنٹ ہائوس کے باہر احتجاج کر چکی ہے۔ لیکن پاکستان ایک ایسا ملک بن چکا ہے جہاں احتجاج کرنے والے احتجاج کرنے کے لیے آزاد ہیں اور ارباب بست و کشاد اپنی من مانیاں کرنے میں آزاد ہیں۔ پی پی پی آزاد کشمیر جو گزشتہ پانچ برس سے حکومت میں تھی، کا ٹریک ریکارڈ قطعاًقابل ستائش نہیں۔ یہ دور بدترین نا اہلی، پی پی پی کی مرکزی قیادت کے ریموٹ کنٹرول کے باعث اور بد ترین بد عنوانیوں کی وجہ سے بد نام زمانہ ہے۔ چوہدری مجید نے بغیر کسی معقول منصوبہ بندی کے جگہ جگہ نئے سکول، کالج اور یونیورسٹیا ں کھول کے اور انہیں ہر کس و ناکس کا نام دے کر سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن اُنہیں شہرت جو ملی وہ ایک انتہائی بد عنوان اور نا اہل حکمران کی شہرت تھی۔ آزاد کشمیر کی ایک معروف شخصیت مرحوم آغا عاشق حسین ایڈوکیٹ جو کل آزاد کشمیر کے کمشنر اور پھر امور منگلا ڈیم کے کمشنر بھی رہے، اُن کے بیٹے آغا سجاد حسین پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر وادی کشمیر کی راولپنڈی اسلام آباد کی نشست سے الیکشن کے معرکے میں شریک ہیں۔ سجاد بنیادی طور پر ایک انجینئر ہیں انڈسٹریل ڈویلپمنٹ بنک آف پاکستان کے سابق منیجر ہیں۔ وہ اس وقت اسلام آباد میں ایک کنسلٹنسی چلاتے ہیں۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے سابق منسٹر مرحوم افتخار حسین انصاری اُن کے چچا تھے اور آل پارٹی حریت کانفرنس کے لیڈر مولانا عباس انصاری ان کے فسٹ کزن ہیں۔ اِس وجہ سے راولپنڈی اسلام آباد کے کشمیری ووٹروں میںاُن کو جو عزت اور مقام حاصل ہے، اس کے باعث ان کی کامیابی کے واضح امکانات موجود ہیں اور اِس طرح اِس نشست کو پی ٹی آئی کی مٖحفوظ نشست کہنا مبالغہ نہیں ہو گا۔ آزاد کشمیر کی پہ در پہ حکومتوں نے محدود اختیار کے باعث نہ تو کوئی معاشی منصوبہ بندی اور نہ ہی سرمایہ کاری سے متعلق کبھی کوئی پلاننگ کی۔ لوگوں کو روز گار فراہم کرنے کے لیے ان کے پاس اس کے سوائے اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ نئے ایڈمنسٹریٹو یونٹ کھولیں اور سکول کالج بنائیں، چنانچہ آزاد کشمیر کے ڈھائی ضلعے اب دس ضلعوں میں تبدیل ہو چکے ہیں ، کل جہاں پرائمری سکول تھا اب وہاں ڈگری کالج ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آزادکشمیر کی شرح خواندگی پاکستان، بھارت اور بھارتی مقبوضہ کشمیر سے کہیں زیادہ ہے لیکن معیار تعلیم اِس قدر پست ہے کہ جس کی نظیر کہیں نہیں ملتی۔ سرکاری نوکریوں کے مواقع محدود ہو چکے ہیں جبکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ بے روزگاروں کی تعداد کا آتش فشاں پھٹنے کے قریب ہے جس کے نتائج بہت گھناونے ہوں گے۔کا بے دریغ استعمال نون لیگ کے امیدواروں کی انتخابی مہم پر ہو رہا ہے (ختم شد)