مقبول خبریں
پاکستان کے نظریاتی استحکام کیلئے مسلم لیگ کو منظم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے:فدا حسین کیانی
گوادر چیمبر آف کامرس کے نومنتخب صدر گوادر رئیل اسٹیٹ کیلئے اثاثہ ثابت ہونگے: ذیشان چوہدری
کشمیری آزادی کی جنگ لڑ رہےہیں ،یہ انکا پیدائشی حق ہے:چوہدری جاوید ،چوہدری یعقوب
نواز شریف کے دوبارہ پارٹی صدر بننے کی راہ ہموار، شق 203 سینیٹ سے بھی منظور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی فائرنگ، مزید 2 نوجوان شہید
کونسلر وحید اکبر کا آزاد کشمیر کے جسٹس شیراز کیانی کے ا عزاز میں عشائیے کا اہتمام
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
ڈاکٹر سجاد کریم کی قیادت میں یورپی پارلیمنٹ کے وفد کا جارحیا پہنچنے پرپرتپاک استقبال
کرپٹ خان
پکچرگیلری
Advertisement
پانامہ یا ہنگامہ
پاکستان میں وسائل اور مسائل کی کوئی کمی نہیں ۔ سردیاں شروع ہوتے ہی گیس غائب اور گرمیاں آتے ہی بجلی رفو چکر ہو جاتی ہے اور ساتھ ہی سیلاب کی آمد شروع ہو جاتی ہے۔ جس سے ہزاروں انسانوں، مویشیوں سمیت لاکھوں کے املاک کا نقصان بھی ہو تا ہے۔ تھر میں موت اژدھا بن کر روز کئی ننھی جانوں کو نگل رہی ہے۔ حکومتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں جس کے باعث تا حال غذائی قلت کا راج ہے۔ یہ تمام وہ خبریں ہیں جو موسم کے ساتھ ساتھ بدلتی تو ضرور ہیں مگر صرف لفظوں کی حد تک۔ ان تمام عوامی مسائل کے برعکس آج کل صرف ایک ہی خبر سر گرم ہے ہر ٹی وی چینل پر ، سوشل میڈیا پر صرف ’’پانامہ کا ہنگامہ ‘‘ ہے۔ مختصراً بتانا چاہوں گی کہ پانامہ پیپرز یا لیکس ہیں کیا؟ آف شور کمپنی کیا ہوتی ہے؟ یہ کیوں بنائی جاتی ہے؟ اور کیا ضرورت پیش آتی ہے کہ اپنے ملک سے باہر کمپنی کھولی جائے؟ عالمی مالیاتی دنیا میں تمام ممالک کے دولت اور ٹیکس کے اپنے اپنے قوانین ہیں۔ تمام تر قوانین کے باوجود دنیا بھر میں ایک درجن کے لگ بھگ ایسے چھوٹے چھوٹے جزائر یا ممالک ہیں جہاں کے دولت اور ٹیکس قوانین اس قدر نرم ہیں کہ انہیں ٹیکس ہیون یعنی ٹیکس کی جنت کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ پانامہ ان میں سے ایک ہے۔ جہاں آف شور کمپنیوں کی برمارہے۔ آف شور کمپنی کا قیام غیر قانونی نہیں ہوتا لیکن اس کے پیچھے کے مقاصد اِسے غیر قانونی بنا سکتے ہیں۔ آف شور کمپنی وہ فرم ہوتی ہے جو کوئی شخص اپنے ملک سے پیسے باہر لے جا کر کمپنی اوپن کرتے ہیں اور ٹیکس کی ادائیگی سے بچ جاتے ہیں۔ ملک سے پیسوں کو باہر لے جانے کے بہت سے طریقے ہیں۔ آفیشل طریقہ بھی ہے اور اَن آفیشل بھی ہے۔ فارن ایکسچینج ، سٹیٹ بینک کے ذریعے یا پھر ہنڈی حوالہ کے ذریعے بھی جو غیر قانونی طریقہ ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی بتایا گیا کہ یہ آف شور کمپنی ان مقامات پر قائم کی جاتی ہے جہاں ٹیکس میں چھوٹ دی گئی ہو۔ اور یہ سوال نہ پوچھا جائے کہ سرمایہ کاری کیلئے پیسہ کہاں سے آیا؟ ایسی کمپنیوں کی نہ تو Audit Reportمانگی جاتی ہے نہAnnual Returnظاہر کیا جاتا ہے۔ ان کا مقصد اصل مالکان اور اس میں استعمال ہونے والے فنڈ کو گول مول کرنا ہوتا ہے۔ ایسی کمپنی جب کھولی جاتی ہے تو اس کمپنی یا اس کے مالکان پر اپنے ملک کے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا اور نہ ہی لازم ہوتا ہے کہ آف شور کمپنی کے مالک اپنے ملک میں اس کمپنی کی ملکیت ظاہر کریں۔ پاکستان میں پانامہ کا شور اس لئے زیادہ ہو رہا ہے کیونکہ بڑے بڑے سیاستدانوں کے نام اس میں منظر عام پر آئے ہیں۔ جن میں سرِ فہرست نواز شریف کے دونوں بیٹے اور بیٹی مریم نواز شامل ہیں اور چوہدری برادران ، رحمن ملک ، بینظیر بھٹو مرحوم اور سیف اللہ خاندان کے علاوہ کئی بڑے بڑے سرمایہ دار ، حجBankersکے نام آف شور کمپنی بنانے میں ملوث ہیں۔ نواز شریف حکوم کا کہنا ہے کہ عمران خان جو الزامات لگاتے تھے وہ تمام غلط ثابت ہو ئے ہیں کیونکہ نواز شریف کا نام لیکس میں نہیں آیا۔ اس لئے وہ غلط بیانی پر عوام سے معافی مانگے۔ جبکہ عمران خان کو بھی نواز شریف حکومت پر تنقید کا ایک اور سنہری موقع دوبارہ سے مل چکا ہے۔ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وزیر اعظم کے برخوردار پاکستان کی دولت پاکستان واپس لائیں ۔ نواز شریف کا نام نہیں آیا مگر حسن نواز ، مریم نوازحسنین نواز اِن ہی کے بچے ہیں تو کیسے کہتے ہیں نواز شریف کا نام نہیں آیا؟ اپوزیشن وہی کر رہی ہے جو ایک اپوزیشن کرتی ہے۔ مگر حکومت اپنا موقف واضح کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔ ایسے الزامات کا جواب جہاں سوچ سمجھ کر دینا چاہیے وزیر اعظم نے نہ جانے کس کے مشور ے پر قوم سے خطاب کر ڈالا اور وہ خطاب پانامہ لیکس کے بارے میں کم خاندانی کاروبار کی تاریخ کے بارے میں زیادہ تھا۔ عمران خان اور دیگر سیاسی جماعتیں اس وقت سب کچھ بھول کر بس پانامہ لیکس پر گفتگو میں لگے پڑے ہیں۔ عمران خان یہ کہہ رہے ہیں کہ وزیراعظم کا خاندان اپنا سارا سرمایہ ملک میں واپس لے کر آئیں۔ کسی حد تک یہ مطالبہ درست بھی ہو گا کہ اگر ملکی پیسہ ملک میں واپس آنا چاہیے۔ گزشتہ روز حامد میر صاحب کا کالم پڑھ رہی تھی ۔ اس میں ایک بہت اچھے سوال کی طرف توجہ مبذول کروائی گئی تھی ۔ انہوں نے لکھا کہ یہ قانونی جنگ ہے یا اخلاقی؟ قانون کو سامنے رکھ کر وزیر اعظم یا ان کے خاندان کے کسی فرد پر کوئی الزام ثابت کرنا بہت مشکل ہے۔ یہ اخلاقی معاملہ ہے۔آئس لینڈ کے وزیر اعظم نے قانونی تقاضے کی وجہ سے نہیں اخلاقی بنیادوں پر استعفیٰ دیا ہے۔ اخلاق یہ کہتا ہے کہ وزیر اعظم کے بیٹوں کو پانامہ جیسے دور دراز ملک میں اپنی کمپنیاں رجسٹرڈ نہیں کرانی چاہیے تھیں۔ کیونکہ ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ نیک مقاصد کیلئے نہیں کھولی جاتی ۔ وزیر اعظم کے خاندان سے سرمایہ واپس لانے کا مطالبہ کرنے والے اپنی اولادوں کو بھی پاکستان واپس لائیں۔ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے تک تو ٹھیک ہے لیکن نوکری یا کاروبار پاکستان میں کیوں نہیں؟ کل کو سوال اُٹھ گیا تو کیا جواب دو گے؟ آخر میں صرف انتا کہنا چاہوں گی کہ دوسروں پر انگلی اُٹھانا بہت آسان ہے مگر اپنا دفاع کرنا بہت مشکل۔ابھی تو 50ملکوں کے 140سیاستدانوں کے بارے میں بتایا گیا ہے ۔ ابھی 1کروڑ 10لاکھ دستاویزات دنیا کے سامنے آنا باقی ہیں۔ کیا معلوم اگلا نام کس کا ہو گا؟؟ اس لئے جوش سے نہیں ہوش سے کام لیں اور عوام کو حکومت اور اپوزیشن گمراہ کرنا چھوڑ دیں۔ عام آدمی کے مسائل پر بھی ایسے ہنگامہ ہو تو شائد مسائل کا حل بھی مل جائے ۔ ایسا نہیں کہ پانامہ لیکس پر کیے جانے والے مطالبات غلط ہیں۔ کسی حد تک وہ درست بھی ہونگے اور ابھی تو پانامہ کی اگلی قسط آنا باقی ہے………معذرت کے ساتھ۔ ؎ ’’ابھی تو آغاز ِ پانامہ ہے رونا ہے کیا.... آگے آگے دیکھو لیکس میں ہوتا ہے کیا‘‘