مقبول خبریں
یورپین اسلامک سینٹر کے منتظم اعلیٰ سکالر مولانا محمد اقبال کے والد محترم کی وفات پر اظہار تعزیت
اوورسیز پاکستانیوں کیلئے پنجاب میں سرمایہ کاری کے منافع بخش مواقع ہیں،افضال بھٹی
پاک برٹش انٹر نیشنل ٹرسٹ کے چیئرمین چوہدری سرفراز کی جانب سے عشائیہ کی تقریب
میاں صاحب نظریے کو سمجھتے نہیں، وقت کے ساتھ مؤقف بدلنا نظریہ نہیں ہوتا:بلاول
مقبوضہ کشمیر :بھارتی فوج کے ہاتھوں ایک اور نوجوان شہید،مظاہرے،جھڑپیں
لوٹن ٹائون ہال میں ادبی بیٹھک، لارڈ قربان نے صدارت کی معروف شعرا کرام کی شرکت
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
پاکستان کی سیاسی صورتحال، یورپین یونین جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے : ڈاکٹر سجاد کریم
مودی کی سبکی
پکچرگیلری
Advertisement
صلاحیتیں قدرت کی امانت ہیں
کتاب لکھنا مشکل کام ہے یا کتاب بیچنا، یہ ایک پیچیدہ سوال ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں کتاب لکھنے والے پیچھے رہ جاتے ہیں کتاب بیچنے والے آگے نکل جاتے ہیں۔میں نے بہت سے شاعروں، ادیبوں اور کالم نگاروں کو زندگی بھر اس تگ و دو میں دیکھا ہے کہ کسی طرح کسی پبلشر کی ان پر نظر عنایت ہوجائے اور جو مسودہ انہوں نے برسوں سے سنبھال رکھا ہے کسی طور کتاب کی صورت منظر عام پر آجائے۔ایسا ہو بھی جاتا ہے، مسودے کتاب بن جاتے ہیں لیکن بے چارے مصنف کی قسمت میں اپنی شائع شدہ کتاب کی چالیس پچاس جلدوں کے سواء اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ پبلشر رائلٹی کا وعدہ کرتے ہیں لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ان وعدوں کو بھی دیمک چاٹ جاتی ہے۔اور اگر بدقسمتی سے کتاب کی اشاعت کے کچھ ہی عرصے بعد مصنف اس جہان فانی سے کوچ کر جائے تو اس کے لواحقین ہر ایڈیشن کی اشاعت پرملنے والی اعزازی جلدوں کے’ عظیم الشان پیکج‘ سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔اگرچہ ہمارے ہاں بہت سے اچھے اشاعتی ادارے بھی ہیں اور اعلی روایات کے پاسدار پبلشر بھی لیکن ان کی تعداد بحر حال بہت کم ہے۔سرکاری سطح پر بھی کچھ ادارے ہیں جو کتابوں کی اشاعت میں شاعروں ادیبوں کے کسی حد تک مددگار ہوتے ہیں لیکن ان اداروں کی لکھاریوں تک اور لکھنے والوں کی ان اداروں تک رسائی بذات خود ایک مشکل مرحلہ ہوتی ہے۔جیسے ہمارے ہاں کوئی بھی ادبی ایوارڈ حاصل کرنا ’آسان‘ نہیں ہوتا ویسے ہی کتابوں کی اشاعت میں ان اداروں کے تعاون کا حصول بھی سہل نہیں ہوتا، شروع سے آخر تک خوشامد اور تعلقات کی ضرورت ہوتی ہے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں اس خوشامد کلچر نے حق داروں کو ہر جگہ حق سے محروم کر رکھا ہے۔ مگر پھر بھی اچھی بات یہ کہ لکھنے والے لکھ رہے ہیں، چھاپنے والے چھاپ رہے ہیں، پڑھنے والے پڑھ رہے ہیں، یہ تسلسل زندگی کی علامت ہے۔سیانے کہتے ہیں کہ ہر لفظ کی ایک مخصوص تاثیر ہوتی ہے، ہر لفظ ہر فرد کے لیے نہیں ہوتا، لکھنے والے کو سوچنا پڑتا ہے کہ وہ کس کے لیے لکھ رہا ہے، اس کا لکھا کون پڑھے گا۔اگر مصنف کو اس بات کا اندازہ ہوجائے کہ اس کا مخاطب کون ہے تو یقین کیجیے کہ اس کے لفظ فاتح ہوکر تاریخ بن جاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک ایسی ہی کتاب منظر عام پر آئی کہ جس کے لفظوں نے بہت سے دلوں کو فتح کر لیا مگر افسوس کہ لکھاری نے جن دلوں کو فتح کیا وہ سب کے سب ہندوستان میں رہتے ہیں اور لکھاری کا تعلق پاکستان سے ہے۔ امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر جناب حسین حقانی کی اہلیہ محترمہ فرح ناز اصفہانی پاکستان میں علم و ادب ، صحافت اور سیاست کے حوالے سے ایک بہت بڑا نام ہیں،انہوں نے طویل عرصہ امریکا اور برطانیہ سمیت کئی ممالک کے نشریاتی اداروں میں خدمات سر انجام دیں،سنہ 2008سے 2012تک وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے ممبر قومی اسمبلی ہونے کے ساتھ ساتھ اس وقت کے صدر پاکستان کی میڈیا ایڈوائزر بھی رہیں۔مئی 2012 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے امریکا اور پاکستان کی دوہری قومیت ہونے کے باعث ان کی قومی اسمبلی میں رکنیت معطل کر دی۔فرح ناز اصفہانی نے کچھ عرصہ قبل ایک کتاب لکھی۔ جس کا نام ہےPurifying the Land of the Pure: Pakistans Religious Minorities۔ 13جنوری 2016کو ایک بھارتی تنظیم آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن نے اس کتاب کی تعارفی تقریب کا اہتمام کیا جس میں جناب حسین حقانی اور ان کی اہلیہ محترمہ نے بھی شرکت کی۔آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے بارے میں یہ بات عام ہے کہ نئی دہلی میں قائم اس تنظیم کے تانے بانے بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی راء سے جڑے ہوئے ہیں۔مذکورہ تقریب میں اسٹیج سیکریٹری کے فرائض مسٹر اشوک ملک نے سر انجام دیے جوایک معروف صحافی ہیں اور بی جے پی کے ہمدردوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ مسٹر اشوک ملک نے تقریب کی ابتداء میں پاکستان میں اقلیتوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے حوالے سے لمبی چوڑی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں آج جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ بانی پاکستان کی خواہش اور تعلیم کے بالکل برعکس ہورہا ہے۔تقریب میں سابق سفیر مسٹر ویوک کاجو نے بھی شرکت کی جو اپنی پاکستان دشمنی کے حوالے سے ساری دنیا میں جانے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کے علاوہ بہت سے بین الاقوامی تجزیہ کار، ریٹائرڈ ایٹیلی جنس افسران اورسیاستدان بھی شریک محفل تھے۔تمام مقررین ایک ہی بات پر مصر تھے کہ پاکستانیوں کو اپنی شناخت کے لیے مذہب کا سہارا لینے کی بجائے ہندوستانی تہذیب و ثقافت کو اپنی پہچان بنانا چاہیے تھا اور پاکستانی اگر ایسا کرتے تو یہ زیادہ حقیقت پسندانہ عمل ہوتا۔قصہ مختصر یہ کہ تقریب میں شامل ہر مقرر نے حسب استطاعت پاکستان، نظریہ پاکستان اور پاکستان کے نظام کو لعن طعن کا نشانہ بنایا، انٹرنیٹ پر دستیاب اطلاعات کے مطابق شرکاء نے اس بات پر بھی کثرت رائے سے اتفاق کیا کہ مذہب کی بنیاد پر قوم کی تشکیل نہیں کی جا سکتی ہے اور یہ بھی کہا گیا کہ ہے جنرل ضیاء الحق کے زمانہ اقتدار میں اقلیتوں کے استحصال کی ابتدا ہوئی، پاکستان آرمی اس سے پہلے بنگالیوں کو بھی اسی طرح کے طرز عمل کا نشانہ بنا چکی ہے۔ مقررین کا کہنا تھاکہ پاکستان میں اقلیتوں کے حالات اسقدر خراب ہو چکے ہیں کہ ماضی میں اقلیتوں کی شرح ۲۳ فیصد تھی جو اب مبینہ طور پر ۳ فیصد پر آگئی ہے۔اس تقریب کے حوالے سے دو باتیں نہایت توجہ کی حامل ہیں ایک تو یہ کہ ایک پاکستانی مصنفہ کو مرکز و محور بنا کر ایک ایسی محفل میں پاکستان کا مذاق اڑایا گیا جس میں پاکستان کے ایک سابق سفیر بھی موجود تھے اور دوسری بات یہ کہ یہ سب کچھ ایک ایسے ملک میں ہوا جہاں اقلیت ہونا کسی گالی اور الزام سے کم نہیں۔بھارت میں اقلیتوں کی بھی ہزاروں قسمیں ہیں۔ کہیں مذہب کو بنیاد بنایا جاتا ہے تو کہیں ذات پات کو۔ سکھ ،عیسائی ،مسلمان تو ایک طرف ،اونچی ذات کے ہندو کم تر ذاتوں کے ہندوؤں سے بھی اقلیت کا سلوک کرتے ہیں۔کوئی دالت ہندو غلطی سے اونچی ذات کے ہندوؤں کی آبادی میں داخل ہوجائے یا اس کا اونچی ذات کے کسی ہندو سے کوئی جھگڑا ہو جائے تو اس کے گھر بار حتی کہ بیوی بچوں کو بھی زندہ جلادیا جاتا ہے۔ جناب حسین حقانی اور فرح ناز اصفہانی کی موجودگی میں پاکستان میں اقلیتوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کی کہانیاں سنانے والوں کو ۱۵ ،اکتوبر،۲۰۱۵ کی وہ خوفناک رات کیوں بھول گئی کہ جب اونچی ذات کے ہندوؤں نے دلی کے نزدیک فرید آباد گاؤں میں جتندر نام کے ایک دالت ہندو کے گھر میں پٹرول چھڑک کر آگ لگادی گئی جس میں اس کے دو بچے،تین سالہ بیٹا وبھاو اور نو ماہ کی بیٹی دیویا زندہ جل کر کوئلہ ہوگئے اور جتندر اپنی بیوی سمیت آج بھی ایک ہسپتال میں زندگی کے دن پورے کر رہا ہے۔اقلیتوں کے ساتھ بھارت میں ہونے والے اس ظلم و ستم پر پڑھے لکھے اعتدال پسند ہندو بھی کڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔ آؤٹ لک انڈیا کے ستمبر۲۰۱۵ کے ایک شمارے میں للیت کے جیہا کا ایک مضمون شائع ہوا جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ بھارت میں آباد اقلیتوں کو انتہا پسند ہندوؤں کی طرف سے مسلسل خوفناک تشدد، زبردستی مذہب کی تبدیلی اور ’ گھر واپسی‘ جیسی غیر منصفانہ تحریکوں کا سامنا رہتا ہے۔ گھر واپسی تحریک سے مراد غیر ہندوؤں کو ہندو مذہب کی طرف لانا ہے کیونکہ انتہا پسند ہندوؤں کا خیال ہے کہ ہندو مت قدیم ترین مذاہب میں سے ایک ہے، لہذا وہ تمام لوگ جو اب ہندو نہیں ہیں ان کے آباؤ اجداد ہندو ہوتے تھے۔اس تحریک میں آر ایس ایس کے انتہا پسند ہمیشہ آگے آگے نظر آتے ہیں اور مودی صاحب کے برسر اقتدار آنے کے بعداس تحریک کی سرگرمیوں میں واضح تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ کیا ظلم و ستم ہورہا ہے، ہم پاکستانیوں کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں، یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے، لیکن ایک پاکستانی مصنفہ اگر بھارت جاکر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرا ئی کی کسی محفل کا حصہ بنے گی توساری قوم کو تکلیف ہوگی۔اگر قدرت نے ہمیں لکھنے یا بولنے کی صلاحیت عطا کر دی ہے تو اس کا یہ مطلب بالکل بھی نہیں کہ جو منہ میں آئے ہم بولتے چلے جائیں، صلاحیتیں قدرت کی امانت ہوتی ہیں، ان کا غلط استعمال خیانت کے زمرے میں آتا ہے، ایک بات اور بھی ہے، زمین ماں کی طرح ہوتی ہے،ماؤں کو نہ تو تبدیل کیا جاسکتا ہے نہ ہی ان کو بدنام کرنا اخلاقیات کی کسی کتاب میں جائز شمار ہوتا ہے۔کیا ہمارے قانون اور آئین میں اس شخص سے پاکستان کی شہریت چھین لینے کا کوئی طریقہ ہے کہ جس کو پاکستان پسند نہیں اور وہ دنیا میں پاکستان کی رسوائی کا سبب بن رہا ہو ۔