مقبول خبریں
یورپین اسلامک سینٹر کے منتظم اعلیٰ سکالر مولانا محمد اقبال کے والد محترم کی وفات پر اظہار تعزیت
اوورسیز پاکستانیوں کیلئے پنجاب میں سرمایہ کاری کے منافع بخش مواقع ہیں،افضال بھٹی
پاک برٹش انٹر نیشنل ٹرسٹ کے چیئرمین چوہدری سرفراز کی جانب سے عشائیہ کی تقریب
میاں صاحب نظریے کو سمجھتے نہیں، وقت کے ساتھ مؤقف بدلنا نظریہ نہیں ہوتا:بلاول
مقبوضہ کشمیر :بھارتی فوج کے ہاتھوں ایک اور نوجوان شہید،مظاہرے،جھڑپیں
لوٹن ٹائون ہال میں ادبی بیٹھک، لارڈ قربان نے صدارت کی معروف شعرا کرام کی شرکت
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
پاکستان کی سیاسی صورتحال، یورپین یونین جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے : ڈاکٹر سجاد کریم
مودی کی سبکی
پکچرگیلری
Advertisement
ذہنوں کی روشنی ہی اصل زندگی ہے یار
شاید دہشت گردوں کا خیال ہو کہ آرمی پبلک سکول پشاور میں سال ڈیڑھ سال پہلے ہونے والی خون ریز داستان ہمارے ذہنوں سے محو ہو چکی ہے۔ اسی لیے انہوں نے ایک بار پھر ہمارے بچوں کو خون میں نہلا دیا، تاکہ ہمارے ذہنوں سے سوگواری کی چادر کسی طور ہٹ نہ سکے۔ہم اپنے بچوں کے غم میں ہلکان ہوتے رہیں، ہمارے آنسو آنکھوں سے بہہ بہہ کر خود ہمیں ہی بے اثر محسوس ہونے لگیں، ہم رو رو کر تھک جائیں اور ہمارے اعصاب شل ہو جائیں۔بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے بعد گذشتہ روز چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی بھی دہشت گردوں کا نشانہ بن گئی۔ بیس سے زائد طلباء اور اساتذہ شہید ہوگئے، بے حساب زخمی بھی ہیں۔ درسگاہ کو پل بھر میں مقتل بنا دیا گیا۔شاید دہشت گردوں کا خیال ہے کہ اس طرح کے قتل و غارت سے پاکستانی قوم خوفزدہ ہوجائے گی اور لوگ اپنے بچوں کو سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں اور مدارس میں بھیجنا چھوڑ دیں گے،پاکستان کے تعلیمی ادارے ویران ہوجائیں گے اور ساری قوم بے علم اور جاہل رہ جائے گی، ممکن ہے دہشت گرد تعلیمی اداروں کو اس لیے نشانہ بنا رہے ہوں کہ بے علم اور جاہل قوم کو تباہ کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔لیکن دہشت گردوں کو اس بات کا شاید بالکل بھی اندازہ نہیں کہ مسلمان اور علم کا تعلق تعلیمی اداروں اور درسگاہوں کا محتاج نہیں ہوتا۔مسلمان تو خود ایک کتاب بھی ہوتا ہے اور درسگاہ بھی لیکن پھر بھی دہشت گردوں کی نئی کاروائیاں ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔کیا دہشت گرد ایک بار پھر متحد ہورہے ہیں، کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے دہشت گردوں کی خاموشی کو ان کی شکست سمجھ لیا ہو اور یہ کہ کیا آپریشن ضرب عضب کو مزید قوت کے ساتھ جاری رکھنے کی ضرورت ہے؟یہاں ہمیں اس بات پر بھی غور کر نا چاہیے کہ کیا من حیث القوم ہماری ذمے داری صرف یہی ہے کہ ہر واقعے کے بعد ہم اور ہمارے راہنما محض سخت الفاظ میں دہشت گردی کی ہر کاروائی کو بزدلانہ کاروائی قرار دے کر سخت مذمت کردیں یا پھر ہمارے موسیقار اور گلوکار شہید ہونے والوں کی یاد میں آنکھوں کو نم کر دینے والے گیت کمپوز کرنے میں اپنی ساری قوت صرف کردیں، ہمارے شاعر نئی نظمیں لکھیں اور ہمارے مصور اپنی تصویروں میں شہید ہونے والوں کی بے بسی کو موضوع بنانے لگیں۔ایک ڈیڑھ برس پہلے آرمی پبلک سکول میں دہشت گردوں نے معصوموں کے خون سے جو ہولی کھیلی اس کا ایک بہت بڑا فائدہ ان این جی اوز کو بھی ہوا جن کا سارا سوشل ورک محض فوٹو سیشنز اور سیمینارز کے گرد گھومتا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان تمام گیتوں، تصویروں، نظموں،تقریروں اور تحریروں کا دہشت گردوں کو کیا نقصان ہوا اور شہید ہونے والوں یا ان کے لواحقین کو کیا فائدہ پہنچا۔ یہ درست ہے کہ سانحہ آرمی پبلک سکول کے بعد ہم سب لوگوں میں دہشت گردوں کے خلاف نفرت ضرور پیدا ہوئی، ہم سب متحد ضرور ہوئے لیکن کیا اس سب کے بعدہم نے دہشت گردوں کو واقعی شکست دے دی؟ دہشت گردوں سے نمٹنا کسی بھی ملک میں عام آدمی کے بس میں نہیں ہوتا۔اس کام کے لیے سیکیورٹی ادارے آگے بڑھ کر قدم اٹھاتے ہیں۔ یہ ادارے اپنی کاروائیوں کے لیے نہ توکسی میڈیا کوریج کے طلب گار ہوتے ہیں نہ ہی انہیں عام لوگوں کی طرح عوامی سطح پر کسی پزیرائی کی ضرورت ہوتی ہے، ہاں یہ ضرور ہے کہ انہیں اپنے مشن کو کامیابی سے آگے بڑھانے کے لیے سول انتظامیہ اور عوام سے تعاون کی خواہش ضرور ہوتی ہے۔ اس تعاون کے بغیر کامیابی کا مرحلہ طے تو ہوجاتا ہے مگر دیر سے۔آپ کراچی کی مثال ہی دیکھ لیں، محض ایک ڈیڑھ برس پہلے کراچی میں اے ٹی ایم سے پیسے نکلوانا، جان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف تھا، بنک سے کیش نکلوانے والے بمشکل حفاظت سے گھر پہنچ پاتے تھے،گلیوں میں موبائل فون چھننا اور پرس کھینچنا معمول کی بات تھی، دو مرلے کا فلیٹ بھی خرید لیں تو شام تک بھتے کی پرچی موصول ہوجاتی تھی، ایسے میں ملکی سرمایہ کاروں نے بنگلہ دیش جیسے ممالک کا رخ کرنا شروع کردیا۔غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری سے خوف کھانے لگے۔ سچ پوچھیے تو کراچی کی معیشت کو اس بد امنی نے بہت نقصان پہنچایا۔میاں نواز شریف نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے مشاورت کے بعد کراچی میں رینجرز کی مدد سے آپریشن کلین اپ کا آغاز کیا جس کے نہایت مثبت نتائج سامنے آئے۔ بے شمار بھتہ خور، ٹارگٹ کلرز، اغواء برائے تاوان کے مجرم، قبضہ گروپوں کے لوگ، دہشت گرد ، تخریب کار، غیر ملکی ایجنسیوں کے ہرکارے اور سب سے بڑھ کر دہشت گردوں کے سہولت کار گرفتار بھی ہوئے، عدالتوں میں پیش کیے گئے، بہت سے مارے بھی گئے، کراچی کے شہریوں نے سکھ کا سانس لیا لیکن جب تحقیقات کے نتیجے میں بہت سے معززین کے نام سامنے آنے لگے تو بڑے بڑوں کی نیندیں حرام ہوگئیں، رینجرز کے آپریشن کے خلاف آوازیں بلند ہونے لگیں، قصہ مختصر آپریشن کو روکنے اور رینجرز کے اختیارات کو محدود کرنے کی باتیں کی جانے لگیں۔دہشت گردوں نے سکون کا سانس لیا کہ انہیں کوئی تو ہمدرد نظر آیا، آج کراچی ایک بار پھر اسی بھنور کی طرف جارہا ہے جس سے ہمارے سیکورٹی ادارے بڑی مشکل سے کراچی نام کی کشتی نکال کر لائے تھے۔ دہشت گرد چاہے باجوڑ میں ہوں چاہے چارسدہ میں، کراچی میں ہوں یا لاھور میں ،کسی صورت بھی مقامی سہولت کاروں کی مدد اورتعاون کے بغیر اپنی کسی بھی کاروائی میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔مقامی سہولت کاروں پر مقامی لوگ ہی نظر رکھ سکتے ہیں،گلی محلے، گائوں گوٹھ کی سطح پر کون کیا کر رہا ہے، کس کے ہاں لوگوں کی آمدو رفت غیر معمولی ہے، کس کا معیار زندگی تیزی سے بدل رہا ہے، ان تمام چیزوں کی مقامی لوگ ہی خبر رکھ سکتے ہیں۔سیکیورٹی اداروں کے پاس نہ تو الہ دین کا چراغ ہوتا ہے نہ جادو کی چھڑی کہ پل بھر میں سب کچھ انہونا حقیقت بن جائے۔دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہم سب کو یکجا ہونا پڑے گا۔پراپرٹی ڈیلرز سے لے کر علاقے میں ہیئرڈریسنگ کی دکان والے تک،پٹواری سے لے کر تھانیدار تک سب کو اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھنا ہوں گے۔دہشت گرد کل آپ کے بچوں کے سکول کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں، لازم نہیں کہ آپ کے علاقے میں ڈیڈ باڈی لے کر آنے والی ایمبولینس ہمیشہ کسی اور کے گھر کے سامنے بریک لگائے، یاد رکھیے وہ گھر آپ کا بھی ہوسکتا ہے۔ تاہم چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں کے حملے کا تجزیہ کرتے ہوئے ہمیں گزشتہ دنوں پٹھان کوٹ ائر بیس پر نام نہاد حملے کے بعد بھارتی وزیر جناب منوہر پریکارکے اس بیان کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ ممبئی دھماکوں اورپٹھان کو ٹ حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا پھل پاکستان کو اگلے چند مہینوں میں ہی مل جائے گا۔