مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بریڈفورڈ ویسٹ کی پاکستانی کمیونٹی کیلئے امید کی نئی کرن‘ لیبر پارٹی نے ایک بار پھر درخواستیں طلب کرلیں
بریڈفورڈ ... لیبر پارٹی نے آئیندہ انتخابات کیلئے بریڈفورڈ ویسٹ کی سیٹ سے انتخاب لڑنے کیلئے ٹاور ہیملٹ کی صومالی نژاد کونسلر امینہ علی کا انتخاب کرنے کے بعد انہی کی درخواست پر ٹکٹ واپس لے لیا ہے اور نئے امیدواروں سے ایک بار پھر پارلیمانی نشست کے حصول کیلئے درخوساتیں طلب کرلی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پہلے منتخب ہونے والی امیدوار کونسلر امینہ علی نے فیملی مجبوریوں کے باعث اپنا ٹکٹ پارٹی کو واپس کردیا جسکی اصل وجوہات بہرحال ابھی تک سامنے نہیں آسکیں۔ اس صورتحال پر لیبر پارٹی کے سربراہ نے فوری طور پر بریڈفورڈ کی اس نشست کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ اب بریڈ فورڈ کے پارلیمانی حلقے بریڈ فورڈ ویسٹ سے لیبر پارٹی کا پارلیمانی امیدوار بننے کے لئے سابق لارڈ میئر کونسلر نویدہ اکرام سمیت کونسلر کنیز اختر، ناز شاہ اور نسرین کریم نے پارٹی کو درخواستیں دے دی ہیں۔ ناز شاہ اور نسرین کریم اس سے پہلے بھی بریڈ فورڈ ویسٹ کے انتخابی سلسلہ میں شریک رہی ہیں۔ نسرین کریم کو شارٹ لسٹنگ سے پہلے ہی رد کردیا گیا تھا تاہم ناز شاہ نے گزشتہ ہفتہ ہونے والے انتخابی مراحل کا حصہ بنتے ہوئے 13ووٹ حاصل کئے ان انتخابی مراحل میں دوسرے نمبر پر آنے والی کونسلر نویدہ اکرام انفرادی ممبران میں زیادہ مقبول پائی گئیں ۔ درخواستیں دینے والوں میں ہڈرزفیلڈ، مانچسٹر اور لیڈز کی بعض خواتین بھی شامل ہیں۔ لیبر پارٹی پروگرام کے مطابق اب پیر 2مارچ کو تمام امیدواروں کا انٹرویو کرے گی جس کے فوری بعد پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹیو کمیٹی کامیاب امیدوار کے نام کا اعلان کرے گی اور یوں بریڈفورڈ ویسٹ میں لیبر پارٹی کے آئندہ امیدوار کا نام جاننے کیلئے پارٹی ممبران کو پیر کی سہ پہر تک انتظار کرنا ہوگا۔ اس سے قبل کمیونٹی کے سیاست سے عملی طور پر غیر فعال لوگوں کیلئے کونسلر امینہ علی کا چنائو بڑا جھٹکا تھا کیونکہ انکا خیال تھا کہ اس سیٹ کیلئے سابقہ لارڈ میئت نویدہ اکرام کو یہ ٹکٹ مل جائے گا لیکن حتمی انتخاب کیلئے جب مقامی لیبر ووٹرز سے رجوع کیا گیا تو انکے مینڈیٹ کے مطابق یہ قرعہ کونسلر امینہ علی کے نام نکلا۔ ٹاور ہملٹ( لندن) کی لیبر کونسلر کا پارلیمانی امیدوار کی حیثیت سے انتخاب بریڈ فورڈ ویسٹ کی پارلیمانی پارٹی کے اراکین نے خفیہ رائے شماری سے کیا گیا۔ بریڈفورڈ ویسٹ کے لیبر ممبران کی کل تعداد 417ہے جن میں سے 237ممبران گذشتہ روزکے اجلاس میں شامل تھے ۔انہیں تین امیدواروں کونسلر نویدہ اکرام ، ناز شاہ اور امینہ علی میں سے ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ دستور کے مطابق امیدوار کو 30 منٹ دیئے گئے تاکہ وہ ممبران تک اپنا پیغام پہنچاتے ہوئے ان کے سوالوں کے جواب دے سکے۔ سب سے پہلے امینہ علی پھر نویدہ اکرم اور آخر میں نازشاہ کو موقع دیا گیا جس کے بعد ممبران میں بیلٹ پیپر تقسیم کرتے ہوئے انہیں پہلی اور دوسری چوائس کے مطابق امیدواروں کو ووٹ دینے کا کہا گیا۔ پارٹی قوانین کے تحت یہ ضروری تھا کہ کامیاب امیدوار حاضرممبران کے کم از کم 51فیصدووٹ حاصل کرے۔ انتخابی نتائج کے مطابق امینہ علی نے پہلے ہی سطح میں 142 ووٹ حاصل کرتے ہوئے مقابلہ جیت لیا۔ نویدہ اکرام کو 75 جبکہ ناز شاہ کو صرف 13ووٹ ملے۔ سات ووٹ مسترد کردئیے گئے۔ پارٹی امیدوار بنتے ہی کارکنوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امینہ علی نے جارج گیلوے کو چیلنج کیا کہ وہ مقابلہ کے لئے تیار ہوجائیں۔ انتخابی سطح مکمل ہونے کے بعد لٹل ہارٹن لیبر پارٹی کے بعض کارکنوں نے ہوٹل کے باہر احتجاج کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ایک گروپ نے ناجائز مداخلت کرتے ہوئے نویدہ اکرام کو ہرانے میں اپنا کردار ادا کیا جبکہ نویدہ اکرام نے کامیاب امیدوار کو مبارک باد دی۔