مقبول خبریں
برادری ازم پر یقین رکھتے ہیں اور نہ علاقائی تعصب پر اہلیت کی بنیاد پر ڈاکٹر شاہد کی حمائت کر رہے ہیں
اسلام میں جسطرح خدمت انسانی کی حوصلہ افزائی کی گئی اسکی مثال نہیں ملتی: الصف چیریٹی کی امدادی تقریب
لالچی اور خودغرض ٹور آپریٹرز ں نے اللہ کے مہمانوں سے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہے
احتجاج کرنیوالے وزیر اعظم ہائوس آ کر مذاکرات کریں، نواز شریف
کشمیریوں نے بھارت کو بتا دیا وہ جدو جہد آزادی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،علی گیلانی
شیراز خان کی برطانیہ واپسی پر چیئرمین سلطان باہو پیر نیازالحسن سروری قادری کی والدہ کی وفات پر تعزیت
کشمیری اس امر پر متفق ہیں کہ ووٹ انہی کو دیا جائے گا جوحق خود ارادیت کی حمائت کرتے ہیں:کونسلر محبوب بھٹی
برطانیہ میں مقیم کمیونٹی پاکستان سے بے پناہ محبت کرتی ہے، . لارڈ میئر بریڈفورڈکا چھچھ ایسوسی ایشن تقریب سے خطاب
حکومت پنجاب کا اوورسیز کمشنر آفس
پکچرگیلری
Advertisement
احتجاج کرنیوالے وزیر اعظم ہائوس آ کر مذاکرات کریں، نواز شریف
بہاولپور...وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہاہے کہ ریلیوں اوردھرنوں کاوقت گزرچکاہے ،احتجاج کرنیوالے ملکی ترقی نہ روکیں،ایسے موقع پر جب ملک ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے احتجاجی سیاست بلا جواز ہے ،مسائل مظاہروں نہیں بلکہ مکالمے کے ذریعے خوش اسلوبی سے حل کرنے چاہئیں، اگر کسی کے کوئی مسائل ہیں تو میں انہیں بات چیت کی دعوت دیتا ہوں۔قائداعظم سولرپارک میں1000میگاواٹ پاور پراجیکٹ کے پہلے مرحلے کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے تقریب سے خطاب میں انکا کہناتھاکہ جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں، جب ملک ترقی کی طرف رواں دواں ہے ، سڑکیں، بجلی گھر اور صنعتیں قائم کی جا رہی ہیں تو مظاہرے کرنے اور لوگوں کی زندگیوں میں خلل ڈالنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی،احتجاج کرنیوالوں پر زور دیتاہوں کہ پاکستان کو خوشحالی کے سفر پر آگے بڑھنے دیں۔وزیراعظم نے استفسارکیاکہ کیا یہ احتجاج پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیخلاف ہے ؟یا بیروزگاری وغربت کے خاتمہ،سڑکوں وموٹروے کی تعمیر یابجلی کی پیداوار کیخلاف ہے ؟احتجاج کرنے کیلئے آنیوالوں کے مقاصدکیاہیں؟ ریلیوں اور دھرنوں کا وقت گزر چکا ہے ، اس وقت چھوٹی سی غلطی بھی بہت مہنگی پڑ سکتی ہے ، احتجاج سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔نوازشریف نے دعوت دی کہ احتجاج کرنیوالے وزیراعظم ہاوس آکرچائے کافی پیئیں اور بتائیں مسئلہ کیا ہے ؟‘کھیڈاں گے ، نہ کھیڈن دیواں گے ’کی پالیسی ٹھیک نہیں، دھاندلی کا شور مچانے والے یہ تو بتائیں کہ دھاندلی ہوئی کہاں ہے ؟یہ درست نہیں کہ جہاں جیتے وہاں دھاندلی نہیں اورجہاں ہارے وہاں دھاندلی کا الزام۔وزیراعظم نے عمران خان کانام لئے بغیر کہا کہ‘‘میں انکے پاس چل کر گیاتھا، وہ بھی وزیراعظم ہاؤس آئیں اور معاملات واختلافات پر بات کریں،ساری زندگی کھیل میں گزاری،اب بھی کھیلو لیکن ملک کو آگے چلنے دو،ترقی مت روکو،‘آپ ساری زندگی کھیلتے رہے ہیں ،آج بھی کھیل کے اسی جذبے کا مظاہرہ کریں’۔وزیراعظم کاکہناتھاکہ ہمیں تویہی سمجھ نہیں آرہا کہ ا حتجاج کس بات پر کیا جارہا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کسی بھی حکومت نے بجلی کے مسئلے پر توجہ نہیں دی لیکن ہم پاکستان کو اندھیروں سے نکالنا چاہتے ہیں،دوسری طرف احتجاج کرنیوالے ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں،عوام نے بہت مصیبتیں برداشت کرلیں، اب ملک کو ترقی کرنے دیں ،ترقی روکنے والی سیاست چھوڑ دینی چاہئے ،عوام کو لوڈ شیڈنگ کی لعنت سے نجات دلانے کیلئے موجودہ حکومت کے عزم کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت بجلی پیداوار کے نئے منصوبے مکمل کرنے اور طلب و رسد کے درمیان فرق کم کرنے کیلئے شب و روز کام کر رہی ہے ،قیام پاکستان سے اب تک 23 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی گئی جبکہ ہم آئندہ 8 برسوں میں 21 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں،ہماری حکومت آئندہ 25 برسوں کیلئے منصوبہ بندی کر رہی ہے ، پاکستان کی نہ صرف اپنی ضروریات پوری ہونگی بلکہ اضافی بجلی بھی پیدا ہو گی۔انہوں نے کہا کہ قوم کو جھوٹی امید نہیں دینا چاہتے بلکہ عوام بہت جلد خود لوڈ شیڈنگ میں نمایاں کمی دیکھیں گے ،حکومت کی مدت ختم ہونے سے پہلے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کردیا جائیگا تاہم اس حوالے سے ٹائم فریم نہیں دیا جاسکتا ۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب موٹروے بنائی تو لوگ انہیں پاگل اور دیوانہ کہتے تھے لیکن آج اس موٹروے سے ہزاروں لاکھوں لوگ استفادہ حاصل کررہے ہیں اور بہت جلد لاہور سے کراچی تک بھی موٹروے کا آغاز ہو جائیگاجبکہ بہاولپور کو بھی ملتان موٹروے کے ساتھ ملائینگے ۔ تقریب میں گورنر پنجاب چودھری محمد سرور، وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف، وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ریاض حسین پیرزادہ، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق سکندر حیات بوسن، پاکستان میں چین کے سفیر سن ودونگ، ٹی بی ای اے کے صدر ژانگ جیان چن، قائداعظم سولر پینل گروپ کے چیئرمین عارف سعید، پنجاب کے وزراء، ارکان قومی اسمبلی، سرکاری افسران اور بہاولپور کے عوام کی بڑی تعدادنے بھی شرکت کی۔