مقبول خبریں
برادری ازم پر یقین رکھتے ہیں اور نہ علاقائی تعصب پر اہلیت کی بنیاد پر ڈاکٹر شاہد کی حمائت کر رہے ہیں
اسلام میں جسطرح خدمت انسانی کی حوصلہ افزائی کی گئی اسکی مثال نہیں ملتی: الصف چیریٹی کی امدادی تقریب
لالچی اور خودغرض ٹور آپریٹرز ں نے اللہ کے مہمانوں سے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہے
احتجاج کرنیوالے وزیر اعظم ہائوس آ کر مذاکرات کریں، نواز شریف
کشمیریوں نے بھارت کو بتا دیا وہ جدو جہد آزادی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،علی گیلانی
شیراز خان کی برطانیہ واپسی پر چیئرمین سلطان باہو پیر نیازالحسن سروری قادری کی والدہ کی وفات پر تعزیت
کشمیری اس امر پر متفق ہیں کہ ووٹ انہی کو دیا جائے گا جوحق خود ارادیت کی حمائت کرتے ہیں:کونسلر محبوب بھٹی
برطانیہ میں مقیم کمیونٹی پاکستان سے بے پناہ محبت کرتی ہے، . لارڈ میئر بریڈفورڈکا چھچھ ایسوسی ایشن تقریب سے خطاب
حکومت پنجاب کا اوورسیز کمشنر آفس
پکچرگیلری
Advertisement
مشرف کو سزائے موت بھی ہو سکتی ہے،باہر گئے تو واپس نہیں آئینگے،وفاقی حکومت کا سندھ ہائیکورٹ میں جواب
کراچی ...وفاقی حکومت نے سابق صدر پرویز مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے سے انکار کرتے ہوئے جواب سندھ ہائی کورٹ میں داخل کرا دیا۔ سندھ ہائی کورٹ میں وفاقی حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ چونکہ پرویز مشرف کے خلاف چار مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور ان پر لگائے گئے الزامات سنگین نوعیت کے ہیں، اس لیے انہیں ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔جواب میں اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ پرویز مشرف کو ان مقدمات میں سزائے موت بھی ہوسکتی ہے ۔سزا ملنے کے احکامات کے پیش نظر پرویز مشرف ملک سے فرار ہوسکتے ہیں اس لیے حکومت پرویز مشرف کو ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں دے سکتی ۔سابق صدر کو اگربیرون ملک جانا ہے تو وہ سپریم کورٹ سے اجازت لے سکتے ہیں ۔ سندھ ہائی کورٹ کو پرویز مشرف کی ای سی ایل سے نام نکالنے سے متعلق درخواست کی سماعت کا اختیار نہیں ۔سابق صدر کا نام سپریم کورٹ کے احکامات پر ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے ،اس لیے فیصلے کے خلاف اپیل سندھ ہائی کورٹ میں دائر نہیں کی جا سکتی ۔ جواب میں مزید کہا گیا کہ پرویز مشرف پر خصوصی عدالت نے فرد جرم عائد کررکھی ہے ، سابق صدر کی درخواست خلوص پر مبنی نہیں، بہانہ بناکر ملک سے بھاگنا چاہتے ہیں۔ وفاقی حکومت نے انہیں پیشکش کی ہے کہ ان کی والدہ کو پاکستان لا کر بہترین علاج کی سہولت فراہم کی جا سکتی ہے جبکہ جن امراض میں سابق صدر خود مبتلا ہیں ان کا بھی بہترین علاج پاکستان میں ممکن ہے ۔ وفاق کے جواب میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سابق صدر کا نام ای سی ایل میں کسی سیاسی انتقام کے باعث نہیں بلکہ قانونی تقاضے پورے کرنے کیلئے شامل کیا گیا ہے اس لئے ان کی درخواست مسترد کر دی جائے ۔ اٹارنی جنرل نے جواب کی نقول سابق صدر کے وکیل فروغ نسیم کو بھی فراہم کر دی ہیں جو کل جواب الجواب داخل کریں گے ۔ کیس کی سماعت کل سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل دو رکنی بینچ کریگا ۔