مقبول خبریں
برادری ازم پر یقین رکھتے ہیں اور نہ علاقائی تعصب پر اہلیت کی بنیاد پر ڈاکٹر شاہد کی حمائت کر رہے ہیں
اسلام میں جسطرح خدمت انسانی کی حوصلہ افزائی کی گئی اسکی مثال نہیں ملتی: الصف چیریٹی کی امدادی تقریب
لالچی اور خودغرض ٹور آپریٹرز ں نے اللہ کے مہمانوں سے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہے
احتجاج کرنیوالے وزیر اعظم ہائوس آ کر مذاکرات کریں، نواز شریف
کشمیریوں نے بھارت کو بتا دیا وہ جدو جہد آزادی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،علی گیلانی
شیراز خان کی برطانیہ واپسی پر چیئرمین سلطان باہو پیر نیازالحسن سروری قادری کی والدہ کی وفات پر تعزیت
کشمیری اس امر پر متفق ہیں کہ ووٹ انہی کو دیا جائے گا جوحق خود ارادیت کی حمائت کرتے ہیں:کونسلر محبوب بھٹی
برطانیہ میں مقیم کمیونٹی پاکستان سے بے پناہ محبت کرتی ہے، . لارڈ میئر بریڈفورڈکا چھچھ ایسوسی ایشن تقریب سے خطاب
حکومت پنجاب کا اوورسیز کمشنر آفس
پکچرگیلری
Advertisement
انتخابات میں دھاندلی ملک دشمنی،عمران خان نے جنگ اور جیو کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا
اسلام آباد...تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جیو اور جنگ گروپ کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ پارٹی کا کوئی نمائندہ آئندہ جیو گروپ کے کسی پروگرام میں شرکت نہیں کرے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا اسلام آباد میں پریس کانفرس سے خطاب میں کہنا تھا کہ جنگ اور جیو گروپ انتخابی دھاندلی میں براہ راست ملوث ہے ۔ 18 فیصد نتائج پر جیت کی تقریر نشر کرا دی گئی۔ جنگ گروپ اور جیو ٹی وی انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوئے ۔ میں آج سے جنگ گروپ اور جیو ٹی وی کے بائیکاٹ کا اعلان کرتا ہوں۔انتخابات میں دھاندلی ملک دشمنی ہے ۔جنگ گروپ اور جیو ٹی وی مشرقی سرحد پر ‘‘امن کی آشا’’ جبکہ مغربی سرحد پر جنگ کی بات کرتا ہے ۔ مجھے صرف اس لئے ‘‘ طالبان خان’’ بنا دیا گیا کیونکہ میں طالبان سے ڈائیلاگ کی بات کرتا تھا۔ عمران خان نے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی سے اپیل کی کہ وہ انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کیخلاف ایکشن لیں۔ انتخابات میں دھاندلی کے ذمہ داروں کو سزا دی جائے اور جس میڈیا گروپ نے مدد کی اس کیخلاف بھی کارروائی کی جائے ۔ ہمارے پاس ثبوت ہیں کہ انتخابات میں کس طرح دھاندلی ہوئی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی چیف جسٹس نے ریٹرننگ افسروں سے خطاب نہیں کیا۔ سابق چیف جسٹس افتخار چودھری بتائیں کہ کیا انہوں نے ریٹرننگ افسروں کو دھاندلی کیلئے لیکچر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ 11 مئی کو اسلام آباد میں آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کرینگے ۔ عمران خان نے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ سال 11 مئی کو کرائے گئے انتخابات میں ہونے والی دھاندلی پر سوموٹو ایکشن لے کر 4 حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانا ت سے ووٹوں کی تصدیق کرائیں ۔ دھاندلی میں آر اوز کے ساتھ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ، جنگ اور جیو گروپ ملوث تھا۔ دھاندلی کے ذمہ داران کو سزا دلوائی جائے ، چاہے اس میں افتخار محمد چوہدری ملوث نکلیں - این اے 118 میں حامد خان نے 57 لاکھ روپے خرچ کر کے ٹر بیونل کے ذریعے نادرا سے ووٹو ں کی تصدیق کرائی تو پتہ چلا کہ 375 ووٹوں کے بیگز میں سے 256 بیگ خالی تھے اور 90 ہزار ووٹوں کا کوئی ریکارڈ ہی نہ تھا۔ عمران خان نے کہا کہ آج جمہوریت کیلئے سب سے اہم پریس کانفرنس ہے ۔ انتخاب کے بعد میں نے الیکشن کو تسلیم کیا دھاندلی قبول نہ کی۔ 60 حلقوں بارے ٹربیونلز میں گئے ۔ چار حلقے اوپن کرنے کا سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا لیکن یہ مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا۔ دھاندلی کا تعین اور ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہئے تھی تاکہ آئندہ انتخابات شفاف ہوں۔ آر اوز کا کردار شرمناک تھا۔ ہماری سوچ سے زیادہ دھاندلی ہوئی۔موجودہ چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ وہ انصاف کریں۔ ٹربیونلز نے 120 دنوں میں فیصلے نہیں کئے ۔ فافن کی رپورٹ کے مطابق 71 ہزار شکایات سامنے لائیں، پولنگ سکیم تبدیل کی گئی۔ یہ آر اوز کس کیلئے کام کرتے تھے ، ان کا احتساب کون کرے گا۔ نادرا چیف پر پریشر ڈال کر استعفیٰ لیا گیا، اب دوبارہ گنتی میڈیا کے سامنے ہونی چاہئے ۔ جنگ اور جیو گروپ اس دھاندلی میں ملوث تھے ، ساڑھے گیارہ بجے نواز شریف سے وکٹری تقریر کرائی گئی جس میں انہو ں نے واضح اکثریت مانگی جس کے بعد گنتی روک کر دھاندلی کی گئی- پی ٹی وی کی جگہ جیو کو کرکٹ کے حقوق دلوائے گئے اور جنگ گروپ کے ملاز م کو کرکٹ بورڈ کا چیئرمین لگادیا گیا۔جنگ اور جیو جب تک معافی نہ مانگیں احتجاج ختم نہیں کریں گے ، سڑکوں پر آ کر عدلیہ کو آزاد کرایا، اگر احتساب نہ کرایا گیا تو آئندہ انتخاب بھی دھاندلی کی نذر ہوں گے ۔ نثار احمد خان آر او تھے ، ہیں نہیں، پتہ تھا کہ سابق چیف جسٹس دھاندلی کے میچ فکسنگ میں ملوث تھے ، آئندہ لائحہ عمل 11مئی کو دیں گے ۔ اب فوج نہیں آئے گی، پاکستان آگے نکل چکا ، اب مارشل لا کا وقت نہیں رہا۔ جماعت اسلامی اور شیخ رشید ہماری تحریک میں شامل ہوں گے ۔ طاہر القادری سے کوئی بات نہیں ہوئی-