مقبول خبریں
برادری ازم پر یقین رکھتے ہیں اور نہ علاقائی تعصب پر اہلیت کی بنیاد پر ڈاکٹر شاہد کی حمائت کر رہے ہیں
اسلام میں جسطرح خدمت انسانی کی حوصلہ افزائی کی گئی اسکی مثال نہیں ملتی: الصف چیریٹی کی امدادی تقریب
لالچی اور خودغرض ٹور آپریٹرز ں نے اللہ کے مہمانوں سے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہے
احتجاج کرنیوالے وزیر اعظم ہائوس آ کر مذاکرات کریں، نواز شریف
کشمیریوں نے بھارت کو بتا دیا وہ جدو جہد آزادی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،علی گیلانی
شیراز خان کی برطانیہ واپسی پر چیئرمین سلطان باہو پیر نیازالحسن سروری قادری کی والدہ کی وفات پر تعزیت
کشمیری اس امر پر متفق ہیں کہ ووٹ انہی کو دیا جائے گا جوحق خود ارادیت کی حمائت کرتے ہیں:کونسلر محبوب بھٹی
برطانیہ میں مقیم کمیونٹی پاکستان سے بے پناہ محبت کرتی ہے، . لارڈ میئر بریڈفورڈکا چھچھ ایسوسی ایشن تقریب سے خطاب
حکومت پنجاب کا اوورسیز کمشنر آفس
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستانی وفد کے برطانوی دورے کی کامیابی میں بیرونس سعیدہ وارثی کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے
لندن ...وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے پہلے باقاعدہ دورہ برطانیہ میں دونوں ممالک کی قیادت میں گرمجوشی کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے۔ پاکستانی وفد میں وزیر اعظم کے ہمراہ دو صوبوں کے وزرا اعلی اور مرکزی وزیر خذانہ اسحاق ڈار تمام اہم ملاقاتوں میں ساتھ ساتھ نظر آتے ہیں۔ برطانوی حکومت کی طرف سے پہلی مسلمان خاتوں وزیر بیرونس سعیدہ وارثی اس دورے میں دو ممالک سے پیار کرنے والی ذمہ دار خاتون سیاستدان کی صورت میں پوری طرح مستعد ہیں۔ یہ امر تو واضع ہے کہ اس دورے کا مقصد دوطرفہ تعلقات کا فروغ اور سابقہ امداد کی شفاف رپورٹ پیش کرکے مستقبل کے بہتر اہداف کا حصول ہے لیکن برطانوی پارلیمنٹ نے اس سلسلے میں تھوڑی سی پریشانی اسوقت پیدا کی جب یہ کہا گیا کہ پاکستان کی امداد دہشت گردی اور انتہا پسندی کی روک تھام سے مشروط کی جائے۔ ایسے وقت میں جب جمہوریت کو پروان چڑھاتے ایک سیاستدان وزیراعظم بن کر پہلی دفعہ برطانیہ آیئں اور ایسی بات ہوجائے تو اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کرنے والی قوتیں کبھی وار کرنے سے نہیں چوکتیں۔ برطانوی پارلیمنٹ کی امدادی کمیٹی کے ارکان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لئے برطانوی امداد میں کٹوتی کی جانی چاہئے اور یہ امداد غریب تر ملکوں کی طرف منتقل کی جانی چاہئے تاوقتیکہ ایسےواضح شواہد نہ مل جائیں کہ وہ مذہبی انتہا پسندی میں کمی میں مدد کر رہا ہے۔ ممبران پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ چونکہ کہ برطانیہ بدستور پاکستان کو خاصی مالی امداد فراہم کر رہا ہے حالانکہ وہ ملک غریبوں کی مدد کے لئے خاصے وسائل کو مناسب انداز میں متحرک کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایسے میں حکومتی پارٹی میں پاکستان سے الفت رکھنے والے ممبران نے اپنے آبائی وطن کی بھرپور لابنگ کی اور پارٹی کے پالیسی سازوں کو پاکستان کی جغرافیائی اہمیت سے آگاہی دیتے ہوئے اسکی دہشت گردیکے خلاف جنگ میں دی جانے والی قربانیوں کو اجاگر کیا۔ ایسے ہی وقت میں انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور برطانیہ میں صحافیوں کی تنظیم این یو جے کیطرف سے بھی سخت بیانات جاری کرادئے گئے۔ لیکن معجزے کی صورت میں قیام میں آنے والی ملک پاکستان پر بہرحال اللہ کی رحمت ہے اور دیکھنے والی آنکھ کو حقیقت نظر بھی آجاتی ہے جسکی وجہ سے کابینہ کے اہم ارکان کو مل کر پاکستان کا مقدمہ لڑنے اور قربانیوں کو اجاگر کرنے میں وزیر اعظم اور انکے وفد کو کامیابی حاصل ہوئی۔ برطانیہ میں آباد اور حکومتی ایوانوں میں اثر رکھنے والی قوتیں یقینی طور پر بیرونس سعیدہ وارثی کے پاکستان جھکائو پر نظر رکھے ہوئے ہونگی اور جب بھی موقع ملا وار کرنے سے گریز نہ کریں گی کیونکہ حکومت برطانیہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی امداد کرنا برطانیہ کے قومی مفاد میں ہے۔ پاکستان2011ء سے 2015ء تک برطانیہ سے 1.17 بلین پونڈ کی امداد حاصل کر ے گا۔ پاکستان کو معاشی، تعلیمی اور صحت کے مسائل کا سامنا ہے۔ 60 ملین فیملیز غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہی ہیں جبکہ برطانیہ میں بڑا پاکستان ڈیاسپور اور بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات بھی ہیں۔ اس لئے سٹرٹیجی کے اعتبار سے ریجن یا کہیں بھی انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اہمیت کا حامل ملک ہے۔ علاوہ ازیں کنزرویٹو فرینڈز آف پاکستان کے تعاون سے لندن میں ہونے والی کامیاب سرمایہ کاری کانفرنس سے یہ آثار نمایاں نظر آتے ہیں کہ پاکستان ترقی کے اپنے سفر کو ناصرف جاری رکھ سکے گا بلکہ اس میں تیزی لائے گا۔ برطانیہ کی طرف سے اسلامی ممالک کو دی جانے والی امداد میں احتیاط کا یہ عالم ہے کہ ڈیفڈ کی وزیر جسٹین گریننگ برطانیہ میں کام کرنے والی چیریٹیز سے جاکر خود مل رہی ہیں تاکہ انہیں اعتماد میں لے کر بتا سکیں کہ حکومت برطانیہ اور عوام انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کی امداد پر ایک پائی بھی خرچ کرنے کے روادار نہیں اسلئے چیریٹیز اس امر کو یقینی بنایئں کہ انکے فنڈز شفاف طریقے سے متاثرین پر ہی استعمال ہو رہے ہیں۔ انہوں نےنیلسن میں منہاج ویلفیئر فائونڈیشن کی انتظامیہ سے اور برمنگھم میں اسلامک ریلیف کی ایڈمن سے ملاقات کی۔(تجزیہ رپورٹ: مبین چوہدری)