مقبول خبریں
برادری ازم پر یقین رکھتے ہیں اور نہ علاقائی تعصب پر اہلیت کی بنیاد پر ڈاکٹر شاہد کی حمائت کر رہے ہیں
اسلام میں جسطرح خدمت انسانی کی حوصلہ افزائی کی گئی اسکی مثال نہیں ملتی: الصف چیریٹی کی امدادی تقریب
لالچی اور خودغرض ٹور آپریٹرز ں نے اللہ کے مہمانوں سے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہے
احتجاج کرنیوالے وزیر اعظم ہائوس آ کر مذاکرات کریں، نواز شریف
کشمیریوں نے بھارت کو بتا دیا وہ جدو جہد آزادی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،علی گیلانی
شیراز خان کی برطانیہ واپسی پر چیئرمین سلطان باہو پیر نیازالحسن سروری قادری کی والدہ کی وفات پر تعزیت
کشمیری اس امر پر متفق ہیں کہ ووٹ انہی کو دیا جائے گا جوحق خود ارادیت کی حمائت کرتے ہیں:کونسلر محبوب بھٹی
برطانیہ میں مقیم کمیونٹی پاکستان سے بے پناہ محبت کرتی ہے، . لارڈ میئر بریڈفورڈکا چھچھ ایسوسی ایشن تقریب سے خطاب
حکومت پنجاب کا اوورسیز کمشنر آفس
پکچرگیلری
Advertisement
قبائلی جرگے نےامن مذاکرات کی حمایت کردی،حکومت خود مختار نہیں بات کس سے کریں؟ طالبان
پشاور ...کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے کہا ہے کہ حکومت ایک طرف مذاکرات اور دوسری جانب جنگ اور دھمکی کی سیاست کر رہی ہے ، اس صورتحال میں بامقصد اور سنجیدہ مذاکرات ممکن نہیں۔ ان کی جانب سے جو مطالبات پیش کیے گئے ان پر پیش رفت تو درکنار حکومت طالبان کے خلاف سکیورٹی اداروں کی کارروائیاں بند کروانے میں بھی ناکام رہی ہے ۔ایسے حالات میں مذاکرات کس سے کریں یہ سوالیہ نشان ہے ۔ اس بات کا تعین کرنا مشکل ہو چکا ہے کہ اصل مذاکرات حکومت سے کیے جانے ہیں یا پھر فوج کے ساتھ۔ جمعرات کو جاری بیان میں تنظیم کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا ہے کہ ہم ملک میں شریعت کی بالا دستی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے لیکن مذاکرات کو سیاسی اور جنگی ہتھیار کے طور پر قبول نہیں کریں گے ۔طالبان نے ملک و قوم کو 54 دن کا جنگ بندی کا ‘تحفہ’ دیا لیکن حکومت کی طرف سے مذاکرات کے دوران اب تک سنجیدگی یا خودمختاری نظر نہیں آئی ہے ۔ تحریک طالبان پاکستان ملک کے باشعور طبقے پر یہ بات واضح کرنا چاہتی ہے کہ وہ اس حقیقت کا ادراک کر لیں کہ کیا جنگ اور مذاکرات ایک ساتھ چل سکتے ہیں اور کیا مذاکراتی عمل کو کامیابی کی منزل تک پہنچانا صرف طالبان کی ذمہ داری ہے ؟ جنوبی وزیرستان میں بابڑ اور شکتوئی کے علاقوں میں گزشتہ دو دن میں فوج کارروائیاں کر رہی ہے اور اس کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں میں بھی تحریک طالبان کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آ رہی ہے ،یہ صورتحال کسی طور پر بامقصد اور سنجیدہ مذاکرات کا ماحول فراہم نہیں کر سکتی۔ اللہ کے فضل و کرم سے ہمارے شاہین صفت جانباز مجاہدین ہر قسم کے سخت حالات کا مقابلہ کرنے کی سکت رکھتے ہیں اور کسی بھی دشمن کے حملے کو انہی پر الٹنے کا فن جانتے ہیں