مقبول خبریں
برادری ازم پر یقین رکھتے ہیں اور نہ علاقائی تعصب پر اہلیت کی بنیاد پر ڈاکٹر شاہد کی حمائت کر رہے ہیں
اسلام میں جسطرح خدمت انسانی کی حوصلہ افزائی کی گئی اسکی مثال نہیں ملتی: الصف چیریٹی کی امدادی تقریب
لالچی اور خودغرض ٹور آپریٹرز ں نے اللہ کے مہمانوں سے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہے
احتجاج کرنیوالے وزیر اعظم ہائوس آ کر مذاکرات کریں، نواز شریف
کشمیریوں نے بھارت کو بتا دیا وہ جدو جہد آزادی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،علی گیلانی
شیراز خان کی برطانیہ واپسی پر چیئرمین سلطان باہو پیر نیازالحسن سروری قادری کی والدہ کی وفات پر تعزیت
کشمیری اس امر پر متفق ہیں کہ ووٹ انہی کو دیا جائے گا جوحق خود ارادیت کی حمائت کرتے ہیں:کونسلر محبوب بھٹی
برطانیہ میں مقیم کمیونٹی پاکستان سے بے پناہ محبت کرتی ہے، . لارڈ میئر بریڈفورڈکا چھچھ ایسوسی ایشن تقریب سے خطاب
حکومت پنجاب کا اوورسیز کمشنر آفس
پکچرگیلری
Advertisement
اوباما انتظامیہ شفافیت کے دعوؤں میں سنجیدہ نہیں،امریکی اخبار
واشنگٹن...ایک امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ اوباما انتظامیہ پاکستان میں ڈرون حملوں کے بارے میں شفافیت کے دعوے تو کرتی ہے،مگر اس پر عمل نہیں کرتی۔ایک امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اوباما انتظامیہ پاکستان، یمن اور دہشت گردی سے متاثرہ دیگر خطوں میں امریکی ڈرون پروگرام کے بارے میں مزید شفافیت کی خواہش تو ظاہر کرتی ہے لیکن اس بارے میں کسی بھی اقدام کیخلاف مزاحمت بھی کرتی ہے،اخبار کے مطابق گزشتہ ہفتے سینیٹ میں پیش کی گئی ایک تجویز کو رد کردیا گیا ،جس میں امریکی ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصانات کی ہر سال تفصیل شائع کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ اخبار کا کہنا ہے کہ تجویز رد کئے جانے سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ اوباما انتظامیہ شفافیت کے دعوؤں میں سنجیدہ نہیں،اس تجویز کو سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی نے منظور کرلیا تھا لیکن نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کے اعتراضات کے بعد تجویز کو انٹیلی جنس بل سے خارج کردیا گیا،اخبار کا کہنا ہے کہ اوباما انتظامیہ کا یہ عمل کسی دھچکے سے کم نہیں، کیونکہ اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں سیکڑوں شہری ہلاک ہوچکے ہیں لیکن سی آئی اے یا وائٹ ہاؤس کا کوئی احتساب نہیں بلکہ یہ تو تسلیم ہی نہیں کرتے کہ پاکستان میں امریکی ڈرون آپریشنز جاری ہیں،نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جیمس کلیپر کا کہنا ہے کہ اوباما انتظامیہ ان طریقوں پر غور کررہی ہے کہ وہ اپنے عوام کو امریکا کی جانب طاقت کے استعمال کے بارے میں آگاہ رکھے،اخبار کے مطابق یہ زیادہ قابل اطمینان بات نہیں، اگر وائٹ ہاؤس سنجیدہ ہے تو اس کا آسان طریقہ یہ کہ وہ بتائے وہ کیا کررہا ہے اور کیوں؟ تب ہی عوام یہ فیصلہ کرسکیں گے کہ آیا یہ بہتر ہے یا نہیں؟