مقبول خبریں
برادری ازم پر یقین رکھتے ہیں اور نہ علاقائی تعصب پر اہلیت کی بنیاد پر ڈاکٹر شاہد کی حمائت کر رہے ہیں
اسلام میں جسطرح خدمت انسانی کی حوصلہ افزائی کی گئی اسکی مثال نہیں ملتی: الصف چیریٹی کی امدادی تقریب
لالچی اور خودغرض ٹور آپریٹرز ں نے اللہ کے مہمانوں سے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہے
احتجاج کرنیوالے وزیر اعظم ہائوس آ کر مذاکرات کریں، نواز شریف
کشمیریوں نے بھارت کو بتا دیا وہ جدو جہد آزادی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،علی گیلانی
شیراز خان کی برطانیہ واپسی پر چیئرمین سلطان باہو پیر نیازالحسن سروری قادری کی والدہ کی وفات پر تعزیت
کشمیری اس امر پر متفق ہیں کہ ووٹ انہی کو دیا جائے گا جوحق خود ارادیت کی حمائت کرتے ہیں:کونسلر محبوب بھٹی
برطانیہ میں مقیم کمیونٹی پاکستان سے بے پناہ محبت کرتی ہے، . لارڈ میئر بریڈفورڈکا چھچھ ایسوسی ایشن تقریب سے خطاب
حکومت پنجاب کا اوورسیز کمشنر آفس
پکچرگیلری
Advertisement
ملکی دفاع میں آئی ایس آئی کا کردار قابل تعریف ہے،وزیر اعظم نواز شریف
اسلام آباد...وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت قومی سلامتی کے بارے میں اہم اجلاس میں سیاسی و عسکری قیادت نے حالیہ دہشتگردی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان میں ملوث عناصر کیخلاف موثر کارروائی کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے جائیں گے تاہم ان کی سمت کا واضح تعین اور جامع ایجنڈا ہونا چاہیے اور مذاکرات متعین پیرامیٹرز کے تحت ہونے چاہئیں۔ اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے کہا ملکی دفاع میں آئی ایس آئی کا کردارقابل تعریف ہے ،ملک کے تمام ادارے عوام کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ہم آہنگی کے ساتھ کام جاری رکھیں گے ،ملک کے دفاع اور شرپسندوں کو کچلنے کیلئے حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔ اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام، وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی،وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی، وزیراعظم کے سیکرٹری جاوید اسلم اور ایڈیشنل سیکرٹری فواد حسن فواد شریک تھے ۔ وزیر داخلہ نے طالبان رابطہ کمیٹی سے ہونیوالی حالیہ ملاقات کی تفصیلات سے اجلاس کو آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا رابطہ کمیٹی پر زور دیا ہے کہ آئندہ طالبان شوریٰ کے ساتھ ہونیوالی ملاقات میں مذاکرات کے مکمل ایجنڈے پر بات ہونی چاہئے ۔ انہوں نے کہا واضح کر دیا ہے کہ مذاکراتی عمل کو نتیجہ خیز بنایا جائے ۔وزیر داخلہ نے کہا طالبان کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو تعمیری بنانے کا یہ صحیح وقت ہے ، طالبان کی طرف سے جنگ بندی میں توسیع نہیں کی گئی جبکہ حکومت نے جذبہ خیر سگالی میں ان کے قیدی بھی رہا کیے ۔ انہوں نے کہا مذاکرات کے باوجود دہشت گردی کے واقعات تشویش کا باعث ہیں۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں طالبان کے غیرجنگجو قیدیوں کی رہائی اور غیرملکی جنگجوؤں کو محفوظ راستہ دینے یا نہ دینے کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی، اس کے علاوہ افغانستان میں صدارتی انتخابات کے بعد کی صورتحال بھی زیرِ بحث آئی۔ڈی جی آئی ایس آئی نے حالیہ دھماکوں اور دہشت گردی کے واقعات کے بعد ہونیوالی پیشرفت سے اجلاس کو آگاہ کیا اور ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا دہشت گردی کے واقعات میں ملوث عناصر کو جلد از جلد قانون و عوام کے سامنے بے نقاب کیا اور انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا ۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردی میں ملوث گروپوں کے خلاف موثر کارروائی کی جائے گی ۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا پاکستان اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے ، اداروں کو آپس میں لڑنے کے بجائے ملک کے خلاف سازشیں کرنے والے عناصر کے خلاف لڑنا ہو گا۔ انہوں نے آئی ایس آئی کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا ملکی سلامتی کیلئے آئی ایس آئی کا کردار انتہائی قابل تحسین ہے ’خفیہ ادارے ملکی دفاع میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ملکی دفاع کیلئے تمام اداروں کو باہم مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ اندرونی بیرونی تحفظ کو یقینی بنایا جائے ۔انہوں نے کہا ایک بار پھر دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ تشویشناک ہے ،طالبان سے مذاکرات شروع کرنے کا مقصد امن کو یقینی بنانا ہے کسی کو بے گناہ عوام کی جانوں سے نہیں کھیلنے دیں گے ۔اجلاس کے دوران کراچی میں سینئر صحافی پر قاتلانہ حملے اور اس کے بعد الزامات کے حوالے سے بھی بات ہوئی۔ ذرائع کے مطابق اس موقع پر سیاسی اور عسکری قیادت نے کھل کر اپنے اپنے موقف کا اظہار کیا اور تمام معاملات کو ملکی مفاد میں افہام و تفہیم سے طے کرنے پر اتفاق کیا گیا ۔