مقبول خبریں
برادری ازم پر یقین رکھتے ہیں اور نہ علاقائی تعصب پر اہلیت کی بنیاد پر ڈاکٹر شاہد کی حمائت کر رہے ہیں
اسلام میں جسطرح خدمت انسانی کی حوصلہ افزائی کی گئی اسکی مثال نہیں ملتی: الصف چیریٹی کی امدادی تقریب
لالچی اور خودغرض ٹور آپریٹرز ں نے اللہ کے مہمانوں سے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہے
احتجاج کرنیوالے وزیر اعظم ہائوس آ کر مذاکرات کریں، نواز شریف
کشمیریوں نے بھارت کو بتا دیا وہ جدو جہد آزادی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،علی گیلانی
شیراز خان کی برطانیہ واپسی پر چیئرمین سلطان باہو پیر نیازالحسن سروری قادری کی والدہ کی وفات پر تعزیت
کشمیری اس امر پر متفق ہیں کہ ووٹ انہی کو دیا جائے گا جوحق خود ارادیت کی حمائت کرتے ہیں:کونسلر محبوب بھٹی
برطانیہ میں مقیم کمیونٹی پاکستان سے بے پناہ محبت کرتی ہے، . لارڈ میئر بریڈفورڈکا چھچھ ایسوسی ایشن تقریب سے خطاب
حکومت پنجاب کا اوورسیز کمشنر آفس
پکچرگیلری
Advertisement
ڈی پورٹیشن کے خوف میں مبتلا پریشان نوجوانوں کی جعلی شادیاں کرانے والے کو چھ سال قید
لندن ... برطانیہ میں رہائش کا قانونی جواز کھودینے والے پریشان حال افراد کو مختلف حیلوں بہانوں سے لوٹنے والے ایک وکیل کو عدالت نے جعلسازی کے الزام میں چھ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ نزاکت علی پاکستانی و انڈین نوجوانوں کو یورپی خواتین سے شادی کا جھانسہ دیتا اور انسانی حقوق کی آڑ لے کر عدالتوں میں انکے ویزہ مدت میں توسیع کی کوششیں کرتا۔ اس کھیل میں اس پر کئی عورتوں سے زیادتی کے بھی الزامات ہیں۔ چیک ری پبلک کی ایک عورت نے عدالت کو بتایا کہ اسے اپنا پاسپورٹ واپس لینے کیلئے اس درندے سمیت چار مختلف لوگوں کے ساتھ راتیں گزارنی پڑیں۔ ۔ ملزم جرائم پیشہ گروہوں کے ذریعہ مشرقی یورپی خواتین کو ملازمت کاجھانسہ دے کر برطانیہ بلواتاتھا اور پھر انھیں پاکستانی مردوں سے شادی کرنے پر مجبور کیاجاتاتھا۔ انر لندن کراؤن کورٹ کو بتایاگیا کہ پھر ملزم بارڈر ایجنسی کویہ باور کراتاتھا کہ ان کاموکل متعلقہ خاتون سے ملاقات کے بعد اس کے عشق میں گرفتارہوگیا ہے اور اب شادی کرنا چاہتاہے۔ وہ اس طرح کی جعلی شادیوں کیلئے 300 پونڈ فیس وصول کرتاتھا ،ان خواتین کو خاص طورپر شادیوں کیلئے لایاجاتاتھا اور پھر ان کی اپنے ممکنہ شوہر سے نزاکت علی کی ایسٹ لندن میں واقع دفتر پر ملاقات کرائی جاتی تھی۔ایک مرتبہ ملزم نے اپنے ایک موکل کیلئے بلائی گئی خاتون کے ساتھ جو طوائف کے طور پر کام کرنے کیلئے برطانیہ لائی گئی تھی ہم بستری بھی کی تھی۔ نزاکت علی کابھانڈا بی بی سی کے ایک بھیس بدل کر ملنے والے رپورٹر نے پھوڑاتھا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ کس طرح ملزم پہلی ناکامی کے بعد بھی اپنے موکلوں کو مزید جھوٹ بولنے کی ترغیب دیتا ایک موقع پر وہ پنجابی میں اپنے ایسے ہی ایک کلائنٹ سے کہتا ہے کہ وہ اسکے سٹاف کے سامنے ایسی باتیں نہ کریں جس سے انہیں شک ہو کہ ہم غلط کام کر رہے ہیں۔