مقبول خبریں
برادری ازم پر یقین رکھتے ہیں اور نہ علاقائی تعصب پر اہلیت کی بنیاد پر ڈاکٹر شاہد کی حمائت کر رہے ہیں
اسلام میں جسطرح خدمت انسانی کی حوصلہ افزائی کی گئی اسکی مثال نہیں ملتی: الصف چیریٹی کی امدادی تقریب
لالچی اور خودغرض ٹور آپریٹرز ں نے اللہ کے مہمانوں سے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہے
احتجاج کرنیوالے وزیر اعظم ہائوس آ کر مذاکرات کریں، نواز شریف
کشمیریوں نے بھارت کو بتا دیا وہ جدو جہد آزادی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،علی گیلانی
شیراز خان کی برطانیہ واپسی پر چیئرمین سلطان باہو پیر نیازالحسن سروری قادری کی والدہ کی وفات پر تعزیت
کشمیری اس امر پر متفق ہیں کہ ووٹ انہی کو دیا جائے گا جوحق خود ارادیت کی حمائت کرتے ہیں:کونسلر محبوب بھٹی
برطانیہ میں مقیم کمیونٹی پاکستان سے بے پناہ محبت کرتی ہے، . لارڈ میئر بریڈفورڈکا چھچھ ایسوسی ایشن تقریب سے خطاب
حکومت پنجاب کا اوورسیز کمشنر آفس
پکچرگیلری
Advertisement
مسئلہ کشمیر اہم موڑ پر آچکاکشمیریوں کی رضامندی سے اب اسے حل کرلینا چاہیئے: مولانا فضل الرحمان
برمنگھم ... برطانیہ کے نجی دورے پر آئے کشمیر کمیٹی کے چیئرمیں اور جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور آزاد کشمیر کے سینیئر وزیر چوہدری یاسین کے درمیا ن سٹوک آن ٹرینٹ میں خصوصی ملاقات ہوئی جس میں برطانوی ہائوس آف لارڈز کے ممبر لارڈ قربان حسین بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ان رہنمائوں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ آزادی صحافت پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنی چاہئے تاہم ملک کے سیکیورٹی ادارے کے بارے میں کسی قسم کی الزام بازی یقینی طور پر اچھا فعل نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر اہم موڑ پر آچکا ہے دونوں ممالک کو تیسرے مگر اہم فریق کی رضامندی سے اب اسے حل کرلینا چاہیئے کیونکہ کوئی مانے یا نہ مانے مگر جنوبی ایشیا کا امن اس مسئلے سے جڑا ہوا ہے۔ ازاں بعد مولانا فضل الرحمن نے گزشتہ روز مکی مسجد انتظامیہ کی دعوت پر مکی مسجد برمنگھم کا دورہ کیا۔ مسجد کے چیئر مین لالہ محمد اشرف خان، خطیب مکی مسجد قاری اظہار احمد اور دیگر اراکین نے مولانا فضل الرحمن کا پرتباک استقبال کیا۔ اس موقع پر مولانا فضل الرحمن پاکستان کے حالات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے ، اسلام اور پاکستان کی دشمنی قوتیں پاکستان کو کمزور کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہیے تمام اختلافات کو پس پشت ڈال کر اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنادیں۔ اس موق پر مولانا فضل الرحمن کے ہمراہ ان کے قریبی بزرگ ساتھی سید حسن شاہ اور سید فیض الحسن شاہ بھی موجود تھے۔