مقبول خبریں
برادری ازم پر یقین رکھتے ہیں اور نہ علاقائی تعصب پر اہلیت کی بنیاد پر ڈاکٹر شاہد کی حمائت کر رہے ہیں
اسلام میں جسطرح خدمت انسانی کی حوصلہ افزائی کی گئی اسکی مثال نہیں ملتی: الصف چیریٹی کی امدادی تقریب
لالچی اور خودغرض ٹور آپریٹرز ں نے اللہ کے مہمانوں سے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہے
احتجاج کرنیوالے وزیر اعظم ہائوس آ کر مذاکرات کریں، نواز شریف
کشمیریوں نے بھارت کو بتا دیا وہ جدو جہد آزادی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،علی گیلانی
شیراز خان کی برطانیہ واپسی پر چیئرمین سلطان باہو پیر نیازالحسن سروری قادری کی والدہ کی وفات پر تعزیت
کشمیری اس امر پر متفق ہیں کہ ووٹ انہی کو دیا جائے گا جوحق خود ارادیت کی حمائت کرتے ہیں:کونسلر محبوب بھٹی
برطانیہ میں مقیم کمیونٹی پاکستان سے بے پناہ محبت کرتی ہے، . لارڈ میئر بریڈفورڈکا چھچھ ایسوسی ایشن تقریب سے خطاب
حکومت پنجاب کا اوورسیز کمشنر آفس
پکچرگیلری
Advertisement
دو سال قبل منشیات سمگلنگ کیس میں اسلام آباد سے گرفتار برٹش خاتون کو عمر قید کی سزا
اسلام آباد ... برمنگھم کی رہائیشی برطانوی مسلمان خاتون خدیجہ شاہ کو منشیات کی سمگلنگ کا جرم ثابت ہونے پر عدالت نے عمر قید سزا کا حکم سنادیا ہے۔ دوران حراست ایک بچی کو جنم دینے والی مجرمہ کو بہت امید تھی کہ حقیقی مجرم نہ ہونے اور انسانی ہمدردی کے ناطے اسکی سزا میں تخفیف ہوگی تاہم پاکستانی قانون دانوں کا کہنا ہے کہ سزائے موت کی بجائے عمر قید انہی عوامل کا نتیجہ ہے۔ تاہم اسکے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ اس سزا کے خلاف بھی اپیل کریں گے۔ 26 سالہ خدیجہ شاہ کو مئی 2012 میں اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب ان کے سامان سے 63 کلوگرام ہیرؤئن برآمد ہوئی تھی۔ برآمد شدہ ہیروئن کی مالیے کا اندازہ 32 لاکھ پائونڈز لگایا گیا تھا۔ خدیجہ کوگرفتار کیا گیا اس وقت وہ پانچ ماہ کی حاملہ تھی اور بیٹی ملائکہ دورانِ حراست ستمبر 2012 کو جیل میں ہی پیدا ہوئی مجرمہ خدیجہ شاہ اسلام آباد سے برمنگھم جا رہی تھی اور اس کے بقول اس کے منگیتر عمران خان نے انہیں منشیات سے بھرا سامان دیا تھا اور اس میں ہیروئن کی موجودگی سے لاعلم تھی۔ فیصلے میں خدیجہ شاہ کے منگیتر عمران خان کو عادی مجرم قرار دیا گیا ہے۔ عمران خان خدیجہ کی گرفتاری کے وقت اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر موجود نہیں تھا اسکے بارے شک ہے کے کہ وہ برطانیہ فرار ہونے میں کامیاب رہا، جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہے ۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم فاؤنڈیشن فار فنڈامینٹل رائٹس نے ایک اعلامیہ میں خدیجہ کی سزا کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسدادِ منشیات کی فورس اے این ایف خواتین اور بچوں کو گرفتار کر کے سزا دیتی ہے جبکہ اصل مجرم، یعنی منشیات کے گروہوں کے لیڈر، آزاد پھر رہے ہیں۔