مقبول خبریں
برادری ازم پر یقین رکھتے ہیں اور نہ علاقائی تعصب پر اہلیت کی بنیاد پر ڈاکٹر شاہد کی حمائت کر رہے ہیں
اسلام میں جسطرح خدمت انسانی کی حوصلہ افزائی کی گئی اسکی مثال نہیں ملتی: الصف چیریٹی کی امدادی تقریب
لالچی اور خودغرض ٹور آپریٹرز ں نے اللہ کے مہمانوں سے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہے
احتجاج کرنیوالے وزیر اعظم ہائوس آ کر مذاکرات کریں، نواز شریف
کشمیریوں نے بھارت کو بتا دیا وہ جدو جہد آزادی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،علی گیلانی
شیراز خان کی برطانیہ واپسی پر چیئرمین سلطان باہو پیر نیازالحسن سروری قادری کی والدہ کی وفات پر تعزیت
کشمیری اس امر پر متفق ہیں کہ ووٹ انہی کو دیا جائے گا جوحق خود ارادیت کی حمائت کرتے ہیں:کونسلر محبوب بھٹی
برطانیہ میں مقیم کمیونٹی پاکستان سے بے پناہ محبت کرتی ہے، . لارڈ میئر بریڈفورڈکا چھچھ ایسوسی ایشن تقریب سے خطاب
حکومت پنجاب کا اوورسیز کمشنر آفس
پکچرگیلری
Advertisement
وزیراعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت قومی داخلی سلامتی کے بارے میں اجلاس
اسلام آباد ... وزیراعظم محمد نواز شریف نے قومی اور صوبائی انٹیلی جنس وسائل کو یکجا کرنے کے لئے قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی (نیکٹا) کے تحت نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے فوری قیام کی ہدایت کی ہے جبکہ معیاری اور تربیت یافتہ افرادی قوت کے ساتھ وفاقی اور صوبائی سطحوں پر ریپڈ رسپانس فورس کے قیام کی بھی منظوری دی۔ وزیراعظم کی زیر صدارت منگل کو ایوان وزیراعظم میں قومی داخلی سلامتی کے بارے میں اجلاس ہوا جس میں تمام وزراء اعلیٰ، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیر السلام، چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل اشفاق احمد ندیم اور ڈی جی ملٹری آپریشنز میجر جنرل عامر ریاض نے شرکت کی۔ تمام چیف سیکرٹریز اور صوبوں کے آئی جیز اور دیگر سرکاری حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔ ڈی جی ملٹری آپریشنز، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی اور وزیر داخلہ نے اجلاس کو داخلی سلامتی امور کے مختلف پہلوئوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ تمام صوبائی حکومتوں اور اداروں کو سیکورٹی کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے سخت محنت کرنا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی خوشحالی پاکستان کی سلامتی اور امن سے منسلک ہے۔ اجلاس میں دہشت گردی کے انسداد کے لئے نئے قانونی ڈھانچے کے تحت اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی اور صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ صوبوں کو سنگین جرائم میں مقررہ مدت کے اندر قابل قبول شواہد اور مضبوط استغاثہ کو یقینی بنانے کے لئے زیادہ کوششیں کرنی چاہئیں۔ وزیراعظم نے تمام صوبوں میں انتہائی سخت حفاظتی اقدامات کی حامل جیلوں کے جلد قیام کی بھی ہدایت کی۔