مقبول خبریں
برادری ازم پر یقین رکھتے ہیں اور نہ علاقائی تعصب پر اہلیت کی بنیاد پر ڈاکٹر شاہد کی حمائت کر رہے ہیں
اسلام میں جسطرح خدمت انسانی کی حوصلہ افزائی کی گئی اسکی مثال نہیں ملتی: الصف چیریٹی کی امدادی تقریب
لالچی اور خودغرض ٹور آپریٹرز ں نے اللہ کے مہمانوں سے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہے
احتجاج کرنیوالے وزیر اعظم ہائوس آ کر مذاکرات کریں، نواز شریف
کشمیریوں نے بھارت کو بتا دیا وہ جدو جہد آزادی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،علی گیلانی
شیراز خان کی برطانیہ واپسی پر چیئرمین سلطان باہو پیر نیازالحسن سروری قادری کی والدہ کی وفات پر تعزیت
کشمیری اس امر پر متفق ہیں کہ ووٹ انہی کو دیا جائے گا جوحق خود ارادیت کی حمائت کرتے ہیں:کونسلر محبوب بھٹی
برطانیہ میں مقیم کمیونٹی پاکستان سے بے پناہ محبت کرتی ہے، . لارڈ میئر بریڈفورڈکا چھچھ ایسوسی ایشن تقریب سے خطاب
حکومت پنجاب کا اوورسیز کمشنر آفس
پکچرگیلری
Advertisement
آئین پاکستان اسلامی اور جمہوری سوچ کا مجموعہ ہے،چیف جسٹس آف پاکستان
اسلام آباد...چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا ہے کہ ملک کا آئین ہی سپریم ہے اور آئین نے سپریم کورٹ کو ملکی اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور توازن برقرار رکھنے کی منفرد ذمہ داری سونپی ہے ۔سپریم کورٹ نے ہر بار آئین توڑنے والوں کے اقدامات کو غلط قرار دیا۔پاکستان کا آئین اسلامی اور جمہوری سوچ کا امتزاج ہے ۔سماجی ،معاشی اور سیاسی انصاف کے لئے تمام اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے ۔سیاسی و سماجی صورت حال کے پیش نظر عدلیہ کے فیصلوں پر تضاد پایا گیا۔آئینی انحراف اب قصہ پارینہ بن چکا ہے ۔سیاسی عدم استحکام کا زمانہ اب پیچھے رہ گیا ہے ۔عدلیہ نے مشکل حالات میں آئین اور جمہوریت کی بحالی کا راستہ نکالنے کی کوشش کی ۔تین نومبر 2007 کی ایمر جنسی کے بعد ججوں نے آزاد عدلیہ کی بحالی کے لئے بے مثال تحریک چلائی،انتظامیہ کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف حکم جاری کرنے میں عدلیہ کبھی ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوئی ۔عصر حاضر میں قومیں بیرونی مداخلت سے نہیں غیر قانونی حکمرانی سے زوال پذیر ہوئی ہیں۔ پاکستان کے دفاع کے لیے بہادر افواج پاکستان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور قوم پوری طرح ان کی پشت پر کھڑی ہے ۔آئین پاکستان کے تحت افواج پاکستان ایک اہم ادارہ ہے اور مجھ کو یقین ہے کہ قانون کے تحت وہ اپنی متبرک ذمہ داری کی انجام دہی جاری رکھیں گے ۔ انہوں نے پی اے ایف ائیر وار کالج کراچی کے افسران سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ آئین پاکستان اسلامی اور جمہوری سوچ کا مجموعہ ہے ۔اس کے دیباچہ میں بتایا گیا ہے کہ پوری کا ئنات پر اللہ تعالیٰ کی حاکمیت ہے اور پاکستانی عوام اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی حدودو قیود کے اندر رہتے ہوئے اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے اختیارات کا استعمال کر تے ہیں۔آئین پاکستان وفاقی طرز کا ہے اور وفاقی اور صوبائی سطح پر گورننس کا نظام فراہم کر تا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان نے سپریم کورٹ کو ایک منفرد ذمہ داری سے نوازا ہے کہ وہ ریاست کے تینوں ستونوں کے درمیان ہم آہنگی اور توازن کو برقرار رکھے ۔انہوں نے آئینی تاریخ کی وضاحت کر تے ہوئے کہا کہ 1999میں جنرل پرویز مشرف نے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو عہدے سے ہٹا دیا اور ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کیا جس کو سپریم کورٹ نے بھی نظریہ ضرورت کے تحت برقرار رکھا اور اس کے بعد تین نومبر 2007 کو جنرل پرویز مشرف نے دوبارہ ملک میں آئین کو معطل کر دیا اور ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا اور اس مرتبہ سپریم کورٹ نے اسی روز ایک حکم امتناعی جاری کیا جس میں تمام انتظامی عہدیداروں کو عدلیہ کی آزادی کے منافی کوئی بھی اقدام اٹھانے سے باز رہنے کی ہدایت کی۔اور سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز کو بھی کہا گیا کہ وہ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھائیں۔جبکہ سندھ ہائی کورٹ بار کے کیس میں عدالت نے پرویز مشرف کے پی سی او کو غیر آئینی قرار دیااور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ایک سو ججز کو عہدے چھوڑنا پڑے ۔اس سے قبل وکلاء اور لوگوں نے آزادججوں کی بحالی کے لیے اور آئین کی بالادستی کے لئے طویل تحریک چلائی تحریک کامیاب ہوئی اور حکمرانی کے حوالے سے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔بحالی کے بعد عدلیہ نے بہترین کام کیا اور لوگوں کا اعتماد حاصل کیا جس کا یہ نتیجہ نکلا کہ لوگوں نے اپنے کیسز کے لیے زیادہ تعداد میں عدالت سے رجوع کر نا شروع کیا اور عدالت میں کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ جب بھی ملک میں آئین کو معطل کیا گیا یہ کیس سپریم کورٹ میں آیا اور عدالت کو ایک فیصلہ دینا پڑااور عدالت کو سیاسی میدان میں داخل ہونا پڑا۔مجھ کو یقین ہے کہ اب یہ کیفیت ختم ہوئی اور بحرانی ادوار اور سیاسی عدم استحکام اب ماضی کا حصہ بن چکاہے اور عدلیہ کی آزادی کی تحریک کے بعد عدالت آئین کی بالادستی کے راستے پر گامزن ہے ۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں بنیادی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ہیومن رائٹس سیل کام کر رہا ہے ۔اورحال ہی میں تارکین وطن جو کہ ملک میں رہ کر اپنے کیسز کا دفاع نہیں کر سکتے ان کے لیے ہیومن رائٹس سیل میں ایک خصوصی ونگ قائم کر دیا گیا ہے ۔