مقبول خبریں
پاکستان پریس کلب برطانیہ یارکشائیر ریجن کا سہیل وڑائچ کے اعزاز میں استقبالیہ
پاکستان اور بھارت میں واقعی برابری کہاں ؟ ایک طرف محبت دوسری طرف نفرت
پاکستانی نژاد پیشہ ورانہ ماہرین اور طلبہ جہاں بھی ہوں اقدار کی پاسداری کریں: نفیس زکریا
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
حلقہ ِ ارباب ِ ذوق کے ادبی پروگرام میں پاکستانیوں اور کشمیری کونسلرز کی بڑی تعداد میں شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
قومی برطانوی انتخابات میں کشمیر دوست امیدواران کو ووٹ دینے بارے آگاہی میٹنگ
سہمے ہوئے لوگوںسے بھی خائف ہے زمانہ
پکچرگیلری
Advertisement
اسلام کے نام پر کی جانے والی حرکتوں پر تین نومسلم نوجوانوں کو سزا !!
لندن ... گزشتہ چند ماہ میں اسلام کے نام پر جرائم میں ملوث نومسلم نوجوانوں کی سزائوں نے کمیونٹی میں تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک اسلام سے جڑے زیادہ تر جرائم کے قصوروار پاکستانی و کشمیری نوجوان ٹھہرائے جاتے تھے۔ برطانوی فوجی کے قتل کے بعد اب ایشیائی اکثریتی مشرقی لندن کے علاقے والتھم اسٹو کے رہائشی نومسلم کو اینٹی سوشل روئے کے حوالے سے سزا کمیونٹی کیلئے سوچ کا باعث بن رہی ہے کہ اب قصوروار کون ہے؟ تین نو مسلم جنہیں غیر مسلموں کو خود ساختہ مسلم گشتی نگران حملوں کا نشانہ بنانے کی دھمکی دینے پر جیل بھیجا گیا تھا انہیں گزشتہ روز برطانیہ میں شرعی قوانین کو فروغ دینے سے روک دیا گیا۔ تین نو مسلموں 20 سالہ جارڈن ہارنر، 26 سالہ ریکارڈو میک فرلین اور 23 سالہ رائل بارنیس کو اینٹی سوشل بی ہیوریئل آرڈرز (ایسباس) کے احکامات دیئے گئے ہیں جس کے تحت انہیں جبری طور پر اپنے نظریات دوسروں پر ٹھونسنے سے روک دیا گیا ہے۔ انہیں نفرت کا پرچار کرنے والے مذہبی رہنما انجم چوہدری سے ملاقات نہ کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ اولڈ بیلی پر جج ٹموتھی پونٹیئس نے تسلیم کیا کہ یہ احکامات سخت ہیں۔ تاہم ذہن میں عوامی مفادات اور بالخصوص عام لوگوں کی سلامتی کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں محسوس کرتا ہوں کہ 5 سال کیلئے یہ احکامات جاری ہونے چاہئیں۔ اس گینگ نے دسمبر 2012ء اور جنوری 2013ء کے درمیان ایک ’’مذہبی نگرانی‘‘ کے مہینے میں ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر گھومنے والے نوجوان جوڑوں، شراب پینے والے لوگوں اور ’’ناکافی‘‘ لباس پہننے والی خواتین کو نشانہ بنایا تھا۔