مقبول خبریں
پاکستان پریس کلب برطانیہ یارکشائیر ریجن کا سہیل وڑائچ کے اعزاز میں استقبالیہ
پاکستان اور بھارت میں واقعی برابری کہاں ؟ ایک طرف محبت دوسری طرف نفرت
پاکستانی نژاد پیشہ ورانہ ماہرین اور طلبہ جہاں بھی ہوں اقدار کی پاسداری کریں: نفیس زکریا
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
حلقہ ِ ارباب ِ ذوق کے ادبی پروگرام میں پاکستانیوں اور کشمیری کونسلرز کی بڑی تعداد میں شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
قومی برطانوی انتخابات میں کشمیر دوست امیدواران کو ووٹ دینے بارے آگاہی میٹنگ
سہمے ہوئے لوگوںسے بھی خائف ہے زمانہ
پکچرگیلری
Advertisement
نبی پاک کے کارٹون پر مبنی ٹویٹ کرنے والے مسلمان امیدوار برطانوی پارلیمنٹ نے معافی مانگ لی
لندن ... نبی پاک کا کارٹون اپنے پیغام کیلئے استعمال کرنے والے امیدوار برائے ممبر پارلیمنٹ ماجد نواز نے بالآخر اپنی حرکت پر معافی مانگ لی ہے۔ وہ مسلمانوں میں برداشت اور رواداری کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیم کوئیلیم فائونڈیشن کے سربراہ ہیں، اس تنظیم کو برٹش مسلم ایوارڈز کی شارٹ لسٹ سے بھی فارغ کر دیا گیا تھا۔ تاہم گزشتہ روز کوئیلیم فاؤنڈیشن کے چیئرمین اور لب ڈی کے پارلیمانی امیدوار ماجد نواز نے توہین آمیز کارٹون ٹوئیٹ کرنے کے آفنس پر کسی کی بھی دل آزاری ہونے پر معذرت کی ہے۔ اس کارٹون میں نبی پاک اور یسوع مسیح کو آپس میں بات چیت کرتے دکھایا گیا تھا۔ کارٹون کو ٹوئیٹ کیے جانے کے بعد سے ماجد نواز پر شدید دباؤ تھا۔ ماجد نواز نے کہا کہ مسلمان ہوں اور میرے خیالات کے تحت اس کارٹون سے مجھے کو ئی تکلیف نہیں ہوتی تھی یہ بی بی سی پروگرام میں پیشگی علم کے بغیر دکھایا گیا تھا بعد ازاں میں نے اسے سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کی وضاحت کیلئے پوسٹ کردیا جو اب ٹیلی کاسٹ کئے گئے کہ مسلمان کے طور پر مجھے کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ ماجد نواز نے کہا کہ ماڈریٹ لینگویج اور دوسروں کی رائے کا احترام کرنا لبرل ازم اور میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا مرکز ہے۔ میں دنوں، اسلام اور آزادی اظہار کے عقیدے کی پاسداری جاری رکھوں گا۔ ماجد نواز نے کہا کہ میں ان افراد سے اتفاق نہیں کرتا جنہوں نے میرے کمنٹس کی اس انداز میں تشریح کی جو میری سوچ نہیں تھی میں امن کا خواہاں ہوں اور میں درخواست کرتا ہوں کہ اس افسوسناک واقعے کو پس پشت ڈال دیں۔ اس سے قبل ماجد کا نام ہیمسٹڈ اینڈ کلیرن کے لئے لبرل ڈیموکریٹ شارٹ لسٹ سے ریموو کرانے کے لئے بھی پٹیشن تیار کی گئی تھی۔ پٹیشن آرگنائزرز کے مطابق دستخط کنندگان کا کہنا تھا کہ ان کی شکایت کی مستحکم بنیاد ہے اور ان کا مطالبہ ہے کے ماجد نواز کا نام پی پی سی فار ہیمسٹڈ اینڈ کلیرن سے ریموو کر دیا جائے اور مذہبی عقائد کی توہین اور دستخط کنندگان و برطانیہ اور بیرون ملک لاتعداد مسلمانوں و مسیحوں کے جذبات مجروح پر ماجد کو لبرل ڈیموکریٹس سے نکال دیا جائے۔