مقبول خبریں
برادری ازم پر یقین رکھتے ہیں اور نہ علاقائی تعصب پر اہلیت کی بنیاد پر ڈاکٹر شاہد کی حمائت کر رہے ہیں
اسلام میں جسطرح خدمت انسانی کی حوصلہ افزائی کی گئی اسکی مثال نہیں ملتی: الصف چیریٹی کی امدادی تقریب
لالچی اور خودغرض ٹور آپریٹرز ں نے اللہ کے مہمانوں سے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہے
احتجاج کرنیوالے وزیر اعظم ہائوس آ کر مذاکرات کریں، نواز شریف
کشمیریوں نے بھارت کو بتا دیا وہ جدو جہد آزادی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،علی گیلانی
شیراز خان کی برطانیہ واپسی پر چیئرمین سلطان باہو پیر نیازالحسن سروری قادری کی والدہ کی وفات پر تعزیت
کشمیری اس امر پر متفق ہیں کہ ووٹ انہی کو دیا جائے گا جوحق خود ارادیت کی حمائت کرتے ہیں:کونسلر محبوب بھٹی
برطانیہ میں مقیم کمیونٹی پاکستان سے بے پناہ محبت کرتی ہے، . لارڈ میئر بریڈفورڈکا چھچھ ایسوسی ایشن تقریب سے خطاب
حکومت پنجاب کا اوورسیز کمشنر آفس
پکچرگیلری
Advertisement
بلی تھیلے سے باہر . . . .
بہت دنوں سے بہت سے لوگ میڈیا کے بہت سے افراد کو اپنی نفرت کا نشانہ بنا رہے تھے۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ میڈیا شتر بے مہار ہو گیا، کچھ میڈیا کے لوگ آپس میں ہی دست گریبان ہو چکے تھے اور کچھ کا کہنا تھا کہ لگنے دیا جائے تماشہ وقت آنے پر فیصلہ کرینگے کہ کیا کرنا ہے جبکہ عدلیہ واحد شعبہ رہ گیا جو ناصرف میڈیا کے کام کی تعریف کر رہا ہے بلکہ اسکے ساتھ مل کر خرابی کے کیڑوں کو تلف کر رہا ہے۔ غور کریں تو یہ سب ریاست کے چاروں ستون ہین۔ سب سے پہلے والے لوگ سیاستدان ہیں جو میڈیا کے شتر بے مہار ہونے کا علی الاعلان کہہ رہے ہیں، جبکہ دوسرا گروہ خود صحافیوں کا ہے جو ذاتی مقاصد کیلئے ایکدوسرے سے لڑ کر اپنے تن کو ننگا کر رہا ہے جبکہ تماشہ دیکھنے والے گروہ کا تعلق انتظامیہ سے ہے جنہیں ویسے بھی ڈپلومیٹ کہا جاتا ہے۔ گویا یہ بات واضع ہے کہ ریاست پاکستان کے تین ستون صحافت کے پیشے کے مخالف اور صرف چوتھا ستون اسکے حق میں جا رہا ہے اتنے واضع عدم توازن میں کیسے ممکن تھا کہ ریاست کا اصل دشمن پیچھے رہ جاتا۔ خبر ہے کہ طالبان نے میڈیا کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ کالعدم پُرتشدد تنظیم پاکستان تحریک طالبان نے اپنی جنگ کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ملکی میڈیا کو اس تنازعہ میں ایک فریق سمجھ کر ہدف بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انکی طرف سے جاری کردہ 29 صفحات پر مشتمل فتویٰ میں میڈیا کو "اسلام کے خلاف جنگ" میں کافروں کا ساتھی قرار دیا گیا ہے۔ اس فتوے کے مطابق، میڈیا لوگوں کو مجاہدین کے خلاف اُکسانے کے علاوہ فحاشی اور سیکولر نظریات پھیلا رہا ہے۔ فتویٰ میں صحافیوں کی تین قسمیں بتائی گئی ہیں: مرجف، مقاتل اور صاحب الفساد۔ مرجف وہ ہیں جو اسلام اور کافروں کی جنگ میں مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈے میں ملو ث ہیں۔ مقاتل، کافروں اور ان کے اتحادیوں کو مسلمانوں کے خلاف کارروائی کے لیے اکساتے ہیں، جبکہ صاحب الفساد میں شامل صحافی اسلامی نظریات کے بجائے سیکولر نظریات کی ترویج یا اُس جیسے دوسرے طریقوں سے مسلمان معاشرے کو بدعنوان بناتے ہیں۔ یہ تفصیلات بھی 29 صفحات پر مشتمل اس فتوے میں بطور خاص شامل کی گئی ہیں تاکہ شک کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ فتوے کے مصنفین میں شامل ایک مصنف طالب شیخ خالد حقانی کا کہنا ہے کہ ہم لوگ کافی عرصے سے میڈیا کو اپنے بارے میں غلط باتیں پھیلانے سے روک رہے تھے۔ مگر میڈیا مسلسل اُن کے گروپ اور مقاصد کے خلاف جھوٹ بول رہا ہے۔ میڈیا نے بعض ایسے حملوں کی ذمہ داری ہم پر ڈالی جو ہم نے نہیں کیے، اسی طرح وہ ہمارے مقاصد کے حوالے سے بھی جھوٹ بولتا ہے۔ حقانی کا کہنا ہے کہ ہم انہیں اپنا عقیدہ تبدیل کرنے کو نہیں کہہ رہے، ہم بس ان سے کوریج میں اعتدال چاہتے ہیں۔ طالبان کی طرف سے جاری کردہ لسٹ میں میڈیا گروپ کے مالکان، ٹی وی چینلوں کے نیوز ایڈیٹرز، نامور اینکرز، ایک بڑے انگریزی اخبار کے ایڈیٹر اور کچھ فیلڈ سٹاف شامل ہیں۔ طالبان کا کہنا ہے کہ ہم ایسے صحافیوں کو جانتے ہیں جو مکمل طور پر پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ ہم ایسے صحافیوں سے بھی واقف ہیں جو پولیس اور دوسرے اداروں کے لیے جاسوسی کرتے ہیں۔ اس مرحلے پر بھی میڈیا اپنا راستہ سیدھا کرتے ہوئے غیر جانبدار بن سکتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو میڈیا کو خطرات لاحق ہوں گے۔ اپنی حفاظت کے لیے کچھ محافظ رکھ لینے یا رکاوٹیں کھڑی کر لینے سے کچھ نہیں ہو گا۔ ٹی ٹی پی کے مطابق تنظیم کے اندر کچھ لوگوں نے ابتدا میں سٹریٹیجک بنیادوں پر میڈیا کے خلاف کارروائی کی مخالفت کی تھی۔ مگر اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ میڈیا ہی دراصل وہ ادارہ ہے کو اس جنگ اور منفی عوامی رائے کو ہوا دے رہا ہے۔ واضع رہے 2005 میں اپنے قیام کے بعد سے اب تک یہ پہلا موقع ہے کہ ٹی ٹی پی نے ناصرف میڈیا کے خلاف فتویٰ جاری کیا ہے، بلکہ انہوں نے اپنے اہداف کی ایک فہرست بھی ترتیب دی ہے۔ گویا بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے۔