مقبول خبریں
مسرت چوہدری اور اختر چوہدری کا لارڈ مئیر عابد چوہان کے اعزاز میں ظہرانہ
مسئلہ کشمیر پربحث کیلئے ڈیبی ابراھم کیطرف سے برطانوی پارلیمنٹ میں تحریک پیش
پاکستانی نژاد پیشہ ورانہ ماہرین اور طلبہ جہاں بھی ہوں اقدار کی پاسداری کریں: نفیس زکریا
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
اسرار احمد راجہ کی کتاب کی تقریب رونمائی ،مئیر آف لوٹن کونسلر طاہر ملک ودیگرافراد کی شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
ہر انسان کو اس کے مذہب کے مطابق تدفین کی اجازت ملنی چاہئے: سعیدہ وارثی و دیگر
Corona virus
پکچرگیلری
Advertisement
راجہ نجابت کے مسئلہ کشمیر پر بحث کیلئے برطانوی ممبران پارلیمنٹ سے رابطے
لندن ( محمد فیاض بشیر) مسئلہ کشمیر کے حوالے سے برطانوی پارلیمنٹ میں بحث کیلئے جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹرنیشنل کے چیئرمین نجابت حسین نے برطانوی ارکان پارلیمنٹ کے نام ایک خط میں اپیل کی تھی کہ26مارچ کو پارلیمنٹ میں ہونے والی اس بحث کی حمایت کی جائے،خط کے جواب میں32سے زائد ممبران پارلیمنٹ نے تحریک کی حمایت کیلئے دستخط کرتے ہوئے26مارچ کی کشمیریوں کے حق خود ارادیت اور کشمیر میں انسانی حقوق پر بحث کا حصہ بننے کا اعلان کر دیا ہے،اس بحث کے ذریعے برطانوی حکومت اور عالمی برادری سے بھارتی فورسز کی طرف سے کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خاتمے کیلئے اقدامات کرنے پر زور دیا جائے گا،چیئرمین تحریک حق خود ارادیت انٹرنیشنل راجہ نجابت حسین نے اپنی ٹیم کے ہمراہ برطانیہ کی پارلیمنٹ میں موجود تمام ارکان سے بحث میں حصہ لینے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر بات کرنے کیلئے رابطہ کیا اور انہیں خطوط لکھے،پارلیمنٹ کے32ارکان نے برطانیہ کے ایوان میں کشمیر کے مسئلہ کے حوالہ سے پارلیمنٹری کشمیر گروپAPPGکی چیئرپرسن ڈیبی ابراہم کی طرف سے پیش کردہ اس تحریک کی حمایت کی ہے،جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹرنیشنل کے چیئرمین راجہ نجابت حسین نے400سے زائد ارکان پارلیمنٹ،کونسلرز،کمیونٹی رہنمائوں اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اس بحث کو کامیاب بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنے اور ممبران پارلیمنٹ کو مسئلہ کشمیر پر خطاب کیلئے اپنے نام دارالعلوم میں پیش کرنے کی درخواست کی تھی،واضح رہے کہ پارلیمنٹری گروپ کی چیئرپرسن ایم پی ڈیبی ابراہم نے مارچ کے پہلے ہفتے میں پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر پر بحث کیلئے تحریک/قرارداد پیش کی تھی اور ایم پی ڈیبی ابراہم کی تحریک کو ہائوس آف کامن میں باقاعدہ بحث کیلئے منظور کیا گیا اور26مارچ کو تاریخ مقرر کرتے ہوئے’’کشمیر میں انسانی حقوق‘‘ کے موضوع پر بحث کا اعلان کیا گیا تھا،ارکان پارلیمنٹ تین گھنٹے بحث میں حصہ لے سکیں گے،برطانیہ کے ہائوس آف کامن کے32سے زائد ممبران پارلیمنٹ نے اس تحریک کی حمایت کرتے ہوئے بحث کا حصہ بننے کا اعلان کر دیا ہے،دیگر ممبران پارلیمنٹ جن میں ایم پی طاہر علی،ایم پی ہیلری بین،ایم پی جیو ڈتھ کمنز،ایم پی جیمز ڈیلی،ایم پی فلپ ڈیوس،ایم پی مارک ایسٹ ووڈ،ایم پی کرس ایوان،ایم پی مارک ہنڈرک،ایم پی کیٹ گرین،ایم پی اپسنا بیگم،ایم پی پوم بلوم فیلڈ،ایم پی جان کریئر،ایم پی پول برسٹو،ایم پی الیکس کنگھم،ایم پی سارہ برٹکلف،ایم پی جونتھن گلیس،ایم پی ریچل ہوپکنز،ایم پی عمران حسین،ایم پی افضل خان،ایم پی کلائیو لیوس،ایم پی مار کولونگی،ایم پی شبانہ محمود،ایم پی جیم مکماہن،ایم پی جیس فلپس،ایم پی یاسمین قریشی،ایم پی ناز شاہ،ایم پی تان سنگھ،ایم پی زارا سلطانہ،ایم پی سٹیفن ٹیمز،ایم پی لیز ٹوسٹ،ایم پی محمد یاسین،ایم پی نادیہ وائٹوم سمیت دیگر ممبران پارلیمنٹ شامل ہیں جنہوں نے تحریک کی حمایت کرتے ہوئے کشمیر میں انسانی حقوق کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لانے کا مطالبہ کیا،دریں اثنا تحریک کے چیئرمین راجہ نجابت حسین نے مقبوضہ کشمیر میں مظلوم کشمیری بھائیوں اور بہنوں کیلئے آواز اٹھانے کیلئے تمام کشمیریوں کو متحد اور26مارچ تک اگلے10دنوں تک متحرک رہنے کیلئے کہا ہے،راجہ نجابت حسین نے دیگر ممبران پارلیمنٹ کو بھی اس بحث میں شامل ہونے اور قرار داد کی حمایت کرنے کیلئے رابطے شروع کر دیئے ہیں،راجہ نجابت حسین نے مزید کہا کہ یہ ایک اہم موقع ہے کہ دنیا کی بڑی پارلیمنٹ میں کشمیر بارے تین گھنٹے کی بحث ہونے جا رہی ہے،اس موقع پر جہاں برٹش کشمیریوں کی محنتوں اور کاوشوں کو سراہنے کی ضرورت ہے وہیں حکومت پاکستان اور کشمیر کے لئے متحرک افراد و تنظیموں کو موثر حکمت عملی اور اقدامات کے ذریعے آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کرنا ہو گا تاکہ اس بحث کے دنیا بھر میں اس کے اعلامیہ اور سفارشات کو پیش کیا جا سکے،ہم پہلے سے زیادہ متحرک ہو کر اپنی کاوشیں جاری رکھیں گے۔