مقبول خبریں
مسرت چوہدری اور اختر چوہدری کا لارڈ مئیر عابد چوہان کے اعزاز میں ظہرانہ
مسئلہ کشمیر پربحث کیلئے ڈیبی ابراھم کیطرف سے برطانوی پارلیمنٹ میں تحریک پیش
پاکستانی نژاد پیشہ ورانہ ماہرین اور طلبہ جہاں بھی ہوں اقدار کی پاسداری کریں: نفیس زکریا
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
اسرار احمد راجہ کی کتاب کی تقریب رونمائی ،مئیر آف لوٹن کونسلر طاہر ملک ودیگرافراد کی شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
ہر انسان کو اس کے مذہب کے مطابق تدفین کی اجازت ملنی چاہئے: سعیدہ وارثی و دیگر
Corona virus
پکچرگیلری
Advertisement
کاروباری کمیونٹی برطانیہ پاکستان کےتعلقات کا بھرپور فائدہ اٹھائے: ڈاکٹر کریسچن ٹرنر
مانچسٹر (محمد فیاض بشیر)پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کریسچن ٹرنر جو ان دنوں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تجارتی روابط کو بڑھانے اور مذید مضبوط کرنے کے لیے برطانیہ آئے ہیں مانچسٹر کے مقامی ہال میں نامور کاروباری سماجی سیاسی شخصیت وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی انیل مسرت کی جانب سے رکھے گئے عشائیہ میں شرکت کی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر کرسچن ٹرنر کا کہنا تھا کہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان تاریخی اور قریبی تعلقات ہیں ان کا مذید کہنا تھا کہ برطانیہ میں تقریباً ڈیڑھ ملین سے زائد پاکستانی و کشمیری نژاد برطانوی شہری ہیں کاروباری حضرات کو چاہیے کہ برطانیہ پاکستان کے درمیان گہرے روابط کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان بارے لوگوں کی رائے تبدیل کروائیں انہوں نے برطانوی حکومت کی پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان میں مختلف شعبہ جات میں برطانیہ کی پارٹنرشپ کو وسیع کریں ۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ میں کاروباری کمیونٹی سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ برطانیہ پاکستان کے مضبوط تعلقات کا بھرپور فائدہ اٹھائیں میرا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے حجم کو دوگناہ کرنا ہے اور پاکستان بارے لوگوں کی رائے کو تبدیل کرنا ہے کہ پاکستان تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے برطانیہ کی برآمدات بارے ان کا کہنا تھا کہ اس کی گنجائش ایک بلین ہے جس میں سے اب تک صرف تین ملین سے فائدہ اٹھایا جا سکا ہے ان کا کہنا تھا کہ برطانوی ہائی کمیشن کی تجارتی ٹیم کی تعداد کو بھی دوگناہ کیا جائے گا ۔ ان کا کہنا تھا کہ بریگزٹ کے بعد برطانیہ کے پاس پاکستان اور دیگر ممالک سے تجارتی روابط بڑھانے کا سنہری موقع ہے اور پاکستان پہلے ہی معیشت میں تیزی سے بہتری کی جانب گامزن ہے ان کا کہنا تھا کہ برطانوی انٹرنیشنل ٹریڈ ڈیپارٹمنٹ پاکستان کے ساتھ نئے تعلقات کا خواہاں ہے اور بات کو یقینی بنانا ہے اس سے دونوں ممالک کی معیشت میں اضافہ ہو ۔ ڈاکٹر ٹرنر نے امیگریشن پالیسی بارے ان کا کہنا تھا کہ ہر سال ایک لاکھ سے زائد پاکستانی کمیونٹی کو ویزہ جاری کیا جاتا ہے جو افراد بھی امیگریشن پالیسی کی شرائط پر پورا اترتے ہیں انہیں ویزہ جاری کر دیا جاتا ہے اگر پھر بھی کسی کا ویزہ جاری نہیں ہوتا تو اپیل کرنے کا حق رکھتے ہیں پاکستان میں سیاحت کے میدان میں سنہری مواقع موجود ہیں اور اگر وہاں سیرو تفریح کے لیے جانا چاہتے ہیں تو بلا خوف جائیں محفوظ ترین ملک ہے ۔ کشمیر بارے کیے گئے سوال بارے ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت سے پاکستان بھارت کشیدہ تعلقات بارے انتہائی تشویش ہے برطانیہ ثالثی کے لیے تیار ہے لیکن ایک فریق اسے دوطرفہ مسئلہ قرار دے رہا ہے اور کسی کی مداخلت نہیں چاہتا ایسے میں برطانوی حکومت کلیدی کردار ادا کرنے سے قاصر تاہم پھر بھی ہم فریقین کو کشیدگی کم کر کے اس مسئلہ کو مذاکرات سے حل کرنے پر زور دیتے رہیں گے اگر صورتحال اسی طرح کشیدہ رہی تو اس سے خطے کے امن کو خطرہ ہے۔تقریب کی نظامت عابد چوہدری نے کی جبکہ تلاوت قرآن پاک کا شرف بھی انہیں نصیب ہوا ۔ میزبان انیل مسرت اور نبیل مسرت نے برطانیہ اور پاکستان کے تعلقات کو مثالی قرار دیا اور دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں تجارت کو مذید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ۔ عشائیہ کے موقع پر وزیراعظم عمران خان کے اوورسیز معاون خصوصی برائے تجارت و سرمایہ کاری صاحبزادہ جہانگیر ممبران برطانوی پارلیمنٹ افضل خان، یاسمین قریشی، انجیلا رائنر، کاروباری شخصیت افتخار مجید، مانچسٹر میٹرو پولیٹن یونیورسٹی کے وائس چانسلر مالکم پریس نے بھی خطاب کیا۔ عشائیہ میں کاروباری سیاسی سماجی اور کمیونٹی کی سرکردہ شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔