مقبول خبریں
مسرت چوہدری اور اختر چوہدری کا لارڈ مئیر عابد چوہان کے اعزاز میں ظہرانہ
پاکستان پریس کلب یوکے کے سالانہ انتخابات اور تقریب حلف برداری
چیئرمین پی آئی ایچ آرچوہدری عبدالعزیز کوسوک ایوارڈ فار کمیونٹی سروسز سے نواز گیا
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
اسرار احمد راجہ کی کتاب کی تقریب رونمائی ،مئیر آف لوٹن کونسلر طاہر ملک ودیگرافراد کی شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
ہر انسان کو اس کے مذہب کے مطابق تدفین کی اجازت ملنی چاہئے: سعیدہ وارثی و دیگر
Corona virus
پکچرگیلری
Advertisement
آتش فشاں
’’ مقبوضہ کشمیر کے سب سے بڑے شہر سری نگر میں سناٹے کی حکمرانی ہے۔ہاتھوں میں بندوقیں، چہرے پر سیاہ رومال، جدھر دیکھو مورچہ زن قابض بھارتی فوجی،لوگ سہمے ہوئے انداز میں گھروں کی کھڑکیوں سے اپنی زمین پر قابض دندناتے بھارتی فوجیوں کو چھپ چھپ کے دیکھتے رہتے ہیں۔ انہوں نے اپنی ضرورتوں کو محدود کر لیا ہے کیونکہ کئی مہینوں سے جاری کرفیو کے باعث، بازار خالی ہوچکے ہیں، خوراک اور ادویات عنقیٰ ہیں۔ ہسپتال بند ہیں، اور تعلیمی اداروں کا تو تذکرہ ہی کیا۔کشمیر میں کشمیریوں کا گلا گھونٹا جارہا ہے‘، یہ الفاظ نیویارک ٹائمز میںکچھ ماہ قبل شائع ہونے والی اس رپورٹ کا حصہ ہیں جس نے ہزار پابندیوں کے باوجود دنیا کو مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و ستم کی سچی تصویر دکھا کر دہلادیا۔ آزادی کیا ہوتی ہے، کرفیو کس دہشت کا نام ہے، گھروں میں چھوٹے بچے جب دودھ کے لیے بلک رہے ہوں تو ماں باپ پر کیا گذرتی ہے، جب بیٹیوں کی عزتیں اور بیٹوں کی زندگیاں ہر لمحے غیر محفوظ ہوں تو دن رات کیسے بیتتے ہیں، یہ سب جاننا ہے تو مقبوضہ کشمیر کے باسیوں سے جانیے۔زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے، جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں۔ چند ماہ قبلبی بی سی کی نمائیندہ خصوصی گیتا پانڈے نے مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا تو وہاں لوگوں میں خوف اور سراسیمگی دیکھ کر ان کی آنکھیں امڈ آئیں۔ گیتا نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ سری نگر کے مرکزی علاقے تک پہنچنے کے لیے اسے بے شمار چیک پوسٹوں سے گذرنا پڑا۔ ایک گھر کی کھڑکی سے ایک بوڑھے کشمیری نے اسے دیکھا تو باہر نکل آیا۔ قریب کھڑے بھارتی فوجیوں میں سے ایک نے چلّا کر کہا، پاگل بوڑھے کرفیو لگا ہوا ہے، گھر میں جائو۔ لیکن وہ بوڑھا آدمی ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹا۔’ تم مجھے گولی مارنے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتے ہو ۔مار دو مجھے بھی،‘ بوڑھے آدمی کے لہجے میں خوفناک بغاوت نہایت نمایاں تھی۔ گیتا نے لکھا کہ اسے وہاں دیکھ کر اور لوگ بھی جمع ہونے لگے تو بھارتی فوجیوں نے اسے واپس اپنی گاڑی میں چلے جانے کا حکم دیا مگر اسی دوران ایک نوجوان اپنی گود میں اپنے دو سالہ بچے کو اٹھائے گیتا کے پاس آیا اور کہنے لگا، اگر یہ سب یونہی چلتا رہا تو میں اپنے اس معصوم بیٹے کے ہاتھ میں بھی بندوق پکڑا دوں گا۔ ہم بھارت سے اس ظلم کا بدلہ لیں گے۔اپنی رپورٹ کے آخر میں گیتا پانڈے نے لکھا، میں گزشتہ بیس برس میں رپورٹنگ کی غرض سے بارہا مقبوضہ کشمیر آچکی ہوں، میں نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی سرحد پار سے ہونے والی اس دخل اندازی کی تحقیق کرنے کی کوشش کی جس کا بھارتی حکومت دنیا بھر میں شور مچاتی ہے لیکن مجھے اس دخل اندازی کی بجائے لوگوں کی آنکھوں اور لہجوں میں بھارتی حکومت کے خلاف وہ نفرت، حقارت اور اشتعال دکھائی دیا جو اس سے پہلے مجھے اس شدت کے ساتھ کبھی نظر نہیں آیا۔کشمیر میں یقینا ظلم ہورہا ہے۔ کشمیر لنک لندن ،کشمیر میڈیا سروس، کشمیر واچ اور اسی قسم کے بہت سے اشاعتی و نشریاتی ادار ے برس ہا برس سے کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے اعدادو شمار جمع کرکے دنیا تک پہنچانے کی کوشش میں مصروف ہیں لیکن صاحبان اختیار ان اعدادوشمار پر غور کرنا تو درکنار، انہیں سننا بھی گوارا نہیں کرتے۔ کشمیر میڈیا سروس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، صرف جنوری 2020میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں مارے جانے والے کشمیریوں کی تعداد 21سے زیادہ ہے۔ کم از کم 3عورتوں کی عزت بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں پامال ہوئی اور 104کے لگ بھگ بے گناہوں کو آزادی کی جنگ لڑنے کا مرتکب قرار دے کر عقوبت خانوں میں دھکیل دیا گیا۔ کشمیر میڈیا سروس نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا کہ جنوری 1989سے 31جنوری 2020 تک 95496بے گناہ کشمیریوں کو بھارتی فوجیوں نے زندگی سے محروم کردیا، تقریباً 11500کشمیری خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ڈیڑھ لاکھ سے زائد کشمیریوں کو جیلوں میں ٹھونس دیا گیا۔لیکن اس سب کے باوجود مسٹر مودی دنیا بھر میں جھوٹ بولتے پھر رہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں سب کچھ بہت پرسکون ہے اور وہاں کے باسی مودی سرکار کی طرف سے کشمیر میں کی جانے والی نام نہاد آئینی تبدیلیوں پر شادیانے بجا رہے ہیں۔سچ پوچھیں تو مقبوضہ کشمیر اندر ہی اندر ابلتا ہوا ایک آتش فشاں ہے جو کسی بھی وقت ایسا پھٹے گا کہ بہت دور دور تک بہت کچھ جلا کر خاک کر دے گا۔