مقبول خبریں
چیئرمین کشمیر کمیٹی سید فخر امام سے راجہ نجابت اورحریت رہنماء عبدالحمیدلون کی ملاقات
کرالے میں اوورسیزپاکستانیوں کی میٹنگ،مختلف طبقہ ہائے فکر کے افراد کی شرکت
دعوت اسلامی برمنگھم کے زیر اہتمام خراب موسم کے باوجودجشن عید میلاد النبیؐ کا جلوس
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سردار عتیق کی قیادت میں جدوجہد آزادی پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے:رہنما ایم سی
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
مقبوضہ کشمیرمظالم:عالمی طاقتوں، اقوام متحدہ کو کردار ادا کرنا ہو گا : ڈاکٹر سجاد کریم
بلقیس بانو زندہ کیوں؟؟؟؟؟
پکچرگیلری
Advertisement
یہ رنگ جو مہکے تو ہوا پھول بنے گی!!!!!!!!
لال رنگ ہمارے معاشرے میں خوشی اور مسرت کی علامت سمجھا جاتا ہے، شادی میں دلہن کا لباس ہو یا پھر مہمانوں کے لیے بچھائے گئے قالین، یا پھر آنے والوں پر گلاب کی پتیوں کی بارش،لال رنگ کو ہمیشہ فوقیت دی جاتی ہے۔مگر بہت سے مقامات ایسے بھی ہیں جہاں یہ لال رنگ خطرے کی علامت کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے، ایمبولینس سے لے کر ٹریفک کے سٹاپ سگنلز تک اور گاڑیوں کی بیک لائیٹس سے لے کر موبائل فون کے بلندوبالا ٹاورز تک، لال رنگ خبردار ی کا اعلان ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لال رنگ کی دوسرے رنگوں کے مقابلے میں wave lengthسب سے زیادہ ہوتی ہے اسی لیے یہ رنگ زیادہ دور تک دکھائی دیتا ہے۔لیکن دلچسپ بات یہ کہ مغربی معاشرے میں اس رنگ کو کوئی زیادہ سنجیدہ رنگوں میں شمار نہیں کیا جاتا، وہاں دلہنیں بھی عام طور پر سفید لباس عروسی زیب تن کرتی ہیں۔ کچھ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ لال رنگ مزاج میں موجود انتہا پسندی ، تشدد،بے صبری اور اضطراب کو ظاہر کرتا ہے۔ کچھ معاشروں میں لال رنگ کو آگ اور خون کے رنگ سے مماثلت کی بنا پر خوف کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔لیکن اس سب کے باوجود، ایک اندازے کے مطابق، دنیا بھر میں 77فی صد کے قریب ممالک ایسے ہیں جن کے قومی پرچموں میں یہ رنگ ضرور استعمال کیا جاتا ہے۔ہندو معاشرے میں مہندی اور سیندور کا سرخ رنگ کسی بھی عورت کے شادی شدہ ہونے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔جنوبی افریقا میں سرخ رنگ رنج و الم کو ظاہر کرتا ہے، ان کے جھنڈے میں موجود سرخ رنگ ان کی جنگ آزادی کے دوران مقامی لوگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی عکاسی کرتا ہے۔انگریزی زبان میں کئی ایسے محاورے کثرت سے استعمال ہوتے ہیں جن میں سرخ رنگ حوالے کے طور پر استعمال ہوتا ہے جیسے Red Rag To The Bull،،،، A Red Letter Dayاور. Red Tapeلال رنگ کے حوالے سے مجھے یہ تمام باتیں اس وقت یاد آئیں جب ایک سبزی والے نے ایک ہاتھ میں ایرانی ٹماٹر اور دوسرے میں پاکستانی ٹماٹر تھام کر مجھے سمجھانے کی کوشش کی کہ لال رنگ میں جو سرخی پاکستانی ٹماٹر میں دکھائی دے رہی ہے وہ ایران سے درآمدہ ٹماٹر میں بالکل بھی نہیں۔ سبزی کی دکان میں اگر پاکستانی گاجریں اور پاکستانی ٹماٹر سامنے سامنے سجادیے جائیں تو ساری کی ساری دکان لال لال ہو جاتی ہے لیکن بھارت سے درآمد کیے جانے والے ٹماٹروں کی تو بات ہی نرالی ہوتی ہے۔دنیا بھر کے ٹماٹروں سے کہیں زیادہ لال ہوتے ہیں۔ ہمارے خیال میں رنگ کی اہمیت بعد میں آتی ہے، بنیادی چیز ذائقہ ہوتا ہے۔ ذائقہ اچھا نہ ہو تو لال ہو یا پیلا سب بے سود ہوتا ہے۔ سودوزیاں کے حساب کتاب بنا زندگی کا سفر بے معنی سا ہوجاتا ہے۔ کیا کھویا کیا پایا، اختتام سفر پر سوچنا ضرور پڑتا ہے۔غورو فکر کے بغیر منظر بعض دفعہ ایسے دھندلاتے ہیں کہ کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا۔15مارچ 2019کو نیوزی لینڈ کے علاقے کرایسٹ چرچ میں واقع دو مساجد میں ایک سفید فام انتہا پسند کی فائیرنگ سے پچاس کے لگ بھگ مسلمان شہید ہوگئے اور اتنی ہی تعداد میں شدید زخمی بھی۔ وہ ظالم لائیو سٹریمنگ کے ذریعے مرنے والوں کی موت اور زخمیوں کے تڑپنے کا منظر فیس بک اور سوشل میڈیا کے دیگر ذرائع پر براہ راست ٹیلی کاسٹ بھی کرتا رہا۔تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اپنی اس ظالمانہ کاروائی سے پہلے اس نے اپنے خیر خواہوں میں 73صفحات پر مشتمل ایک کتابچہ بھی تقسیم کیا جس میں اس نے مسلمانوں کی دشمنی پر مبنی ایک کتاب The Turner Diaries کا حوالہ دیتے ہوئے اسے اپنا راہبرو راہنما قرار دیا اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ ’ صدر ٹرمپ وہ مثالی شخصیت ہیں کہ جنہوں نے سفید فام لوگوں کو ایک بار نئے سرے سے شناخت عطا کی ہے‘۔با الفاظ دگر اس قاتل کے آئیڈیل اس کے کہنے کے مطابق، صدر ٹرمپ ہیں۔یہ سارا تذکرہ حال ہی میں منظر عام پر آنے والے ایک تحقیقاتی تھیسس میں بیان کی گئی ہیں جس کا عنوان Flanning The Flames ہے اور اسے Crescendoنامی ادارے کے پلیٹ فارم سے شائع کیا گیا ہے۔ تھیسس میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی کثرت سے ٹوئیٹر استعمال کرنے کے عادت نے مسلمانوں کے خلاف اشتعال کو بڑی حد تک ہوا دی ہے۔ تاہم ریسرچ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ’ مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے معاملے میں صدر ٹرمپ اکیلے نہیں ، وہ تو اس سارے سسٹم کا ایک معمولی سا پرزہ ہیں۔ بہت سے میڈیا گروپس، تھنک ٹینک، کاروباری ادارے اور بہت سے اہم عہدوں پر فائز لوگ اس سارے کھیل میں دانستہ طور پر شریک ہیں۔‘اس ریسرچ تھیسس کے آخر میں نتیجہ نکالتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکا میں سفید فام قوم پرستی کا بڑھتاہوا رجحان اور مسلمانوں کے لیے عدم برداشت کا رویہ دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس تھیسس میں تقریبا تمام سوشل میڈیا ٹولز بشمول فیس بک، ٹوئیٹر، واٹس ایپ وغیرہ کو مسلمان دشمن قوتوں کا آلہ کار قرار دیا گیاہے۔ مذکورہ تھیسس میں جس صورت حال پر روشنی ڈالی گئی ہے وہ کوئی نئی اور انوکھی صورت حال نہیں۔ سوشل میڈیا کو جس طرح مسلمانوں کے خلاف عدم برداشت کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے، اس سے ہم سب ہی آشنا ہیں لیکن اس آشنائی اور شناسائی کے باوجود بھی ہم معاملات کی سنجیدگی کو محسوس کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ یہ سب اس ففتھ جنریشن وار کا حصہ ہے جو ایک عرصے سے ایک غیر محسوس انداز میں ہم پر مسلط کی جارہی ہے۔افغانستان، ایران ، عراق اور دیگر اسلامی ممالک کو مغربی ملکوں نے کبھی بم بارود کے ذریعے تو کبھی اقتصادی بلیک میلنگ کی مدد سے زیر کرنے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ہوسکی۔ اب نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ صدر ٹرمپ افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنے کے لیے کسی محفوظ راستے کی تلاش میں ہیں۔مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لیے جنگ و جدل کا راستہ بری طرح ناکام ہوجانے کے بعد اب مغرب کی ساری توجہ ففتھ جنریشن وار کی طرف ہے۔سوشل میڈیا کے ذریعے مسلمان نوجوانوں کو ایسے حقوق کا احساس دلایا جارہا ہے جن کی اسلام کے بنیادی عقائد میں سختی سے تردید کی گئی ہے۔ یعنی یہ کہ مسلمان لڑکے اور لڑکیوں کو وہ راستہ دکھایا جارہا ہے جس پر چلنے کے بعد انہیں بہت جلد احساس ہوجائے گا کہ ’یہ راستہ کوئی اور ہے‘ لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی ہوگی۔ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ علماء کرام، والدین اور بالخصوص سکول، کالج اور یونیورسٹی کے اساتذہ کرام ایک نہایت متحرک اور موئثر کردار ادا کریں۔ اپنے بچوں کو دوسروں کے ہاتھ میں کٹھ پتلی نہ بننے دیں۔ہمارے نوجوان ہمارا مستقبل بھی ہیں اور ہمارا آج بھی۔ اپنے آج کو سنبھالیں، آپ کا کل خود بخود سنور جائے گا۔آسان لفظوں میں پیغام یہی کہ بھارتی , ایرانی اور افغانی ٹماٹروں کی سرخی سے مرعوب ہونے کی بجائے اپنے ملک میں ٹماٹروں کی فصل پر توجہ دیں، محنت کریں۔